پرانے کراچی کی یادیں

پروٹوکول کی گاڑی جو ایک جھنڈے والی کار کے پیچھے چل رہی ہے

zahedahina@gmail.com

پروٹوکول کی گاڑی جو ایک جھنڈے والی کار کے پیچھے چل رہی ہے اس کے ہوٹر کے شور سے کان سن ہو چکے ہیں۔ ہمارا چند گھنٹوں میں یہ حال ہو چکا ہے، سوچنے کی بات ہے کہ ان کی سننے کی صلاحیت کتنی کم ہو جاتی ہو گی جو دو چار برس اقتدار کی اس شہنائی کو صبح شام سنتے ہوں گے۔

یہ پروٹوکول برادرم عرفان صدیقی کو دیا جا رہا ہے۔ اب سے کچھ دنوں پہلے وہ ہمارے صف اول کے کالم نگار تھے۔ کوثر و تسنیم میں دُھلی ہوئی زبان، قلم ان کا موتی رولتا تھا اور اب کچھ دنوں سے علم و ادب اور ثقافتی ورثے کے معاملات کے لیے وزیر اعظم کے مشیر ہیں۔ ادیب ہیں، ادب دوست ہیں اور انھیں اپنی برادری کے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا خوش آتا ہے۔ وہ تین دن کے لیے کراچی آئے تو نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی انعام الحق جاوید بھی ان کے ساتھ تھے۔

انعام الحق جاوید این بی ایف سے وابستگی کے بعد پہلی مرتبہ کراچی آئے تو انھوں نے پاکستان ٹیلی وژن اسٹیشن اور لیاقت میموریل لائبریری سے متصل جھاڑ جھنکاڑ سے بھری ہوئی بے آب و گیاہ زمین ہم سب کو دکھائی تھی، جو فاؤنڈیشن کے کراچی آفس کی ملکیت تھی۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یہاں ایک کتاب گھر کھولیں گے۔ اگلی مرتبہ آئے تو جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوا اور ایک نیا کتاب گھر ہمارا منتظر تھا اور اب اس مرتبہ انھوں نے عرفان صدیقی صاحب کے ہاتھوں این بی ایف بک پارک کے قیام کی طرف اگلا قدم اٹھایا۔

این بی ایف، اسلام آباد میں قائم ہونے والا کتابوں کا عجائب گھر پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد بُک میوزیم ہے، جو مارچ 2015ء سے عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ پچھلے برس جب میں اسلام آباد گئی تو اس کی سیر کی تھی، اس میں دیگر بہت سے تاریخی نوادرات کے علاوہ قدیم مخطوطے اور قرآن کے قدیم قلمی نسخے رکھے گئے ہیں۔

پروفیسر زاہد بٹ صاحب نے اس میوزیم کے لیے سونے کے پانی اور جواہرات کی روشنائی سے مزین ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کے نادر و نایاب قرآن کے نسخے نذر کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پتھر کے زمانے کی عکاس پتھریلی کتابیں، پیپرس، چمڑے اور لکڑی کی تختیوں اور کتاب سازی کے حوالے سے قدیم ترین ادوار سے لے کر اب تک کی پیش رفت کے نمونے، قدیم مخطوطات، بُک کلاک اور ''وال آف آنر'' بھی اس میوزیم کا حصہ ہیں۔ 18 ٹن کے پتھر کو تراش کر بنائی جانے والی وہ کتاب بھی نیشنل بُک میوزیم میں دیکھنے دکھانے کی چیز ہے جو اپنے حجم اور وزن کے اعتبار سے ایشیا میں پتھر کی واحد چٹان سے تراشی جانے والی سب سے بڑی کتاب ہے۔

