عذیر بلوچ پر مقدمات کے اخراجات کیلیے گینگ وار کارندوں کی بھتہ وصولی شروع

تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور دکانداروں نے چند روز میں 60 لاکھ روپے سے زائد بھتہ دے کرجان چھڑائی

گینگ وار کے کارندے کمائی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، پولیس افسر۔ فوٹو: فائل

لیاری گینگ وارکے سرغنہ عذیر بلوچ کے مقدمات لڑنے اور اس پر آنے والے بھاری اخراجات کے نام پر گینگ وار کے کارندوں نے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور سرمایہ داروں سے بھتہ لینا اور مانگنا شروع کر دیا۔

چند روزمیں4 تاجروں نے 60 لاکھ روپے بھتہ دے کر جان چھڑائی ، منگل کی شب گارڈن میں رینجرز سے مقابلے میں ہلاک گینگ وار کارندے بھی بھتہ مہم میں شامل تھے، تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس آفس کے سینئر پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ اور کالعدم امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد کراچی پولیس کو انٹیلی جینس اداروں نے ایک خط ارسال کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سٹی ٹاؤن کے علاقے بولٹن مارکیٹ میں قائم اسٹیٹ بینک سے متصل پرائز بانڈ مارکیٹ میں قائم پرائز بانڈ کی آڑ میں بانڈ پرچی پر جوا کرانے والے دکانداروں کو ایک ہفتے قبل لیاری گینگ وار عذیر بلوچ کے کارندوں نے فی دکان2لاکھ روپے مبینہ طور پر بھتہ طلب کیا۔

چند دکانداروں کو موبائل فون پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، بھتہ خوروں نے دکانداروں کوچند دن کی مہلت دی ہے کہ وہ بھتے کی رقم تیار رکھیں، ذرائع نے بتایا ہے کہ لیاری گینگ وار کے کارندوں نے ماڑی پور،شیرشاہ ،کیماڑی اور شیریں جناح کالونی سے تعلق رکھنے والے ٹرانسپورٹروں اورفشری میںمچھلی کا کاروبار کرنے والے تاجروں سے بھی لاکھوں روپے بھتہ طلب کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ عذیر بلوچ گینگ وارگروپ کے کارندوں نے اس بار تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے یہ کہہ کر بھتہ طلب کیا کہ سردار عذیر بلوچ رینجرز کی حراست میں ہیں ، اس کا مقدمہ لڑنے کے لیے وکلا پر لاکھوں روپے خرچہ آئے گا ، ضمانتوں میں بھی لاکھوں روپے خرچ ہونگے، یہ تمام اخراجات تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو برداشت کرنا پڑیں گے،ذرائع نے بتایا کہ عذیر بلوچ گروپ کے کارندوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جو ابھی ہماری برے وقت میں مدد کرے گا اس کو اچھے وقت پر خصوصی طور پر یاد رکھا جائے گا جس تاجر نے ذرا سی بھی ہوشیاری دکھائی توجان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

نمائندہ ایکسپریس نے لیاری ڈویژن پولیس کے ایک افسر سے رابطہ کیا تو اس نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ لیاری گینگ وار کے کارندے پیسے کمانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے،انھوں نے بتایا کہ تاج محمد عرف استاد تاجو بیرون ملک فرار ہوچکا جو واٹس اپ اور وائیبر کے ذریعے اپنے کارندوں سے رابطے میں ہے جبکہ استاد تاجو بیرون ملک سے تاجروں کو واٹس اپ کالنگ اور وائس ریکارڈنگ کے ذریعے کافی عرصے سے بھتہ طلب کر رہا ہے۔


