ایک ہزار سال بعد پہلی ملاقات
مشرق وسطیٰ میں 70 سالوں سے فلسطینی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
ایک خبر کے مطابق ہوانا میں ایک ہزار سال بعد عیسائیوں کے دو فرقوں رومن کیتھولک اور ارتھوڈکس کے سربراہوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔ رومن کیتھولک فرقے کی طرف سے پوپ فرانس اور ارتھوڈکس فرقے کی طرف سے پیٹرک کیریل نے نمایندگی کی۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات دوگھنٹے جاری رہی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک 30 نکاتی اعلامیے پر دستخط کیے جس کے مطابق دونوں فرقے اپنے اختلافات بھلا کر باہمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دیں گے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں موجود عیسائیوں کی مدد اور انسانیت کے تحفظ کے لیے دونوں فرقے مل کر اقدامات کریں گے۔ بی بی سی کے مطابق دونوں فرقوں کے سربراہوں کے درمیان 11 ویں صدی کے بعد پہلی بار ملاقات ہوئی جس میں دونوں فرقوں کے رہنماؤں نے مسیحی اتحاد کو بحال کرنے اور مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کو مظالم سے بچانے کی اپیل کی۔
ملاقات کے موقعے پر روسی چرچ کے سربراہ پیٹرک کیریل نے کیتھولک فرقے کے سربراہ پوپ فرانس سے کہا کہ ''پیارے بھائی میں آپ کا استقبال کرکے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔'' پوپ فرانس نے اس ملاقات کو بہت سنجیدہ ملاقات کہا۔ واضح رہے کہ 1045 میں عیسائی قوم کے فرقوں میں تقسیم کے بعد رومن کیتھولک فرقے نے اپنا مرکز ویٹی کن اور ارتھوڈکس نے اپنا مرکز ماسکو میں بنایا تھا۔
اس ملاقات میں جو دونوں فرقوں کے سربراہوں کے درمیان ایک ہزار سال بعد ہوئی جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں دنیا بھر میں موجود عیسائیوں کی مدد کے ساتھ ساتھ ''انسانیت کے تحفظ'' کے لیے مل جل کر کام کرنے کا عہد بھی کیا گیا ہے جو بادی النظر میں ایک خوش آیند بات ہے۔ عیسائی مذہب کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتا ہے اسے ہم مذاہب کے ماننے والوں کی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ تقریباً ہر مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے صرف بٹے ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف خون آلود جنگیں بھی لڑتے رہے۔ فرقے خواہ ان کا تعلق کسی مذہب سے ہو دراصل مذہبی رہنماؤں کے آپس کے نظریاتی اختلافات کا نتیجہ رہے ہیں اور یہ اختلافات مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو متحارب فرقوں میں بانٹنے کا سبب بن گئے ہیں۔
اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ مذاہب کو فرقوں میں بانٹنے کا عمل کسی مذہب کے بانیوں کی طرف سے نہیں شروع کیا گیا، بلکہ یہ تقسیم مذاہب کے پیروکاروں کے آپس کی نظریاتی اختلافات کا نتیجہ ہیں۔ ایک فرقے کے رہنماؤں نے اپنے مذہب کی تاویل ایک طرح سے کی تو دوسرے فرقے کے رہنما نے مذہب کی تشریح دوسرے طریقے سے کی۔ یہ تشریحاتی اختلافات مذاہب کو فرقوں میں بانٹنے کا سبب بنے اور جب مذاہب کو فرقوں میں بانٹ دیا گیا تو مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان نفرت اور تعصبات بھی پیدا ہوئے جس سے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ ساتھ مذاہب کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔
