پاک بھارت تعلقات میں امریکی دہرا معیار

پاکستان سے ’’ڈومور‘‘کاتقاضااوربھارت کو انسانی حقوق کی پامالی کی کھلی چھوٹ دیناامریکاکی دہری خارجہ پالیسی کاکھلاثبوت ہے

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیے جانے والے آپریشنز سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک توڑ دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا نے پاکستان سے ایٹمی صلاحیت محدود کرنے اور نیوکلیئر اسلحہ کا ذخیرہ کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ کے مابین اسٹرٹیجک مذاکرات کا چھٹا دور ہوا جس میں 6 مختلف موضوعات پر پیش رفت زیر غور آئی۔ ایٹمی صلاحیت محدود کرنے کا معاملہ بھی باہمی وزارتی مذاکرات کے ایجنڈے پر تھا۔

اجلاس سے قبل افتتاحی بیان میں سیکریٹری خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے ایٹمی اسلحے میں کمی پر غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ایٹمی تحفظ دونوں ممالک کے لیے واضح خدشہ ہے اور دونوں ممالک آیندہ برسوں میں ایٹمی اسلحے کی حامل ذمے دار ریاست کی حیثیت سے ذمے داریوں پر بات چیت کرنا جاری رکھیں گے۔ امریکا کا رویہ پاکستان و بھارت کے ساتھ تعلقات میں دہرا معیار رکھتا ہے جس پر کئی بار صدائے احتجاج بھی بلند کی گئی لیکن امریکا ہنوز اپنی روش پر قائم ہے۔

کہاں ایک جانب امریکا پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے، کبھی ایٹمی ہتھیاروں کے غیر محفوظ ہونے کا بہانہ تو کبھی نیوکلیئر ذخائر کی کمی کا مطالبہ کرتا رہا ہے لیکن دوسری جانب بھارت کے ایٹمی پروگرام کی نہ صرف پذیرائی کی جاتی ہے بلکہ جوہری معاہدوں کے ساتھ جدید ہتھیاروں سے بھی نوازا جاتا ہے۔ پاکستان سے مستقل ''ڈو مور'' کا تقاضا اور بھارت کو انسانی حقوق کی پامالی کی کھلی چھوٹ دینا امریکا کی دہری خارجہ پالیسی کا کھلا ثبوت ہے۔

بلاشبہ جان کیری نے اپنے نکتے کی وضاحت میں امریکا کے پاس موجود 50 ہزار ایٹمی ہتھیاروں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ایٹمی ہتھیار ہر وقت دوسروں علاقوں اور ممالک کی جانب رخ کیے ہوئے تھے اور سوویت یونین نے بھی اسی طرح کا جواب دے رکھا تھا لیکن پھر صدر گورباچوف اور صدر ریگن نے ملاقات کر کے اس لاحاصل اقدام کا تصفیہ کیا اور تدارک کے طور پر الٹی سمت میں چلنا شروع کردیا۔

انھوں نے کہا کہ ہم ایک معاہدے پر عمل کرتے رہے ہیں جس کے تحت ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد گھٹا کر 1500 یا اس کے قریب تک لانا مقصود تھا، ہم اس سے بھی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، میرا خیال ہے کہ پاکستان کے لیے اہم ہے کہ وہ اس حقیقت کو عمل میں لائے اور اسے اپنی پالیسی کا چہرہ مہرہ اور مرکز بنائے۔ سیکریٹری اسٹیٹ نے کہا کہ یہ معاملہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ اٹھایا جائے گا جب وہ رواں ماہ کے آخر میں نیوکلیئر سیکیورٹی سمٹ میں شرکت کے لیے آئیں گے۔


امریکی وزیر خارجہ اپنی ان باتوں کے درمیان یہ بھلا بیٹھے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار اس کی سلامتی و بقا کے لیے ناگزیر اور شرپسند عناصر کو دباؤ میں رکھنے کے لیے ڈھال کا کردار ادا کررہے ہیں۔ پاکستان کو دہشتگردی کے عالمی عفریت نے فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا ہے، اسے داخلی و خارجی محاذ پر بے پناہ مصائب کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے اسے عالمی قوتوں کی موثر مدد و استعانت درکار ہے۔

پاکستان امن کا حامی اور جنگوں کی سیاست سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے لیکن شرپسند پڑوسی ملک کی جنگ پسندی اور مخاصمت کے باعث ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کو لازم سمجھتا ہے۔ پاکستان کی ایک پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی تاریخ ہے، اور اس معاملے کو مغرب یا مشرق سے لیے گئے مستعار چشموں سے دیکھنے کے بجائے پاکستان کو اس کی اپنی تزویراتی اسپیس کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا اس بات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ ایٹمی اسلحہ اس کی ڈھال کے لیے ہے اور اپنے ایٹمی پروگرام پر یک طرفہ طور پر کوئی ایسی پابندی قبول نہیں کی جائے گی جو بھارت پر بھی عائد نہ ہو۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا بالکل صائب ہے کہ امریکا پاکستان اور بھارت کے لیے دفاعی پالیسی میں توازن رکھے، یورپ بھی ہمارے ایٹمی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے حفاظتی اقدامات کا معترف ہے۔ انھوں نے ایک نیا آٹھ نکاتی ایجنڈا پیش کیا جس میں اسٹرٹیجک مذاکرات کو شامل کرتے ہوئے نیوکلیئر دھارے میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ اور اسٹرٹیجک استحکام کے عمل میں ہماری شرکت جاری رہے گی اور پاکستان چاہتا ہے کہ امریکا پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو بہتر طور پر سمجھے اور پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ فعال طور پر ایٹمی طاقتوں کے مرکزی دھارے میں اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام اور دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے مستقل سرگرم عمل ہے۔

طالبان کے لیے پاکستانی حمایت کا تاثر ختم کردیا ہے، پرامن افغانستان خود پاکستان کے مفاد میں ہے اس لیے اقوام متحدہ اور پاکستان افغان امن عمل کے لیے مل کر کام کررہے ہیں۔ دہشت گردانہ حملے بہت حد تک کم ہوگئے، انٹیلی جنس بنیادوں پر تمام شہروں میں کارروائیاں جاری ہیں، آپریشن کے ذریعے 90 سے 95فیصد علاقے شرپسندوں سے کلیئر کرا لیے ہیں۔ پاکستان کی اس قدر فعالیت اور مخلصانہ قیام امن کی کوششوں کے باوجود امریکا کا ایٹمی صلاحیت کی محدودیت اور ہتھیاروں کا ذخیرہ کم کرنے کا مطالبہ قابل تحسین قرار نہیں دیا جاسکتا۔ صائب ہوگا کہ امریکا پاکستان و بھارت کے لیے دفاعی پالیسی میں توازن قائم رکھے۔1
Load Next Story