استاد تاجو کے متعدد کارندے ایسے بھی ہے جن کا تعلق لیاری سے نہیں ہے اور ان میں اب جو کارندے ہیں وہ گلشن اقبال ، ڈیفنس ، محمود آباد ، نارتھ ناظم آباد ، نیو کراچی ، فیڈرل بی ایریا ، پاک کالونی ،رنچھورلین ، گارڈن اور لیاقت آباد الیاس گوٹھ سمیت دیگر علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں جو تاجروں اور بڑے ٹرانسپورٹروں کے موبائل فون نمبرز، کاروبار کی تفصیلات اور ان کے اہلخانہ کے بارے میں تمام معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ انھیں بلیک میل کر کے بھتہ طلب کیا جا سکے۔

ذرائع نے بتایا کہ عذیر بلوچ گروپ کے اہم کارندوں میں استاد تاجو،سردار آصف عرف کانڑا ، فیصل پٹھان، عمرکچھی، وصی اﷲ لاکھو اور شیراز کامریڈ تاحال فرار ہیں جومختلف علاقوں میں روپوش بتائے جاتے ہیں جو اپنے کارندوں اور مخبروں سے رابطے میں رہتے ہیں وہ مخالفین اور پولیس کی تمام نقل و حرکت اور پالیسیوں کے بارے میں باخبر رکھتے ہیں۔

لیاری ڈویژن پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ عذیر بلوچ گروپ کے مخالف بابا لاڈلہ اور غفار ذکری گروپ کے کارندے بھی عذیر بلوچ کے نام پر تاجروں سے بھتہ طلب کررہے ہیں اور تاجروں سے مبینہ طور پرکروڑوں روپے بھتہ وصول کرچکے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ گینگ وار کے کارندے لوکل موبائل فون نمبر سے بھتہ اس لیے طلب نہیں کرتے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے موبائل نمبر سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا سراغ لگا لیتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ گینگ وار کے کارندوں کی جانب سے دی جانے والی سنگین نتائج کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہوکر چند روز قبل 4 تاجروں نے 60 لاکھ روپے بھتہ دے کر جان چھڑائی، ،ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس عرف زوہیب اور فاروق عرف فاروقہ لیاری گینگ وار عذیر بلوچ کے کارندے تھے جو تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے بھتہ طلب کرنے اور وصول کرنے میں ملوث تھے،رینجرز انٹیلیجنس کی ٹیم انھیں سرگرمی سے تلاش کررہی تھی کہ منگل کی شب رینجرز نے مذکورہ کارندوں کی اطلاع پر گارڈن تھارو لائن میں چھاپہ مارا جہاں ان کارندوں نے رینجرز پر فائرنگ کر دی جو رینجرز کی جوابی میں فائرنگ میں مارے گئے۔

محکمہ پولیس میں موجود پولیس کی کالی بھیڑیں بھی گینگ وار کارندوں سے رابطے میں ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افسران و اہلکاروں کو بھی بھتے کی وصولی سے حاصل ہونے والی رقم سے حصہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ پولیس کے لائحہ عمل سے انھیں آگاہ رکھ سکیں، ماضی میں تھانیدار سمیت دیگر افسران لیاری کے تھانوں میں عذیر بلوچ ہی کی مرضی سے لگائے جاتے تھے ،اب بھی عذیر بلوچ کے لگائے گئے کئی افسران اور اہلکار لیاری مختلف تھانوں میں تعینات ہیں،تاجر برادری اور ٹرانسپورٹر نے لیاری گینگ وار کے خوف سے پولیس کو تحریری رپورٹ درج نہیں کراتے جس کی وجہ پولیس میں موجود کالی بھیڑیں ہیں جو گینگ وار کارندوں کو اس حوالے سے آگاہ کر دیتے ہیں۔

کراچی پولیس کی جانب سے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ میں بھتہ سیل قائم کیا تھا لیکن یہ بھتہ سیل گزشتہ 2 سال سے غیر فعال ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ سیل میں تعینات افسران و اہلکار کراچی شہر میں قائم جوئے اور سٹے کے اڈوں سے مبینہ طور پر بھتے وصول کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں بعدازاں اس حوالے سے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر کو متعدد بار ان کے موبائل فون پر رابطہ کیا گیا تاہم دونوں افسران نے فون ریسیو کرنے سے گریز کیا ۔
Load Next Story