مہذب معاشرے کے لیے

شرمین عبید چنائے نے کاروکاری پر فلم بنا کر آسکر ایوارڈ جیت لیا

tauceeph@gmail.com

KARACHI:
پنجاب کی منتخب اسمبلی نے پہلی بار خواتین کے تحفظ کا قانون منظور کیا' شرمین عبید چنائے نے کاروکاری پر فلم بنا کر آسکر ایوارڈ جیت لیا' مولانا فضل الرحمن نے منتخب اراکین کی توہین کر کے انا کی تسکین کی' مگر میاں صاحب کی حکومت چھوڑنے کو تیار نہیں' پیپلز پارٹی اور دوسری لبرل جماعتوں کی اس موقعے پر خاموشی انتہا پسندوں کے عزائم کو تقویت دے رہی ہے۔

پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی ابتداء جنرل ایوب کے دور میں ہوئی۔ جنرل ایوب نے عائلی قوانین نافذ کر کے شادی اور طلاق کو دستاویزی شکل دی' مرد کی دوسری شادی کو اہلیہ کی منظوری سے منسلک کیا' عائلی قوانین کے طلاق کو خود کار طریقہ کار سے لازمی کیا۔ نکاح نامے میں لڑکی کو ملنے والے جہیز اور بیوی کی مرضی سے طلاق کی شرط شامل کی گئی۔ عائلی قوانین سے خواتین کو بنیادی حق اور طلاق پر تحفظ حاصل ہوا' اس وقت کے علماء نے عائلی قوانین کی مخالفت کی' مگر ان قوانین کے نفاذ سے خواتین کے حالات بہتر ہوئے۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میںبنائے گئے بعض قوانین پر خواتین کو اعتراض ہوا۔ خواتین کے وومن ایکشن فورم کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کی گئی' لاہور میں احتجاج کرنے والی خواتین پر پولیس نے تشدد بھی کیا' شاعر انقلاب حبیب جالبؔ جب ان سے یکجہتی کے لیے اس جلسے میں آئے تو پولیس تشدد کا شکار ہوئے' پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیر بھٹو ان قوانین کی تبدیلی کی خواہاں تھیں مگر رجعت پسندوں نے سخت مزاحمت کی' مسلم لیگ ن ان رجعت پسندوں کی پشت پناہی کر رہی تھی۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں کچھ تبدیلی ہوئی۔ پیپلز پارٹی' اے این پی اور ایم کیو ایم نے ترمیمی قانون کی مخالفت کی' مسلم لیگ ن پھر رجعت پسند عناصر کے ساتھ تھی' پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت نے خواتین کے حقوق کے لیے پانچ قاعدے قوانین بنائے' ان قوانین میں گھریلو تشدد کے انسداد کا قانون کام کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف قانون کم سن بچیوں کی شادی پر پابندی' خواتین پر تیزاب پھینکنے کے خلاف عمر قید کی سزا کا قانون' ونی کی رسم کے خلاف قانون شامل تھے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ان قوانین کی تیاری میں رجعت پسندوں کے دباؤ کو قبول نہیں کیا' نہ صرف ملک میں خواتین کو تحفظ حاصل ہوا بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا ترقی پسند امیج ابھر کر سامنے آیا۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے خواتین کو بھی پہلی بار اسکوٹر فراہم کرنے کا انتظام کیا' حکومت کی اس خصوصی اسکیم کی بنا پر خواتین نے اسکوٹر چلانا شروع کیے' ان اسکوٹروں کے استعمال سے خواتین کے حالات کار بہتر ہوئے' نوجوان خواتین ان اسکوٹروں کے ذریعے اپنے کام کاج کرنے میں آسانی پیدا ہوئی اب خواتین کے گھریلو تشدد کے روک تھام کا قانون اسمبلی سے منظور ہوا ہے۔

اس قانون کے تحت اپنی بیوی' بیٹی ' بہن پر تشدد کرنے والے مرد کو الیکٹرانک کڑے پہنائے جا سکیں گے اور جو مرد اس تنبیہہ کے باوجود اپنی خواتین پر تشدد کریں گے انھیں گرفتار کیا جائے گا ' اس قانون کے تحت مصالحتی افسر کا کردار اہم ہے' یہ افسران کسی شکایت پر مرد کی کونسلنگ کریں گے' اس کونسلنگ پر مرد کو تشدد کے مضمرات سے آگاہ کیا جائے گا' پھر بھی مرد نے تشدد جاری رکھا تو اس شخص کے خلاف امتناعی کارروائی ہو گی' اس قانون کے تحت جھوٹی رپورٹ درج کرنے پر 3 ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔


