پاکستانی ٹیم کو سیکیورٹی فراہم کرنا بھارت کا فرض ہے
پاکستانی ٹیم کو سیکیورٹی دینا بھارتی حکومت کی ذمے داری ہے اور اس معاملے میں بھارتی حکومت کو اپنی رٹ ثابت کرنی چاہیے
بھارتی حکومت کو انتہاپسندوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے سیکیورٹی کا بندوبست کرنا چاہیے۔ فوٹو؛ فائل
ISLAMABAD:
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جائزہ ٹیم بھارت بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن سے رابطے کر کے بھارت میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی موثر حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے انھیں سیکیورٹی ایشوز بالخصوص پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت کے دوران سیکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے وزارت داخلہ سے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بھارت جانے یا نہ جانے کے بارے میں فیصلہ جائزہ ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا اور یہ کہ سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بغیر ٹیم بھارت نہیں جائے گی۔
پاکستانی ٹیم کو سیکیورٹی دینا بھارتی حکومت کی ذمے داری ہے اور اس معاملے میں بھارتی حکومت کو اپنی رٹ ثابت کرنی چاہیے البتہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے بھارت جانے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی کی ضمانت طلب کرنے کی ہدایت اس بنیاد پر انتہائی ضروری ہے کیونکہ بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ نے دھرم شالا میں ہونے والے کرکٹ میچ کی سیکیورٹی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت میں پاکستان مخالف جذبات کو ایک منصوبے کے تحت ہوا دی جا رہی ہے۔
پاکستان سے وہاں جانے والے فنکاروں کی تقریبات کو الٹا دیا جاتا ہے اور انھیں خوامخواہ پریشان کیا جاتا ہے، ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی فول پروف سکیوٹی کی یقین دہانی کا اہتمام کرنا بے حد ضروری ہے جس کی وزیر اعظم ضمانت چاہتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اس ماہ بھارت جانا ہے۔ بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی شروع ہونے جا رہا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری ٹیم کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
اس وقت بھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے لیکن اس کی طنابیں راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہاتھ میں ہیں جو اپنے متعصب رویے کے باعث پہچانی جاتی ہے اور ملک میں ہندو توا کے فلسفے کا پرچار کرتی ہے۔ ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کا انہدم بھی آر ایس ایس کا مذموم کارنامہ ہے۔ بھارت میں انتہاپسند سیاست دان اور میڈیا بھارتی عوام کو مشتعل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ خصوصاً بھارتی میڈیا کا کردار انتہائی منفی ہے۔ پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے بھی بھارتی میڈیا نے منفی کردار اداکیا۔بھارتی انتہاپسندوں کی کوشش ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے بھارت نہ آئے۔
بھارت میں ایسے بااثر لوگوں کی کمی نہیں ہے جو چاہتے ہیں کہ پاکستان کی کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو یہ رویہ بھارت کے لیے بھی بدنامی کا باعث ہے۔ اس کا نقصان بالآخر بھارت کو بھی ہو گا۔ پوری دنیا میں بھارت کا سیکولر امیج خراب ہو رہا ہے۔ اسی دوران ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کی درخواست پر پاکستانی ٹیم کو پیراملٹری فورسز کی سیکیورٹی فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔
راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ نے درخواست کی تو پاکستانی ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کر دی جائے گی، 19 مارچ کو دھرم شالا میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پیرا ملٹری فورسز تعینات ہوں گی۔
بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا میچ شیڈول کے مطابق ہو گا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدیدار اور آئی پی ایل چیئرمین راجیو شکلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سے بات ہو گئی ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ انتہاپسندوں کی کوشش یہ ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت میں نہ کھیل سکے۔ اگر ان کی یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاک بھارت متوقع مذاکرات پر بھی پڑیں گے۔
