صدر مملکت کا دورہ قطر
قطر نے پاکستان کے موجودہ ہائیڈرو پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے تعاون کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
صدر زرداری اور قطر کے وزیراعظم باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھانے پر متفق ہیں۔ فوٹو : ثنا
پاکستان اور قطر نے توانائی اور تجارت کے شعبوں میں اشتراک عمل میں اضافے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس کے تحت پاکستان قطر سے مایع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کرے گا۔
اس حوالے سے دوحہ میں بدھ کو ایک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری اور قطر کے وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم بن جابر الثانی کے مابین ہونے والی ملاقات میں دونوں برادر ملکوں میں باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا نیز دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق دونوں لیڈروں کی بات چیت میں توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ تعاون پر زور دیا گیا جس میں قطر کی طرف سے پاکستان میں ہائیڈرو پاور یا پن بجلی کے مختلف منصوبوں میں تعاون و اشتراک کے امکانات پر بھی غور کیا گیا ہے۔
یہ اطلاع بھی شایع ہوئی ہے کہ قطر نے پاکستان کے موجودہ ہائیڈرو پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافے کے لیے تعاون کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ مذاکرات میں زیادہ توجہ قطر سے پاکستان کے لیے ایل این جی درآمد کرنے پر دی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ صدر زرداری نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ قطر گیس کمپنی نے پاکستان کی گیس کمپنیوں کو 3.5 ایم ٹی پی اے (یعنی ملین ٹن سالانہ) ایل این جی فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
صدر زرداری نے قطری وزیراعظم کو ان وافر سہولتوں سے آگاہ کیا جو پاکستان کی طرف سے ملک میں پٹرول کی تلاش اور اس کی پیداوار کے لیے سرمایہ کاری کرنے والوں کو دی گئی ہیں۔ دونوں فریقوں نے اسلام آباد اور دوحہ کے لیے پی آئی اے اور قطر ائرویز کی پروازوں کی تعداد بڑھانے پر بھی زور دیا۔ صدر پاکستان نے قطری بینکوں کو پاکستان میں اپنی شاخیں قائم کرنے کی پیشکش بھی کی۔ وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم حسین نے بتایا کہ دونوں فریقین کی ملاقات میں ایل این جی کی درآمد کے بارے میں رسمی کارروائیوں کو جلد از جلد مکمل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی چنانچہ دونوں فریق جس قدر جلد ممکن ہو سکے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
ڈاکٹر عاصم نے قطری پٹرولیم اور گیس کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی طرف سے نئی پالیسی کے تحت پیش کردہ سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کے تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان 77 ایم ٹی پی اے ایل این جی درآمد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے جو ابتدائی طور پر پاور ہائوسز کو سپلائی کی جائے گی تا کہ وہ 2,500 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکیں۔ صدر زرداری نے شیخ حمد پر زور دیا کہ وہ پاکستانی ہنر مند اور نیم ہنر مند افرادی قوت کے لیے قطر میں مزید گنجائش پیدا کریں جہاں پہلے ہی 90 ہزار پاکستانی تارکین وطن قطر کی معیشت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ قطر میں 2022 میں فیفا ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیے جو انتظامات کیے جا رہے ہیں اس کے لیے 20 لاکھ کی افرادی قوت کی ضرورت ہو گی جس کی فراہمی میں پاکستان نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ انھوں نے دونوں ملکوں کے مابین ہونے والی تجارت میں مزید اشیاء کے شامل کیے جانے پر بھی زور دیا اور اس بات پر سے اطمینان کا اظہار کیا کہ قطر سے آنے والی پاکستانی تارکین وطن کی رقوم کا حجم 2010 میں 354 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جب کہ 2009 میں یہ تعداد 339.51 ملین ڈالر تھی۔
اس صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کا دورہ قطر کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کو اس وقت توانائی کی اشد ضرورت ہے۔ پٹرول اور گیس کی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان معاشی ترقی کے لیے توانائی انتہائی اہم ہے۔ اگر اس حوالے سے قطر کی امداد اور پیشکشوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو آنے والے دنوں میں پاکستان توانائی کے بحران پر باآسانی قابو پا سکتا ہے۔ اگر توانائی کا بحران حل ہو جاتا ہے تو یہاں معاشی سرگرمیاں خود بخود زور پکڑ لیں گی جس سے روز گار کے وافر مواقعے پیدا ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ قطر اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کو مزید گہرے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ تیل سے مالا مال عرب ممالک میں پہلے ہی پاکستان کے ہنر مند بڑی تعداد میں کام کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں مزید افرادی قوت کو کھپانے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر پاکستان کی افرادی قوت کے لیے قطر' مسقط' اومان' کویت' متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مزید گنجائش پیدا کی جائے تو اس کے بھی پاکستان کی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔
ان ممالک سے جو زرمبادلہ آئے گا اس سے پاکستان میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔ پاکستان کی حکومت کو اب اولین ترجیح معیشت میں بہتری لانے کے طریقوں کو دینی چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت توانائی کی ضرورت ہے' یہ ضرورت قطر' ایران اور وسط ایشیا کے ممالک باآسانی پوری کر سکتے ہیں۔ اس طریقے سے ہی پاکستان آنے والے وقت میں معاشی طور پر مضبوط اور توانا ملکوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو صدر پاکستان کا دورہ قطر خاصا مفید اور فائدہ مند ثابت ہو گا۔
