عوامی حقوق کے لیے قربانیاں
جناب امیر حیدر خان ہوتی جو کبھی ہمارے وزیراعلیٰ ہوتے تھے تو ہوتا یوں تھا کہ ہوتے
barq@email.com
ISLAMABAD:
جناب امیر حیدر خان ہوتی جو کبھی ہمارے وزیراعلیٰ ہوتے تھے تو ہوتا یوں تھا کہ ہوتے تو وہ سب سے کم عمر وزیراعلیٰ تھے لیکن ان کے عہدے میں کام بڑے ہوتے تھے، وہ آج کل اے این پی کے صوبائی صدر ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیانات بڑے اہم ہوتے ہیں اور تقریباً تمام بیانات میں کوئی بات ہوتی ہے یا کوئی نکتہ ہوتا ہے یا معنی ہوتے ہیں، چنانچہ ان کا تازہ ترین بیان بھی کچھ زیادہ ''ہوتا'' دکھائی دیتا ہے، فرماتے ہیں کہ عوامی حقوق کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
بیان کی مزید تفصیلات وہی ہیں جو ہوتی ہیں یعنی ہوگا، ہوگا، ہوگا، جن لوگوں نے انڈین فلم سنگم دیکھی ہے ان کو وہ منظر یقیناً یاد ہو گا جب راج کپور وجنتی مالا کے کپڑے اس وقت اپنے قبضے میں کر لیتا ہے جب وہ نہا رہی ہوتی ہے، یاد رہے کہ انڈین فلموں میں کچھ اور ہو نہ ہو لیکن ہیروئن کو نہلانے کا کام نہایت ہی خلوص اور دل جمعی سے کیا جاتا ہے، حالانکہ انھی فلموں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا، لیکن فلموں کے ڈائریکٹر تو زور آور لوگ ہوتے ہیں کسی بھی صورت میں کچھ بھی کر سکتے ہیں، راج کپور وجنتی مالا سے گا کر کہتا ہے کہ
میرے من کی گنگا اور تیرے من کی جمنا کا
بول رادھا بول سنگم ہو گا کہ نہیں
اس پر وجنتی مالا پانی میں تیرتے ہوئے جواب دیتی ہے کہ نہیں نہیں نہیں ... ہونہہ ... لیکن آہستہ آہستہ راج کپور اسے ڈب پر لے ہی آتا ہے اور وہ کہتی ہے کہ ہو گا ہو گا ہو گا ... اگر آپ یہ سمجھ رہے ہو کہ ہم نے محض اپنے کالم میں مصالحہ ڈالنے کے لیے یہ فلمی مصالحہ بیان کیا ہے تو آپ غلطی پر ہیں اور غلطی کا سب کچھ غلط، کیوں کہ آپ عوام ہیں اور عوام ہمیشہ غلط ہوتے ہیں، خاص طور پر ووٹ ڈالنے، نعرے لگانے اور لیڈر چننے میں تو غلطی کے بغیر ان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا چنانچہ یہاں بھی ہمارا مقصد وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ وہ ہے جو آپ نہیں سمجھ رہے ہیں، یہ ہو گا ہو گا ہو گا بھی ہوتا ہوتے ہوتی کے قبیلے کا لفظ ہے جہاں اس خاندان اور قبیلے کا کوئی بھی لفظ یعنی رکن آجاتا ہے وہاں پر ہمیں پیر و مرشد یاد آجاتے ہیں کہ
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہو گا تو خدا ہو گا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا تو کیا ہوتا
اسی تناظر میں اگر ہم بیانات کے بارے میں سوچیں تو ذہن میں فوراً یہ سوال آتا ہے کہ اگر یہ بیانات نہ ہوتے تو کیا ہوتا ہم تو مارے مایوسی کے سر پھٹک پھٹک کر جان دے دیتے لیکن یہ بیانات ہی ہیں جو ہمیں اگرچہ شرمندہ سہی پھر بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں کیوں کہ
آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے
آج ہماری عمر بڑھا دی
