5دن میں11 افراد دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے 3واقعات کے مقدمات درج

3 نومبر کی شب دائودی بوہرا جماعت کے 2 افراد شبیر اور مرتضیٰ کو قتل اور حاتم کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا تھا

3 نومبر کی شب دائودی بوہرا جماعت کے 2 افراد شبیر اور مرتضیٰ کو قتل اور حاتم کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا تھا فوٹو: فائل

حیدرآباد میں 5 روز کے دوران دہشت گردی کے 7مختلف واقعات میں 11 افراد جاں بحق ہوئے، پولیس نے اب تک صرف 3 کے مقدمات درج کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 3 نومبر کی شب دائودی بوہرا جماعت کے 2 افراد شبیر اور مرتضیٰ کو قتل اور حاتم کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا تھا ، 6نومبر کی شب دوبارہ دائودی بوہرہ جماعت کو ٹارگٹ بنایا گیا اور علی اصغر اور مصطفیٰ کو رسالہ روڈ پر قتل کر دیا گیا۔ دونوں وارداتوں کا کینٹ پولیس نے تاحال مقدمہ نہیں کیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فریادی کیس داخل کروانے نہیں آئے۔ 3 نومبرکی رات پھلیلی تھانے کی حد نشاط چوک پر سابق حق پرست تحصیل ناظم جلیل الرحمان کو قتل اور ان کے ساتھی شبیر عرف شیرو کو زخمی کر دیا گیا۔


اس واقعہ کے 4 روز بعد پولیس نے 4 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ، جب کہ اس کیس میں گرفتار کالعدم تنظیم کے کارکن عمران کمانڈو کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ 4 نومبر کی شب حیدر چوک پر بزم مناقب غوث الوریٰ کے دفتر میں فائرنگ سے غوث الوریٰ کے سربراہ مصطفی کمال، ان کے ساتھی شکیل میمن، کاشف قادری جان بحق اور رضوان، عمران اور مقبول زخمی ہو گئے جن کی ایف آئی آر سٹی تھانے میں درج کی گئیجب کہ پولیس نے شبہے میں 11 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

جن کی شناخت کے لیے ایک زخمی کو طلب کیا ۔5 نومبر کو ڈیوٹی پر مامور مکی شاہ تھانے کے ہیڈ کانسٹیبل محمد عثمان نے دو موٹر سائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کی جن کی اندھا دھند فائرنگ سے محمد عثمان جاں بحق ہو گیا، اس قتل کا مقدمہ دو نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ 6نومبر کو پنھور گوٹھ میں نوجوان منور راجڑ کو قتل کر دیاگیا جس کا مقدمہ درج نہیں کرایا گیا۔ اسی روز قومی شاہراہ پر ایک ہوٹل پرمسلح افراد نے فائرنگ کر کے عبدالرحمان پٹھان کو قتل کردیا تھا جس کا مقدمہ بھی درج نہیں کیا جا سکا ۔
Load Next Story