یہ 2016ء ہے۔ 2014ء کے آخری دنوں میں جب انعام الحق جاوید نے این بی ایف کی باگ ڈور سنبھالی تو 2015ء کے 8 مہینوں میں فاؤنڈیشن نے 126 نئی کتابیں شایع کیں جن میں سے بعض کے تیسرے اور چوتھے ایڈیشن بھی آ چکے۔ انھوں نے 2015ء کا 365 اوراق کا ایک غزل کیلنڈر شایع کیا جس کی تقلید میں بعض دوسرے اداروں نے بھی ایسے کیلنڈر شایع کیے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ اردو کی مشہور اور مستند لغت ''نور اللغات'' کی اشاعت ہے۔ یہ لغت جو ایک اشاعتی ادارہ اپنے خریداروں کو مبلغ سات ہزار روپے میں دے رہا تھا، اسے فاؤنڈیشن نے 2 جلدوں میں شایع کیا اور اس کی قیمت صرف 900 روپے رکھی۔

بات شروع ہوئی تھی عرفان صدیقی کے ذکر سے جو یوں تو اس وقت وزیر اعظم کے مشیر برائے ثقافت اور قومی ورثہ ہیں لیکن ان کا بنیادی وصف ان کا ادیب ہونا ہے۔ وہ ادیب ہیں، ادب دوست ہیں، کمال کی نثر لکھتے ہیں، کتابوں اور ادب کے عشق میں گرفتار ہیں۔ چند دنوں پہلے وہ کراچی آئے تو جناب مشتاق احمد یوسفی اور جناب جمیل جالبی کی عیادت کے لیے گئے۔

جس نیاز مندی سے وہ اپنے ان بڑے ادیبوں سے ملے وہ دیدنی تھا۔ مرحوم لطف اللہ خان نے آوازوں کا جو سرمایہ اکٹھا کیا تھا وہ کراچی والوں کے لیے سرمایہ افتخار ہے لیکن فی الحال ان کی بیگم صاحبہ کے سوا کوئی اور اس کا والی وارث نہیں، اس طرف ڈاکٹر فاطمہ حسن نے ان کی توجہ مبذول کرائی۔ وہ اسے دیکھنے گئے، متاثر ہوئے اور امید یہی ہے کہ اس کا بھی کچھ نہ کچھ ہو رہے گا۔


عرفان صدیقی اس عزم سے آئے تھے کہ کراچی میں جو علمی اور ادبی ادارے 'ہر چند کہیں کہ ہیں، نہیں ہیں' کی تصویر بنے ہوئے ہیں ان کو نیند سے جگا دیا جائے۔ تین دنوں کے اندر انھوں نے قائداعظم اکیڈمی، اردو لغت بورڈ، اور کئی دوسرے اداروں کا پھیرا لگایا۔ انجمن ترقی اردو کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں شرکت کی، این بی ایف کے بک پارک کا افتتاح کیا لیکن یہ ان کی سرکاری مصروفیات تھیں۔

انھوں نے جس عزت و تکریم کے ساتھ جناب مشتاق احمد یوسفی اور جناب جمیل جالبی کی عیادت کی اور ان کے ساتھ وقت گزارا، اس سے علم و ادب سے ان کی ذاتی دلچسپی کا اندازہ ہوتا تھا۔ یوسفی صاحب ہمارے ادب کی ایک زندہ روایت ہیں۔ ان کی خدمت میں انھوں نے اپنی ایک کتاب نذر کی اور ان کے جملوں کی داد دیتے رہے۔

یوسفی صاحب اپنی عمر کے حساب سے آج بھی چاق چوبند ہیں۔ یادداشت بھی اچھی ہے اور پُرلطف جملوں پر شرارت آمیز انداز میں مسکراتے ہیں، جب کہ جمیل جالبی صاحب جنھوں نے اپنا علمی اور ادبی سفر سہ ماہی 'نیا دور' کی درپردہ ادارت اور تحقیق کے میدان میں بیدر کے فخر الدین نظامی کی مثنوی، کدم راؤ، پدم راؤ، کی پڑھت سے شروع کیا تھا وہ ٹی ایس ایلیٹ کے مضامین کے ترجمے، 4 ضخیم جلدوں پر مشتمل تاریخ ادب اردو، پاکستانی کلچر اور لگ بھگ 4 درجن علمی اور ادبی کتابوں کی تدوین و ترتیب کے کٹھن مرحلوں سے گزرے اور اب عالم یہ ہے کہ ایک زندہ تصویر بن چکے ہیں۔