ہمارے منہ میں خاک جو ہم نے جناب ہوتی کی طرف روئے سخن رکھا ہو، جھوٹا تو ہم ان کو کہہ رہے ہیں جو جھوٹے ہوتے ہیں آپ تو ماشاء اللہ جھوٹ کبھی نہیں بولتے، جب بھی بولتے سچ بولتے اور سچ کے سوا اور کچھ نہیں بولتے، بغیر کسی گیتا سیتا پر ہاتھ رکھے کیونکہ ہم ان کے فین ہیں صرف ان کے ہی نہیں بلکہ ان کے تقریباً نمبر دو کے بھی دو نمبر فین ہیں جو ان کے دور حکومت میں دو نمبر ہوتے تھے ان دونوں کے ہم پر بڑے احسانات ہیں اتنے زیادہ کہ ہم اپنی آل اولاد کو بھی تحریری طور پر بتا چکے ہیں کہ اگر کبھی ہماری موت واقع ہوئی تو انھی دو لوگوں کے احسانوں تلے دب کر ہی واقع ہوگی، ارے ہاں وہ عوامی حقوق کے لیے قربانیوں کی بات تو ہم بھول گئے، حالانکہ عوام کے لیے اور ان کے حقوق کے لیے قربانیاں دینا ہر لیڈر کی اولین ترجیح ہوتی ہے لیکن وہ لوگ محض بیان برائے بیان بلکہ قربانی برائے قربانی دیتے ہیں جب کہ جناب امیر حیدر خان ہوتی کو ہم نے قربانیاں دیتے ہوئے بچشم خود بلکہ بچشمہ خود دیکھا ہے، ان کی سربراہی میں قربانیوں کا جو عظیم الشان سلسلہ گذشتہ کچھ عرصے سے چل رہا ہے اس کے مدنظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں کر بھی دکھاتے ہیں، قربانی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی کہ تقریباً نصف صدی سے خدائی خدمت گار تحریک کو اپنے چند سالہ دور میں ایسا قربان کر دیا ایسا قربان کر دیا کہ اس کی راکھ بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے وہ ایک پشتو ٹپہ ہے کہ
مینے لمبہ بیلتون ایرے کرم
خوخہ د باد دہ چہ پہ کوم طرف مے وڑینہ
یعنی محبت نے مجھے جلایا، جدائی نے راکھ کیا اب مرضی ہوا کی ہے کہ مجھے کس طرف اڑا کر لے جاتی ہے، احمد خان پشتو کے ایک سنگر تھے ان کا ایک گیت بڑا مشہور ہوا تھا کہ
د ایرو سلے مے وران نہ کڑے روتیرشہ
بادہ زہ ھم د آشنا د عشق یادگار یم
یعنی میری راکھ کے ڈھیر کو بکھیر مت دینا، اے ہوا کیوں کہ میں کسی کی محبت کی یادگار ہوں، لیکن ''ہوا''نے بات نہیں مانی اور راکھ کے اس ڈھیر کو منتشر کر کے گرد و غبار میں بدل دیا جو ''کسی''کی محبت کی ایک یادگار ہوا کرتی تھی، اس سے بڑی قربانی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اتنی بڑی قربانی دینے کے بعد یہ عوام کی زیادتی ہو گی کہ جناب امیر حیدر خان ہوتی اور ان کے موجودہ سیٹ اپ سے مزید قربانیوں کی توقع رکھے اور اگر رکھے بھی تو اب باقی کیا بچا ہے، قربانی کرنے کے لیے ایک صدی میں جمع ہونے والے ''اندوختے'' میں تو اب ککھ بھی باقی نہیں بچا ہے بقول پریم چوپڑہ ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
لیکن پھر بھی اگر ان کو اصرار ہے بلکہ ضد ہے کہ وہ عوام کے لیے قربانی دے کر رہیں گے اور بغیر قانونی دینے کے کسی طور نہیں مانیں گے تو چلیے دیتے رہیں... ہمیں کیا؟ ایک تو ان عوام اور ان کے ''حقوق'' کی کوئی کل سیدھی نہیں پتہ نہیں کم بخت کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ بغیر قربانی کے خدا ماروں کا گزارا ہی نہیں ہوتا، گذشتہ ستر سال میں کتنے آئے اور کیسی کیسی کتنی کتنی قربانیاں دے گئے لیکن یہ کم بخت ہیں کہ ان کا جی ابھی بھرا نہیں ہے۔
ایوب خان سے لے کر بھٹو تک اور ضیاء الحق سے لے کر جنرل مشرف تک اور مسلم لیگ سے لے کر پی ٹی آئی بلکہ ایم کیو ایم اور کیو ڈبلیو پی تک قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے اور کس لیے عوامی حقوق کے لیے حالانکہ جہاں تک ہماری معلومات ہیں ... حقوق... ''حقے''کی جمع ہے اور حقے کا تو آج کل رواج ہی نہیں رہا ہے اور جب ''حقے'' ہی نہیں تو انھیں جمع کر کے حقوق کیا اور عوامی کیا ۔ یعنی آدم نہیں ہے لیکن اس کی ''بو'' ہے، چونکہ سارے لیڈر ہمارے شبھ چنتک ہیں اس لیے جواباً ہم بھی ان کے شبھ چنتک بن کر مشورہ دیں گے کہ تم جن کے لیے قربانی بلکہ قربانیوں پر کمر باندھے ہوئے ہو وہ عوامی حقوق تو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے کیونکہ آج کل عوام ''حقوں'' کی جگہ سگریٹ اور نسوار استعمال کر رہے ہیں۔