اس حوالے سے دوحہ میں بدھ کو ایک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری اور قطر کے وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم بن جابر الثانی کے مابین ہونے والی ملاقات میں دونوں برادر ملکوں میں باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا نیز دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق دونوں لیڈروں کی بات چیت میں توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ تعاون پر زور دیا گیا جس میں قطر کی طرف سے پاکستان میں ہائیڈرو پاور یا پن بجلی کے مختلف منصوبوں میں تعاون و اشتراک کے امکانات پر بھی غور کیا گیا ہے۔
یہ اطلاع بھی شایع ہوئی ہے کہ قطر نے پاکستان کے موجودہ ہائیڈرو پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافے کے لیے تعاون کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ مذاکرات میں زیادہ توجہ قطر سے پاکستان کے لیے ایل این جی درآمد کرنے پر دی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ صدر زرداری نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ قطر گیس کمپنی نے پاکستان کی گیس کمپنیوں کو 3.5 ایم ٹی پی اے (یعنی ملین ٹن سالانہ) ایل این جی فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
صدر زرداری نے قطری وزیراعظم کو ان وافر سہولتوں سے آگاہ کیا جو پاکستان کی طرف سے ملک میں پٹرول کی تلاش اور اس کی پیداوار کے لیے سرمایہ کاری کرنے والوں کو دی گئی ہیں۔ دونوں فریقوں نے اسلام آباد اور دوحہ کے لیے پی آئی اے اور قطر ائرویز کی پروازوں کی تعداد بڑھانے پر بھی زور دیا۔ صدر پاکستان نے قطری بینکوں کو پاکستان میں اپنی شاخیں قائم کرنے کی پیشکش بھی کی۔ وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم حسین نے بتایا کہ دونوں فریقین کی ملاقات میں ایل این جی کی درآمد کے بارے میں رسمی کارروائیوں کو جلد از جلد مکمل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی چنانچہ دونوں فریق جس قدر جلد ممکن ہو سکے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
ڈاکٹر عاصم نے قطری پٹرولیم اور گیس کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی طرف سے نئی پالیسی کے تحت پیش کردہ سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کے تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان 77 ایم ٹی پی اے ایل این جی درآمد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے جو ابتدائی طور پر پاور ہائوسز کو سپلائی کی جائے گی تا کہ وہ 2,500 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکیں۔ صدر زرداری نے شیخ حمد پر زور دیا کہ وہ پاکستانی ہنر مند اور نیم ہنر مند افرادی قوت کے لیے قطر میں مزید گنجائش پیدا کریں جہاں پہلے ہی 90 ہزار پاکستانی تارکین وطن قطر کی معیشت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ قطر میں 2022 میں فیفا ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیے جو انتظامات کیے جا رہے ہیں اس کے لیے 20 لاکھ کی افرادی قوت کی ضرورت ہو گی جس کی فراہمی میں پاکستان نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ انھوں نے دونوں ملکوں کے مابین ہونے والی تجارت میں مزید اشیاء کے شامل کیے جانے پر بھی زور دیا اور اس بات پر سے اطمینان کا اظہار کیا کہ قطر سے آنے والی پاکستانی تارکین وطن کی رقوم کا حجم 2010 میں 354 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جب کہ 2009 میں یہ تعداد 339.51 ملین ڈالر تھی۔
اس صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کا دورہ قطر کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کو اس وقت توانائی کی اشد ضرورت ہے۔ پٹرول اور گیس کی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان معاشی ترقی کے لیے توانائی انتہائی اہم ہے۔ اگر اس حوالے سے قطر کی امداد اور پیشکشوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو آنے والے دنوں میں پاکستان توانائی کے بحران پر باآسانی قابو پا سکتا ہے۔ اگر توانائی کا بحران حل ہو جاتا ہے تو یہاں معاشی سرگرمیاں خود بخود زور پکڑ لیں گی جس سے روز گار کے وافر مواقعے پیدا ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ قطر اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کو مزید گہرے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ تیل سے مالا مال عرب ممالک میں پہلے ہی پاکستان کے ہنر مند بڑی تعداد میں کام کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں مزید افرادی قوت کو کھپانے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر پاکستان کی افرادی قوت کے لیے قطر' مسقط' اومان' کویت' متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مزید گنجائش پیدا کی جائے تو اس کے بھی پاکستان کی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔
ان ممالک سے جو زرمبادلہ آئے گا اس سے پاکستان میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔ پاکستان کی حکومت کو اب اولین ترجیح معیشت میں بہتری لانے کے طریقوں کو دینی چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت توانائی کی ضرورت ہے' یہ ضرورت قطر' ایران اور وسط ایشیا کے ممالک باآسانی پوری کر سکتے ہیں۔ اس طریقے سے ہی پاکستان آنے والے وقت میں معاشی طور پر مضبوط اور توانا ملکوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو صدر پاکستان کا دورہ قطر خاصا مفید اور فائدہ مند ثابت ہو گا۔