ایک ہزار سال کے بعد ہی سہی دونوں عیسائی فرقوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات اور عیسائیوں کی مدد کا فیصلہ ایک اچھا فیصلہ ہی کہلایا جاسکتا ہے لیکن اس مشترکہ اعلامیے میں دو امور ایسے ہیں جو قابل توجہ ہیں مشترکہ اعلامیے میں دنیا بھر کے عیسائیوں کی مدد کے ساتھ ساتھ ''انسانیت کے تحفظ'' کی بات بھی کی گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں پر ہونے والے ظلم کے ذکر کے ساتھ ساتھ اگر فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ذکر بھی کیا جاتا اور ان مظلوموں کی مدد کرنے کی بات بھی کی جاتی تو اعلامیے میں شامل اس عہد کی پاسداری ہوجاتی جس میں کہا گیا ہے کہ رومن کیتھولک اور ارتھوڈکس دونوں فرقوں کے ماننے والے ''انسانیت کے تحفظ'' کے لیے مل کر اقدامات کریں گے۔
مشرق وسطیٰ میں 70 سالوں سے فلسطینی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور ظلم کے یہ پہاڑ توڑنے والوں کا تعلق بھی ایک مذہب ہی کے ماننے والوں سے ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایک ہزار سال کے بعد ملنے والے مذہبی رہنما جو انسانیت کے تحفظ پر متفق بھی ہیں فلسطینی عوام کی مظلومیت کا ذکر بھی کردیتے اور ان کی مدد کا وعدہ بھی کردیتے تو اپنے اعلامیے کی لاج رہ جاتی۔ ایک ہزار سال کا عرصہ بڑا طویل عرصہ ہوتا ہے اس دوران کئی نسلیں پروان چڑھیں اور اس طویل عرصے کے دوران عیسائی مذہب دو فرقوں میں بٹا رہا۔ اس ملاقات میں اگرچہ عیسائیوں کی مدد کی بات کی گئی جو ایک مثبت عہد ہے لیکن دونوں فرقے ختم کرکے عیسائی مذہب کو متحد کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا، جس سے فرقہ وارانہ اختلافات کی گہرائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
عیسائی مذہب کے دونوں فرقوں کے رہنماؤں کی اس تاریخی ملاقات کو دیکھ کر فطرتی طور پر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے مذہب کو کتنے فرقوں میں بانٹ دیا گیا ہے؟ ہم تمام فرقوں کی بات نہیں کریں گے کہ یہ فرقے اپنے فرقہ وارانہ اختلافات کے باوجود تشدد کی راہ پر نہیں چل رہے ہیں البتہ ہم اس فرقہ وارانہ اختلافات کا حوالہ ضرور دیں گے جو آج مذہبی انتہا پسندی سے آگے بڑھ کر بے لگام اور وحشیانہ دہشت گردی میں بدل چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خون آلود فرقہ وارانہ دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق ہے؟
ہماری حکومت اور عسکری قیادت کے علاوہ ہمارے مذہبی اکابرین بھی برملا یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ مذہب کے نام پر کی جانے والی اس دہشت گردی کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ واضح طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ ان کا تعلق کسی قوم یا ملک سے ہوتا ہے یہ طرز فکر انسانیت کے چہرے کا ایسا کلنک ہے جسے مذہب کے غازے سے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فرقوں کے حوالے سے پروان چڑھنے والی اس انسانیت سوز دہشت گردی کی سفاکی کا عالم یہ ہے کہ صرف پاکستان میں اب تک 50 ہزار سے زیادہ پاکستانی اور مسلمان اس بے لگام بے سمت دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اس فرقہ وارانہ دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے افریقہ کے کئی ملک اس سفاکانہ دہشت گردی کی زد میں ہیں یمن، عراق اور شام کے گلی کوچے اس فرقہ وارانہ دہشت گردی میں قتل کیے جانے والے بے گناہ مسلمانوں کی لاشوں سے اٹے ہوئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری مذہبی قیادت میں ایسے لوگ موجود نہیں جو فرقوں کے نام پر عالم اسلام میں ہونے والی قتل و غارت کو روکنے کی عملی اور موثر کوششیں کریں۔