جناب امیر حیدر خان ہوتی جو کبھی ہمارے وزیراعلیٰ ہوتے تھے تو ہوتا یوں تھا کہ ہوتے تو وہ سب سے کم عمر وزیراعلیٰ تھے لیکن ان کے عہدے میں کام بڑے ہوتے تھے، وہ آج کل اے این پی کے صوبائی صدر ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیانات بڑے اہم ہوتے ہیں اور تقریباً تمام بیانات میں کوئی بات ہوتی ہے یا کوئی نکتہ ہوتا ہے یا معنی ہوتے ہیں، چنانچہ ان کا تازہ ترین بیان بھی کچھ زیادہ ''ہوتا'' دکھائی دیتا ہے، فرماتے ہیں کہ عوامی حقوق کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
بیان کی مزید تفصیلات وہی ہیں جو ہوتی ہیں یعنی ہوگا، ہوگا، ہوگا، جن لوگوں نے انڈین فلم سنگم دیکھی ہے ان کو وہ منظر یقیناً یاد ہو گا جب راج کپور وجنتی مالا کے کپڑے اس وقت اپنے قبضے میں کر لیتا ہے جب وہ نہا رہی ہوتی ہے، یاد رہے کہ انڈین فلموں میں کچھ اور ہو نہ ہو لیکن ہیروئن کو نہلانے کا کام نہایت ہی خلوص اور دل جمعی سے کیا جاتا ہے، حالانکہ انھی فلموں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا، لیکن فلموں کے ڈائریکٹر تو زور آور لوگ ہوتے ہیں کسی بھی صورت میں کچھ بھی کر سکتے ہیں، راج کپور وجنتی مالا سے گا کر کہتا ہے کہ
میرے من کی گنگا اور تیرے من کی جمنا کا
بول رادھا بول سنگم ہو گا کہ نہیں
اس پر وجنتی مالا پانی میں تیرتے ہوئے جواب دیتی ہے کہ نہیں نہیں نہیں ... ہونہہ ... لیکن آہستہ آہستہ راج کپور اسے ڈب پر لے ہی آتا ہے اور وہ کہتی ہے کہ ہو گا ہو گا ہو گا ... اگر آپ یہ سمجھ رہے ہو کہ ہم نے محض اپنے کالم میں مصالحہ ڈالنے کے لیے یہ فلمی مصالحہ بیان کیا ہے تو آپ غلطی پر ہیں اور غلطی کا سب کچھ غلط، کیوں کہ آپ عوام ہیں اور عوام ہمیشہ غلط ہوتے ہیں، خاص طور پر ووٹ ڈالنے، نعرے لگانے اور لیڈر چننے میں تو غلطی کے بغیر ان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا چنانچہ یہاں بھی ہمارا مقصد وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ وہ ہے جو آپ نہیں سمجھ رہے ہیں، یہ ہو گا ہو گا ہو گا بھی ہوتا ہوتے ہوتی کے قبیلے کا لفظ ہے جہاں اس خاندان اور قبیلے کا کوئی بھی لفظ یعنی رکن آجاتا ہے وہاں پر ہمیں پیر و مرشد یاد آجاتے ہیں کہ
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہو گا تو خدا ہو گا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا تو کیا ہوتا
اسی تناظر میں اگر ہم بیانات کے بارے میں سوچیں تو ذہن میں فوراً یہ سوال آتا ہے کہ اگر یہ بیانات نہ ہوتے تو کیا ہوتا ہم تو مارے مایوسی کے سر پھٹک پھٹک کر جان دے دیتے لیکن یہ بیانات ہی ہیں جو ہمیں اگرچہ شرمندہ سہی پھر بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں کیوں کہ
آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے
آج ہماری عمر بڑھا دی
ہمارے منہ میں خاک جو ہم نے جناب ہوتی کی طرف روئے سخن رکھا ہو، جھوٹا تو ہم ان کو کہہ رہے ہیں جو جھوٹے ہوتے ہیں آپ تو ماشاء اللہ جھوٹ کبھی نہیں بولتے، جب بھی بولتے سچ بولتے اور سچ کے سوا اور کچھ نہیں بولتے، بغیر کسی گیتا سیتا پر ہاتھ رکھے کیونکہ ہم ان کے فین ہیں صرف ان کے ہی نہیں بلکہ ان کے تقریباً نمبر دو کے بھی دو نمبر فین ہیں جو ان کے دور حکومت میں دو نمبر ہوتے تھے ان دونوں کے ہم پر بڑے احسانات ہیں اتنے زیادہ کہ ہم اپنی آل اولاد کو بھی تحریری طور پر بتا چکے ہیں کہ اگر