وہ وہیل چیئر پر بیٹھے تھے، نم آنکھوں میں گزری ہوئی ہنگامہ خیز محفلوں کی بجھی ہوئی راکھ تھی۔ ایک زمانہ تھا کہ ان کا گھر شہر اور باہر سے آنے والے ادیبوں کا مسکن و مامن تھا۔ بیگم جالبی کی پُرتکلف دعوتیں اور جالبی صاحب کی ادبی محفلیں۔ قرۃالعین حیدر کا مشہور ناولٹ 'سیتا ہرن'، 'نیا دور' میں شایع ہوا تھا اور چند دنوں میں ہی وہ شمارہ نایاب ہو گیا تھا۔ اس پر چے کا 'ن م راشد نمبر'، عزیز احمد کا 'جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں'۔

یہ وہ تحریریں تھیں جنھوں نے 'نیا دور' کو ذی وقار بنا دیا تھا۔ پڑھنے والے اس کا انتظار کرتے تھے اور نئے لکھنے والے اس میں شایع ہونے پر اتراتے تھے۔ کیسے سہانے دن تھے۔ میں جالبی صاحب کا ہاتھ تھامے بیٹھی رہی اور میری آنکھوں میں جمیلہ ہاشمی، ابوالفضل صدیقی، ادا جعفری، ہاجرہ مسرور اور نہ جانے کس کس کے چہرے اپنی جھلکیاں دکھاتے رہے، مجھے گئے دنوں کا شہر کراچی یاد آتا رہا۔ یہ اچھا ہے کہ وہ اپنے بیٹے خاور جمیل کی نگرانی میں ہیں۔

ہم وہاں سے مرحوم لطف اللہ خان کے مکان پر گئے۔ بیگم زاہدہ لطف اللہ چند دنوں بعد امریکا یا کینیڈا کے سفر پر روانہ ہونے والی تھیں اور فاطمہ حسن جو ان کی اور لطف اللہ خان کی منہ بولی بیٹی ہیں، وہ آواز کے اس نادر خزانے کی عرفان صدیقی کو زیارت کرانا چاہتی تھیں، جس کی اگر سرکار نے یا کسی دیالو دھنوان ادارے نے سرپرستی نہ کی تو لطف اللہ صاحب کی 60 برس کی محنت اکارت ہو جائے گی۔

اس خزانے میں شاعری، موسیقی، ادبی گفتگو اور مشاعروں کے علاوہ قائد اعظم، مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، ابوالکلام آزاد کے علاوہ ہٹلر، مسولینی، چرچل، جارج پنجم، ایڈورڈ ہشتم اور چیمبرلین کی تقریریں موجود ہیں۔ یہ آوازیں نادر و نایاب ہیں، انھیں محفوظ رہنا چاہیے۔ روشن آرا بیگم، سدھیشوری دیوی، مختار بیگم، گنگوبائی اور پنڈت جسراج۔ یہ آوازیں ہمارا تہذیبی سرمایہ ہیں، ان سے ہم صرفِ نظر نہیں کر سکتے۔ عرفان صدیقی حیران ہوتے رہے کہ ایک تنہا شخص اس نوعیت کا بے مثال کام کیسے کر سکتا ہے۔ مشفق خواجہ کا خزانہ کتب بھی زیر بحث آیا جو ان دنوں محفوظ کیے جانے کے مرحلوں سے گزر رہا ہے۔

عرفان صدیقی نے کراچی کا اپنا حالیہ سفر نیشنل بک فاؤنڈیشن کی عمارت سے شروع کیا تھا اور اسلام آباد روانہ ہونے سے پہلے شہر کے ادیبوں اور شاعروں سے وہیں رخصتی ملاقات کی۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن ہو، آکسفورڈ لٹریری فیسٹیول ہو، کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ہونے والی کتابوں کی نمائش ہو۔ یہ تمام محفل آرائیاں، ان میں شریک ہونے والے پانچ سات سال کے بچے اور بچیاں اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ یہ کتابوں کا جشن منانے کے دن ہیں۔ وہ سماج جس کا صرف ایک اشاعتی ادارہ ایک برس کے اندر کروڑوں کی کتابیں فروخت کرتا ہو، وہاں روشن خیالی اور رواداری کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
Load Next Story