عالم اسلام میں مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے تحفظ اور ان کے درمیان موجود اور پیدا ہونے والے اختلافی مسائل کے حل کے لیے کئی بڑی تنظیمیں موجود ہیں جن میں او آئی سی اور عرب لیگ نمایاں حیثیت کی حامل ہیں۔ یہ تنظیمیں کیا اپنی ذمے داریاں پوری کر رہی ہیں؟ یہ سوال ہر مسلمان کے ذہن میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے اور مسلمان اپنی مذہبی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ بھی عیسائی فرقوں کے رہنماؤں کی طرح مل بیٹھ کر مسلمانوں کے درمیان موجود اختلافات دور کرنے اور ان کی اجتماعی بھلائی کے لیے قدم اٹھائیں۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں موجود عیسائیوں کی مدد اور انسانیت کے تحفظ کے لیے دونوں فرقے مل کر اقدامات کریں گے۔ بی بی سی کے مطابق دونوں فرقوں کے سربراہوں کے درمیان 11 ویں صدی کے بعد پہلی بار ملاقات ہوئی جس میں دونوں فرقوں کے رہنماؤں نے مسیحی اتحاد کو بحال کرنے اور مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کو مظالم سے بچانے کی اپیل کی۔
ملاقات کے موقعے پر روسی چرچ کے سربراہ پیٹرک کیریل نے کیتھولک فرقے کے سربراہ پوپ فرانس سے کہا کہ ''پیارے بھائی میں آپ کا استقبال کرکے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔'' پوپ فرانس نے اس ملاقات کو بہت سنجیدہ ملاقات کہا۔ واضح رہے کہ 1045 میں عیسائی قوم کے فرقوں میں تقسیم کے بعد رومن کیتھولک فرقے نے اپنا مرکز ویٹی کن اور ارتھوڈکس نے اپنا مرکز ماسکو میں بنایا تھا۔
اس ملاقات میں جو دونوں فرقوں کے سربراہوں کے درمیان ایک ہزار سال بعد ہوئی جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں دنیا بھر میں موجود عیسائیوں کی مدد کے ساتھ ساتھ ''انسانیت کے تحفظ'' کے لیے مل جل کر کام کرنے کا عہد بھی کیا گیا ہے جو بادی النظر میں ایک خوش آیند بات ہے۔ عیسائی مذہب کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتا ہے اسے ہم مذاہب کے ماننے والوں کی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ تقریباً ہر مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے صرف بٹے ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف خون آلود جنگیں بھی لڑتے رہے۔ فرقے خواہ ان کا تعلق کسی مذہب سے ہو دراصل مذہبی رہنماؤں کے آپس کے نظریاتی اختلافات کا نتیجہ رہے ہیں اور یہ اختلافات مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو متحارب فرقوں میں بانٹنے کا سبب بن گئے ہیں۔
اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ مذاہب کو فرقوں میں بانٹنے کا عمل کسی مذہب کے بانیوں کی طرف سے نہیں شروع کیا گیا، بلکہ یہ تقسیم مذاہب کے پیروکاروں کے آپس کی نظریاتی اختلافات کا نتیجہ ہیں۔ ایک فرقے کے رہنماؤں نے اپنے مذہب کی تاویل ایک طرح سے کی تو دوسرے فرقے کے رہنما نے مذہب کی تشریح دوسرے طریقے سے کی۔ یہ تشریحاتی اختلافات مذاہب کو فرقوں میں بانٹنے کا سبب بنے اور جب مذاہب کو فرقوں میں بانٹ دیا گیا تو مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان نفرت اور تعصبات بھی پیدا ہوئے جس سے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ ساتھ مذاہب کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔
ایک ہزار سال کے بعد ہی سہی دونوں عیسائی فرقوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات اور عیسائیوں کی مدد کا فیصلہ ایک اچھا فیصلہ ہی کہلایا جاسکتا ہے لیکن اس مشترکہ اعلامیے میں دو امور ایسے ہیں جو قابل توجہ ہیں مشترکہ اعلامیے میں دنیا بھر کے عیسائیوں کی مدد کے ساتھ ساتھ ''انسانیت کے تحفظ'' کی بات بھی کی گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں پر ہونے والے ظلم کے ذکر کے ساتھ ساتھ اگر فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ذکر بھی کیا جاتا اور ان مظلوموں کی مدد کرنے کی بات بھی کی جاتی تو اعلامیے میں شامل اس عہد کی پاسداری ہوجاتی جس میں کہا گیا ہے کہ رومن کیتھولک اور ارتھوڈکس دونوں فرقوں کے ماننے والے ''انسانیت کے تحفظ'' کے لیے مل کر اقدامات کریں گے۔