کبھی ہماری موت واقع ہوئی تو انھی دو لوگوں کے احسانوں تلے دب کر ہی واقع ہوگی، ارے ہاں وہ عوامی حقوق کے لیے قربانیوں کی بات تو ہم بھول گئے، حالانکہ عوام کے لیے اور ان کے حقوق کے لیے قربانیاں دینا ہر لیڈر کی اولین ترجیح ہوتی ہے لیکن وہ لوگ محض بیان برائے بیان بلکہ قربانی برائے قربانی دیتے ہیں جب کہ جناب امیر حیدر خان ہوتی کو ہم نے قربانیاں دیتے ہوئے بچشم خود بلکہ بچشمہ خود دیکھا ہے، ان کی سربراہی میں قربانیوں کا جو عظیم الشان سلسلہ گذشتہ کچھ عرصے سے چل رہا ہے اس کے مدنظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں کر بھی دکھاتے ہیں، قربانی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی کہ تقریباً نصف صدی سے خدائی خدمت گار تحریک کو اپنے چند سالہ دور میں ایسا قربان کر دیا ایسا قربان کر دیا کہ اس کی راکھ بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے وہ ایک پشتو ٹپہ ہے کہ
مینے لمبہ بیلتون ایرے کرم
خوخہ د باد دہ چہ پہ کوم طرف مے وڑینہ
یعنی محبت نے مجھے جلایا، جدائی نے راکھ کیا اب مرضی ہوا کی ہے کہ مجھے کس طرف اڑا کر لے جاتی ہے، احمد خان پشتو کے ایک سنگر تھے ان کا ایک گیت بڑا مشہور ہوا تھا کہ
د ایرو سلے مے وران نہ کڑے روتیرشہ
بادہ زہ ھم د آشنا د عشق یادگار یم
یعنی میری راکھ کے ڈھیر کو بکھیر مت دینا، اے ہوا کیوں کہ میں کسی کی محبت کی یادگار ہوں، لیکن ''ہوا''نے بات نہیں مانی اور راکھ کے اس ڈھیر کو منتشر کر کے گرد و غبار میں بدل دیا جو ''کسی''کی محبت کی ایک یادگار ہوا کرتی تھی، اس سے بڑی قربانی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اتنی بڑی قربانی دینے کے بعد یہ عوام کی زیادتی ہو گی کہ جناب امیر حیدر خان ہوتی اور ان کے موجودہ سیٹ اپ سے مزید قربانیوں کی توقع رکھے اور اگر رکھے بھی تو اب باقی کیا بچا ہے، قربانی کرنے کے لیے ایک صدی میں جمع ہونے والے ''اندوختے'' میں تو اب ککھ بھی باقی نہیں بچا ہے بقول پریم چوپڑہ ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
لیکن پھر بھی اگر ان کو اصرار ہے بلکہ ضد ہے کہ وہ عوام کے لیے قربانی دے کر رہیں گے اور بغیر قانونی دینے کے کسی طور نہیں مانیں گے تو چلیے دیتے رہیں... ہمیں کیا؟ ایک تو ان عوام اور ان کے ''حقوق'' کی کوئی کل سیدھی نہیں پتہ نہیں کم بخت کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ بغیر قربانی کے خدا ماروں کا گزارا ہی نہیں ہوتا، گذشتہ ستر سال میں کتنے آئے اور کیسی کیسی کتنی کتنی قربانیاں دے گئے لیکن یہ کم بخت ہیں کہ ان کا جی ابھی بھرا نہیں ہے۔
ایوب خان سے لے کر بھٹو تک اور ضیاء الحق سے لے کر جنرل مشرف تک اور مسلم لیگ سے لے کر پی ٹی آئی بلکہ ایم کیو ایم اور کیو ڈبلیو پی تک قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے اور کس لیے عوامی حقوق کے لیے حالانکہ جہاں تک ہماری معلومات ہیں ... حقوق... ''حقے''کی جمع ہے اور حقے کا تو آج کل رواج ہی نہیں رہا ہے اور جب ''حقے'' ہی نہیں تو انھیں جمع کر کے حقوق کیا اور عوامی کیا ۔ یعنی آدم نہیں ہے لیکن اس کی ''بو'' ہے، چونکہ سارے لیڈر ہمارے شبھ چنتک ہیں اس لیے جواباً ہم بھی ان کے شبھ چنتک بن کر مشورہ دیں گے کہ تم جن کے لیے قربانی بلکہ قربانیوں پر کمر باندھے ہوئے ہو وہ عوامی حقوق تو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے کیونکہ آج کل عوام ''حقوں'' کی جگہ سگریٹ اور نسوار استعمال کر رہے ہیں۔