گروتھ کیلیے اچھی کارپوریٹ گورننس ضروری ہے یاسین انور
گورنر اسٹیٹ بینک کا سی ای اوسمٹ اور’ہنڈریڈ بزنس لیڈرز آف پاکستان‘ کی رونمائی سے خطاب۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا سی ای اوسمٹ اور’ہنڈریڈ بزنس لیڈرز آف پاکستان‘ کی رونمائی سے خطاب۔ فوٹو: فائل
MIRAMSHAH:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور نے معاشی نمو کو تحریک دینے کے لیے گورننس کے اچھے طریقے تشکیل دینے اور نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں چوتھی سی ای او سمٹ اور کتاب ''ہنڈریڈ بزنس لیڈرز آف پاکستان''کی تقریب رونمائی سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اچھی کارپوریٹ گورننس کے نظاموں پر جتنا زور دیا جائے کم ہے کیونکہ ان سے پرکشش سرمایہ کاری ماحول پیدا ہوتا ہے جو سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کیلیے ضروری ہے جس کے نتیجے میں حصص کی قیمتوں پر مثبت اثر پڑتا ہے اور کم لاگت کا سرمایہ لانے کے امکانات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہنماؤں میں اعلیٰ درجے کی بصیرت ہونی چاہیے کہ وہ مستقبل کے رجحانات کو دیکھ سکیں، ادارہ جاتی رکاوٹوں کا پہلے سے اندازہ کرسکیں، مقابلے کی فضا قائم رکھ سکیں اور تبدیلیوں کے ساتھ تیزی سے خود کو ڈھال سکیں، رہنماؤں کو اپنی کارپوریٹ سماجی ذمے داری کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے تاکہ منافع کمانے کے عمل کا سماجی خدمت اور معاشرے کی بہبود کے ساتھ توازن قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (FDI) حقیقی شعبے کے مادی اثاثوں میں سرمایہ کاری ہے، اس کا مطلب ہے کہ ایف ڈی آئی کے ذریعے رقم اور سرمائے کی آمدو رفت میں بہت زیادہ اتار چڑھائو نہیں ہے اور رقوم کی ایسی آمد ورفت میں یہ اتار چڑھاؤ ہی ہے جو سینٹرل بینکر کو راتوں کو جگائے رکھتا ہے، پاکستانی معیشت کو اس مستقل تصور کو ترک کرنا چاہیے کہ ملک میں آنے والی ایف ڈی آئی معیشت کی صحت کا پیمانہ ہے اور ہمیں ملک سے باہر جانے والی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کو وہ توجہ دینی چاہیے جس کی وہ مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا ایک مشکل دور سے گذر رہی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری قیادت کی سوچ کاروبار کے انتظام سے ہم آہنگ ہو۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور نے معاشی نمو کو تحریک دینے کے لیے گورننس کے اچھے طریقے تشکیل دینے اور نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں چوتھی سی ای او سمٹ اور کتاب ''ہنڈریڈ بزنس لیڈرز آف پاکستان''کی تقریب رونمائی سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اچھی کارپوریٹ گورننس کے نظاموں پر جتنا زور دیا جائے کم ہے کیونکہ ان سے پرکشش سرمایہ کاری ماحول پیدا ہوتا ہے جو سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کیلیے ضروری ہے جس کے نتیجے میں حصص کی قیمتوں پر مثبت اثر پڑتا ہے اور کم لاگت کا سرمایہ لانے کے امکانات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہنماؤں میں اعلیٰ درجے کی بصیرت ہونی چاہیے کہ وہ مستقبل کے رجحانات کو دیکھ سکیں، ادارہ جاتی رکاوٹوں کا پہلے سے اندازہ کرسکیں، مقابلے کی فضا قائم رکھ سکیں اور تبدیلیوں کے ساتھ تیزی سے خود کو ڈھال سکیں، رہنماؤں کو اپنی کارپوریٹ سماجی ذمے داری کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے تاکہ منافع کمانے کے عمل کا سماجی خدمت اور معاشرے کی بہبود کے ساتھ توازن قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (FDI) حقیقی شعبے کے مادی اثاثوں میں سرمایہ کاری ہے، اس کا مطلب ہے کہ ایف ڈی آئی کے ذریعے رقم اور سرمائے کی آمدو رفت میں بہت زیادہ اتار چڑھائو نہیں ہے اور رقوم کی ایسی آمد ورفت میں یہ اتار چڑھاؤ ہی ہے جو سینٹرل بینکر کو راتوں کو جگائے رکھتا ہے، پاکستانی معیشت کو اس مستقل تصور کو ترک کرنا چاہیے کہ ملک میں آنے والی ایف ڈی آئی معیشت کی صحت کا پیمانہ ہے اور ہمیں ملک سے باہر جانے والی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کو وہ توجہ دینی چاہیے جس کی وہ مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا ایک مشکل دور سے گذر رہی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری قیادت کی سوچ کاروبار کے انتظام سے ہم آہنگ ہو۔