مشرق وسطیٰ میں 70 سالوں سے فلسطینی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور ظلم کے یہ پہاڑ توڑنے والوں کا تعلق بھی ایک مذہب ہی کے ماننے والوں سے ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایک ہزار سال کے بعد ملنے والے مذہبی رہنما جو انسانیت کے تحفظ پر متفق بھی ہیں فلسطینی عوام کی مظلومیت کا ذکر بھی کردیتے اور ان کی مدد کا وعدہ بھی کردیتے تو اپنے اعلامیے کی لاج رہ جاتی۔ ایک ہزار سال کا عرصہ بڑا طویل عرصہ ہوتا ہے اس دوران کئی نسلیں پروان چڑھیں اور اس طویل عرصے کے دوران عیسائی مذہب دو فرقوں میں بٹا رہا۔ اس ملاقات میں اگرچہ عیسائیوں کی مدد کی بات کی گئی جو ایک مثبت عہد ہے لیکن دونوں فرقے ختم کرکے عیسائی مذہب کو متحد کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا، جس سے فرقہ وارانہ اختلافات کی گہرائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
عیسائی مذہب کے دونوں فرقوں کے رہنماؤں کی اس تاریخی ملاقات کو دیکھ کر فطرتی طور پر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے مذہب کو کتنے فرقوں میں بانٹ دیا گیا ہے؟ ہم تمام فرقوں کی بات نہیں کریں گے کہ یہ فرقے اپنے فرقہ وارانہ اختلافات کے باوجود تشدد کی راہ پر نہیں چل رہے ہیں البتہ ہم اس فرقہ وارانہ اختلافات کا حوالہ ضرور دیں گے جو آج مذہبی انتہا پسندی سے آگے بڑھ کر بے لگام اور وحشیانہ دہشت گردی میں بدل چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خون آلود فرقہ وارانہ دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق ہے؟
ہماری حکومت اور عسکری قیادت کے علاوہ ہمارے مذہبی اکابرین بھی برملا یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ مذہب کے نام پر کی جانے والی اس دہشت گردی کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ واضح طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ ان کا تعلق کسی قوم یا ملک سے ہوتا ہے یہ طرز فکر انسانیت کے چہرے کا ایسا کلنک ہے جسے مذہب کے غازے سے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فرقوں کے حوالے سے پروان چڑھنے والی اس انسانیت سوز دہشت گردی کی سفاکی کا عالم یہ ہے کہ صرف پاکستان میں اب تک 50 ہزار سے زیادہ پاکستانی اور مسلمان اس بے لگام بے سمت دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اس فرقہ وارانہ دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے افریقہ کے کئی ملک اس سفاکانہ دہشت گردی کی زد میں ہیں یمن، عراق اور شام کے گلی کوچے اس فرقہ وارانہ دہشت گردی میں قتل کیے جانے والے بے گناہ مسلمانوں کی لاشوں سے اٹے ہوئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری مذہبی قیادت میں ایسے لوگ موجود نہیں جو فرقوں کے نام پر عالم اسلام میں ہونے والی قتل و غارت کو روکنے کی عملی اور موثر کوششیں کریں۔
عالم اسلام میں مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے تحفظ اور ان کے درمیان موجود اور پیدا ہونے والے اختلافی مسائل کے حل کے لیے کئی بڑی تنظیمیں موجود ہیں جن میں او آئی سی اور عرب لیگ نمایاں حیثیت کی حامل ہیں۔ یہ تنظیمیں کیا اپنی ذمے داریاں پوری کر رہی ہیں؟ یہ سوال ہر مسلمان کے ذہن میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے اور مسلمان اپنی مذہبی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ بھی عیسائی فرقوں کے رہنماؤں کی طرح مل بیٹھ کر مسلمانوں کے درمیان موجود اختلافات دور کرنے اور ان کی اجتماعی بھلائی کے لیے قدم اٹھائیں۔