بھارت کا سمندر میں کھمبے لگانے کا اعلان

پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سمندری حدود کے نشاندہی کے لیے کھمبے لگائے جا رہے ہیں

عام طور پر سرکاری موقف یہ ہوتا ہے کہ ان ماہی گیروں کی گرفتاری اس وجہ سے بھی ضروری ہوتی ہے مبادہ ان میں دشمن کے جاسوس شامل نہ ہوں۔ فوٹو: فائل

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سمندری حدود کے نشاندہی کے لیے کھمبے لگائے جا رہے ہیں جس سے ماہی گیروں کو سمندری حدود کا واضح طور سے پتہ چل سکے گا۔ سشما سوراج نے یہ بات ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں وقفہ سوالات کے دوران کہی اور بتایا کہ ماہی گیروں کو سمندری حدود کا واضح طور سے پتہ نہ چلنے کی وجہ سے بھارتی ماہی گیروں کے سری لنکا اور پاکستان کی آبی حدود میں گھسنے اور ان کے پکڑے جانے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ نے ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے کہ سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں تینوں ملکوں میں ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو گرفتار کر کے جیلوں میں قید کر لیا جاتا ہے اور جن کی رہائی بالعموم ادلے بدلے کے اصول کے تحت پیش آتی ہے ورنہ وہ خوامخواہ جیل میں سڑتے رہتے ہیں۔ جس ملک کے ماہی گیر گرفتار ہو جاتے ہیں وہ حساب برابر کرنے کے لیے دوسرے ملک کے اتنے ہی ماہی گیر پکڑ لیتا ہے تاکہ ان کی رہائی کے بدلے میں اپنے بندے چھڑائے جا سکیں۔


ویسے تو یہ ماہی گیر غریب محنت کش ہوتے ہیں جن کی کشتی بھٹک کر دوسری سمندری حدود میں پہنچ جاتی ہے۔ لہٰذا اصولاً تو کوسٹ گارڈوں کو ان غریبوں کو موقع پر ہی وارننگ دے کر واپس بھیج دینا چاہیے لیکن حکومتوں کی اپنی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ گو کہ ان مچھیروں کو گرفتار کر کے جیلوں تک پہنچانے میں اور پھر سرکاری مہمان کے طور پر جیلوں میں رکھنے پر خوا مخواہ کا خرچہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

عام طور پر سرکاری موقف یہ ہوتا ہے کہ ان ماہی گیروں کی گرفتاری اس وجہ سے بھی ضروری ہوتی ہے مبادہ ان میں دشمن کے جاسوس شامل نہ ہوں لیکن آخر سمندروں کی بپھری ہوئی لہروں میں ان بیچاروں نے کس قسم کی جاسوسی کرنی ہوتی ہے۔
Load Next Story