بھارت کی حکومت اور بھارت کی سیکولر سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے آواز بلند کرنی چاہیے۔ کھیل میں تعصب اور نفرت کا زہر گھولنے والوں کو شکست دینا اس خطے کی تعمیر وترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جب پاک بھارت میچ ہوتا ہے تو اسٹیڈیم میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ ان دونوں ٹیموں کو آپس میں کھیلتا دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ بھارت میں دیگر ٹیمیں میچ کھیل سکتی ہیں، وہاں آئی پی ایل بھی ہو سکتا ہے، پاکستان کی ہاکی ٹیم بھی پچھلے دنوں میچ کھیل کر آئی ہے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم میچ کیوں نہیں کھیل سکتی۔ بھارتی حکومت کو انتہاپسندوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے سیکیورٹی کا بندوبست کرنا چاہیے۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جائزہ ٹیم بھارت بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن سے رابطے کر کے بھارت میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی موثر حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے انھیں سیکیورٹی ایشوز بالخصوص پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت کے دوران سیکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے وزارت داخلہ سے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بھارت جانے یا نہ جانے کے بارے میں فیصلہ جائزہ ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا اور یہ کہ سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بغیر ٹیم بھارت نہیں جائے گی۔
پاکستانی ٹیم کو سیکیورٹی دینا بھارتی حکومت کی ذمے داری ہے اور اس معاملے میں بھارتی حکومت کو اپنی رٹ ثابت کرنی چاہیے البتہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے بھارت جانے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی کی ضمانت طلب کرنے کی ہدایت اس بنیاد پر انتہائی ضروری ہے کیونکہ بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ نے دھرم شالا میں ہونے والے کرکٹ میچ کی سیکیورٹی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت میں پاکستان مخالف جذبات کو ایک منصوبے کے تحت ہوا دی جا رہی ہے۔
پاکستان سے وہاں جانے والے فنکاروں کی تقریبات کو الٹا دیا جاتا ہے اور انھیں خوامخواہ پریشان کیا جاتا ہے، ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی فول پروف سکیوٹی کی یقین دہانی کا اہتمام کرنا بے حد ضروری ہے جس کی وزیر اعظم ضمانت چاہتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اس ماہ بھارت جانا ہے۔ بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی شروع ہونے جا رہا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری ٹیم کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
اس وقت بھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے لیکن اس کی طنابیں راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہاتھ میں ہیں جو اپنے متعصب رویے کے باعث پہچانی جاتی ہے اور ملک میں ہندو توا کے فلسفے کا پرچار کرتی ہے۔ ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کا انہدم بھی آر ایس ایس کا مذموم کارنامہ ہے۔ بھارت میں انتہاپسند سیاست دان اور میڈیا بھارتی عوام کو مشتعل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ خصوصاً بھارتی میڈیا کا کردار انتہائی منفی ہے۔ پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے بھی بھارتی میڈیا نے منفی کردار اداکیا۔بھارتی انتہاپسندوں کی کوشش ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے بھارت نہ آئے۔
بھارت میں ایسے بااثر لوگوں کی کمی نہیں ہے جو چاہتے ہیں کہ پاکستان کی کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو یہ رویہ بھارت کے لیے بھی بدنامی کا باعث ہے۔ اس کا نقصان بالآخر بھارت کو بھی ہو گا۔ پوری دنیا میں بھارت کا سیکولر امیج خراب ہو رہا ہے۔ اسی دوران ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کی درخواست پر پاکستانی ٹیم کو پیراملٹری فورسز کی سیکیورٹی فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔
راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ نے درخواست کی تو پاکستانی ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کر دی جائے گی، 19 مارچ کو دھرم شالا میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پیرا ملٹری فورسز تعینات ہوں گی۔
بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا میچ شیڈول کے مطابق ہو گا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدیدار اور آئی پی ایل چیئرمین راجیو شکلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سے بات ہو گئی ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ انتہاپسندوں کی کوشش یہ ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت میں نہ کھیل سکے۔ اگر ان کی یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاک بھارت متوقع مذاکرات پر بھی پڑیں گے۔
بھارت کی حکومت اور بھارت کی سیکولر سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے آواز بلند کرنی چاہیے۔ کھیل میں تعصب اور نفرت کا زہر گھولنے والوں کو شکست دینا اس خطے کی تعمیر وترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جب پاک بھارت میچ ہوتا ہے تو اسٹیڈیم میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ ان دونوں ٹیموں کو آپس میں کھیلتا دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ بھارت میں دیگر ٹیمیں میچ کھیل سکتی ہیں، وہاں آئی پی ایل بھی ہو سکتا ہے، پاکستان کی ہاکی ٹیم بھی پچھلے دنوں میچ کھیل کر آئی ہے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم میچ کیوں نہیں کھیل سکتی۔ بھارتی حکومت کو انتہاپسندوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے سیکیورٹی کا بندوبست کرنا چاہیے۔