گھریلو تشدد کی روایت کافی قدیم ہے' دیہی علاقوں میں گھریلو خواتین پر تشدد کو مرد کی بہادری سے تعبیر کیا جاتا ہے' گھریلو تشدد کے خطرناک نتائج بر آمد ہوتے ہیں' خاندان میں بچوں کے سامنے ماں پر تشدد سے ان کی شخصیت پر خامیاں پیدا ہو جاتی ہیں' خاص طور پر لڑکیوں کی شخصیت میں توڑ پھوڑ ہو جاتی ہے۔ یہ لڑکیاں خود ماں بنتی ہیں تو یہ تشدد نئی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے اور اگلی نسل نفسیاتی دباؤ اور دوسری بیماریوں کے ساتھ وجود میں آتی ہے۔

ممتاز صحافی اور ادیب منو بھائی نے ایک اخباری انٹرویو میں بتایا کہ بچپن میں ان کے والد نے ان کے سامنے والدہ پر تشدد کیا تھا، تو وہ اتنے خوفزدہ ہوئے کہ بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھے' ان کی زبان پر لکنت آ گئی' آج بھی انھیں بولنے میں مشکل ہوتی ہے' حکومت نے ایک بہتر قانون کے ذریعے اس سماجی برائی کے تدارک کی کوشش کی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اراکین کی اکثریت نے اس بل کی حمایت کی' یوں ایک بہتر قانون تیار ہوا ' مگر اس قانون کے خلاف مہم شروع ہوئی' مولانا فضل الرحمن نے پنجاب اسمبلی کے اراکین کی توہین کرتے ہوئے انھیں زن مرید قرار دیا اور مردوں کے حقوق کے لیے قانون سازی کا اعلان کیا۔

دوسرے لفظوں میں مولانا فضل الرحمن نے خواتین پر تشدد کو درست قرار دیا' تشدد کی ہر شکل معاشرے کے لیے خطرناک ہے مگر گھروں میں خواتین اور بچیوں پر ذہنی اور جسمانی تشدد کے خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں' ملک میں قانون نہ ہونے کی بناء پر خواتین تشدد کا شکار ہوتی ہیں' مگر انھیں داد رسی کا موقع نہیں مل پاتا' پہلے پاکستان پینل کورٹ کی دفعہ گھریلو تشدد کے مسئلے کا احاطہ کرتی تھیں' اس قانون کے ذریعے خواتین کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔

اس قانون کے نفاذ کے ساتھ پاکستانی خاتون شرمین عبید چنائے کی کاروکاری جیسے مذموم جرم کے خلاف تیار کی جانے والی دستاویزی فلم کو بین الاقوامی آسکر ایوارڈ ملا ' ڈاکومینٹری ان خواتین کے حالات زندگی پر مبنی ہے جو کاروکاری جیسی موذی روایت کا شکار ہوئیں' جیل میں بند ایک ایسے مرد کا انٹرویو اس ڈاکومینٹری میں شامل ہے، جس نے اپنی بہن کو قتل کیا تھا۔

دنیا کا کوئی مذہب بھی کسی انسان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا' شرمین نے اس موضوع پر دستاویزی فلم بنا کر دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بلند کیا ہے' بعض رجعت پسند ذہن رکھنے والے افراد کو جن میں بعض خودساختہ دانشور بھی شامل ہیں' یہ فلم پسند نہیں ہے' وہ ذہنی طور پر غیرت کے نام پر قتل کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس فلم کے ذریعے ایک ایسی برائی کو آشکار کیا گیا ہے کہ جس پر رائے عامہ کو تبدیل کیے بغیر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر پنجاب اسمبلی کا قانون اور شرمین کی دستاویزی فلم ایک اچھا تحفہ ہے' باقی صوبوں کو اس قانون سے فائدہ اٹھانا چاہیے' مولانا فضل الرحمن کو وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونا چاہیے' پیپلز پارٹی اور دوسری لبرل جماعتوں کو اس قانون کی حمایت کرنی چاہیے، اگر رجعت پسند خواتین کو تشدد سے بچانے کے قانون میں تبدیلی میں کامیاب ہو گئے تو مہذب معاشرے کی شکست ہو گی۔
Load Next Story