پروپیگنڈا ازم اور ایڈہاک ازم
جس ملک، جس معاشرے میں قومی امور اور اہم قومی مسائل کے حل میں صاحب الرائے مدبرین کے مشورے شامل نہیں ہوتے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
جس ملک، جس معاشرے میں قومی امور اور اہم قومی مسائل کے حل میں صاحب الرائے مدبرین کے مشورے شامل نہیں ہوتے، ایسے ملکوں میں نہ صرف قومی مسائل حل نہیں ہو سکتے بلکہ ان کی سنگینی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دنیا کے مدبرین نے شخصی حکمرانوں کے فیصلوں کو رد کرتے ہوئے جس جمہوری نظام کو متعارف کرایا، وہ حقیقی معنوں میں شخصی حکمرانی کے دور سے بھی بدتر ثابت ہو رہا ہے۔
شخصی حکمرانی کی تاریخ میں بعض حکمران ایسے بھی نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنے تدبر کی بدولت عوام کو ایسی سہولتیں فراہم کیں، ان کے مسائل اس طرح حل کیے کہ جمہوری ادوار میں بھی ان کی مثال نہیں مل سکتی۔ بلاشبہ جمہوری نظام میں عوام کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ حکومت اور قانون سازی کے لیے اپنے نمایندے منتخب کریں لیکن جن ملکوں، جن معاشروں میں شرح خواندگی 50 فیصد سے کم ہو اور ان میں بھی اکثریت سیاسی شعور سے نابلد اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہو اور اپنے نمایندے میرٹ کے بجائے مختلف قسم کے تعصبات اور تحفظات کے حوالوں سے منتخب کرتے ہوں، ایسے ملکوں میں پورا معاشرہ مسائل کے انبار میں دبا رہتا ہے، جن کی بہترین مثال پاکستان ہے۔
پاکستان کے اہل قلم، اہل دانش کی عقل و فہم کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی حکمران عوامی مسائل یا قومی ترقی کے نام پر کوئی بھاری رقوم والے پروگرام شروع کر دے تو اس کی افادیت اور مقاصد سے قطع نظر ان پروگراموں کی تعریف و توصیف اس شدت سے شروع کر دیتے ہیں کہ ماضی کے قصیدہ گو شعرا بھی ان کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں، بلکہ بعض سرکاری دانشور اس حوالے سے اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ عقل سے پیدل حکمرانوں کو مدبر اعظم کہنے لگ جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں حکمران طبقات کو اس بات کا علم ہے کہ کون سے کاموں سے پبلسٹی مل سکتی ہے اور عوام کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت اس حوالے سے بڑی زیرک ہے، اس کے ''مشیران'' اچھی طرح جانتے ہیں کہ عوامی نفسیات پر اثرانداز ہونے کے لیے کیسے کام کیے جانے چاہئیں۔
پچھلے دو ڈھائی سال کے دوران ٹرانسپورٹ کی سہولت کے حوالے سے اورنج، گرین، یلو ٹائپ کی کئی اسکیموں پر کام ہوا اور اہل قلم کی طرف سے ان کارناموں کی خوب تعریف بھی کی گئی۔ بلاشبہ اس قسم کے رفاہی کاموں سے عوام کو کچھ سہولت حاصل ہو جاتی ہے لیکن اصل عوامی مسائل جیسے کے ویسے رہ جاتے ہیں۔ لاہور، اسلام آباد وغیرہ کے بعد کراچی میں گرین بس سروس کا افتتاح کر دیا گیا اور بھرپور طریقے سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس گرین بس سروس سے کراچی کے عوام کے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل ہو جائیں۔
سرکاری اعلانات کے مطابق اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد کراچی کے تین لاکھ شہری اس سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہو جائیں گے۔ کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ڈھائی کروڑ کی آبادی میں کسی بڑے منصوبے سے اگر دو تین لاکھ عوام کو فائدہ ہوتا ہے تو یہ مسئلے کا حل تو نہ ہوا البتہ اس کی پروپیگنڈا ویلیو سے انکار ممکن نہیں۔ لاہور، اسلام آباد وغیرہ میں ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے کے لیے جن منصوبوں پر عمل ہو رہا ہے کیا یہ منصوبے ان شہروں کے رہنے والے عوام کے مسائل حل کر پائے ہیں؟
کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبہ 30 سال سے سرد خانے میں ڈالا جا رہا ہے۔ کراچی دنیا کا واحد میٹرو پولیٹن ہے جو ماس ٹرانزٹ سسٹم سے محروم ہے۔ ماضی میں عالمی بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی مدد سے ماس ٹرانزٹ کے کئی منصوبے بنائے گئے تاہم کسی پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ 2005ء میں نئے شہری نظام کے تحت جاپان کے ادارے ''جائیکا'' اور دیگر اداروں نے بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کراچی سرکلر ریلوے کے احیا اور 4 ہزار نئی سی این جی بسوں کے منصوبے بنائے جو سرکاری فائلوں اور حکام کی نااہلیوں اور بدعنوانیوں میں دب کر رہ گئے۔
1988ء کے بعد سے ملک پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جمہوری حکومتیں ہی ''چل'' رہی ہیں۔ ان حکومتوں کو عوامی مسائل حل کرنے سے کس نے روکا تھا؟ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ عشروں سے جاری ہے، ہر آنے والی حکومت ماضی کی حکومت پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ماضی میں بھی سوائے پرویز دور کے یہی دو جماعتیں برسر اقتدار رہی ہیں۔
مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہو، بجلی گیس کا ہو، مہنگائی، بیروزگاری کا ہو یا جرائم کی بھرمار کا۔ یہ مسائل مستقل طور پر اس لیے حل نہیں ہو پاتے کہ ان مسائل کا حل ہماری جمہوری حکومتوں کی ترجیحات ہی میں شامل نہیں۔ جن حکومتوں کی ترجیحات میں لوٹ مار پہلی اور آخری ترجیح ہو وہ کبھی عوام کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں کر سکتیں۔ بس ''کام چلاؤ، پیسے بناؤ'' مہم کے تحت ہی سارے کام ہوتے ہیں۔
اس کلچر کے جاری رہنے اور مستحکم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ منتخب حکمرانوں کو عوام کے سامنے جواب دہی کا کوئی خوف نہیں۔ چونکہ انتخابات اشرافیہ کی سیاسی عیاشی بنے ہوئے ہیں اور صرف اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ہی کروڑوں اربوں کی سرمایہ کاری کر کے قانون ساز اداروں میں پہنچتے ہیں اور قانون ساز ادارے انھی لٹیروں سے بھرے ہوئے ہیں، لہٰذا ان سے عوام کے مسائل کے دیرپا حل کی توقع بے کار ہے۔ اشرافیہ محض کمپنی کی مشہوری اور بینک بیلنس میں اضافے کو ہی پیش نظر رکھتی ہے۔ سو مسائل کے وقتی اور نامکمل حل ہی تلاش کیے جاتے رہیں گے۔
پاکستان میں درمیانے طبقے پر مشتمل ایسی کئی پارٹیاں موجود ہیں جو صدق دل سے اس ملک کے عوام کے مسائل دیرپا بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہیں، ان پارٹیوں میں ایسے مخلص اور صاحب الرائے لوگ موجود ہیں جو عوام کے مسائل کا ادراک بھی رکھتے ہیں اور انھیں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لیکن ان طاقتوں کو کبھی ریاستی مشینری سے دبا دیا گیا اور کبھی ان کے خلاف لادینیت کا امریکی حربہ استعمال کر کے انھیں عوام سے دور کرنے کی کوشش کی گئی۔
میں یہاں تک لکھ پایا تھا کہ پنجاب کے دور دراز علاقے پکا کھوکا سے ہمارے ایک باشعور قاری نثار احمد کا فون آیا۔ نثار بھی یہی ماتم کر رہے تھے جس کا ذکر ہم اپنے کالموں میں کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران عالمی استحصالی طاقتوں کے تنخواہ دار ہیں اور جب تک یہ عوام کے سروں پر سوار رہیں گے ہر کام ایڈہاک ازم اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر ہوتا رہے گا، جہاں طاقت ہی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے وہاں عوام ہمیشہ مسائل میں دبے رہتے ہیں۔
شخصی حکمرانی کی تاریخ میں بعض حکمران ایسے بھی نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنے تدبر کی بدولت عوام کو ایسی سہولتیں فراہم کیں، ان کے مسائل اس طرح حل کیے کہ جمہوری ادوار میں بھی ان کی مثال نہیں مل سکتی۔ بلاشبہ جمہوری نظام میں عوام کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ حکومت اور قانون سازی کے لیے اپنے نمایندے منتخب کریں لیکن جن ملکوں، جن معاشروں میں شرح خواندگی 50 فیصد سے کم ہو اور ان میں بھی اکثریت سیاسی شعور سے نابلد اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہو اور اپنے نمایندے میرٹ کے بجائے مختلف قسم کے تعصبات اور تحفظات کے حوالوں سے منتخب کرتے ہوں، ایسے ملکوں میں پورا معاشرہ مسائل کے انبار میں دبا رہتا ہے، جن کی بہترین مثال پاکستان ہے۔
پاکستان کے اہل قلم، اہل دانش کی عقل و فہم کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی حکمران عوامی مسائل یا قومی ترقی کے نام پر کوئی بھاری رقوم والے پروگرام شروع کر دے تو اس کی افادیت اور مقاصد سے قطع نظر ان پروگراموں کی تعریف و توصیف اس شدت سے شروع کر دیتے ہیں کہ ماضی کے قصیدہ گو شعرا بھی ان کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں، بلکہ بعض سرکاری دانشور اس حوالے سے اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ عقل سے پیدل حکمرانوں کو مدبر اعظم کہنے لگ جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں حکمران طبقات کو اس بات کا علم ہے کہ کون سے کاموں سے پبلسٹی مل سکتی ہے اور عوام کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت اس حوالے سے بڑی زیرک ہے، اس کے ''مشیران'' اچھی طرح جانتے ہیں کہ عوامی نفسیات پر اثرانداز ہونے کے لیے کیسے کام کیے جانے چاہئیں۔
پچھلے دو ڈھائی سال کے دوران ٹرانسپورٹ کی سہولت کے حوالے سے اورنج، گرین، یلو ٹائپ کی کئی اسکیموں پر کام ہوا اور اہل قلم کی طرف سے ان کارناموں کی خوب تعریف بھی کی گئی۔ بلاشبہ اس قسم کے رفاہی کاموں سے عوام کو کچھ سہولت حاصل ہو جاتی ہے لیکن اصل عوامی مسائل جیسے کے ویسے رہ جاتے ہیں۔ لاہور، اسلام آباد وغیرہ کے بعد کراچی میں گرین بس سروس کا افتتاح کر دیا گیا اور بھرپور طریقے سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس گرین بس سروس سے کراچی کے عوام کے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل ہو جائیں۔
سرکاری اعلانات کے مطابق اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد کراچی کے تین لاکھ شہری اس سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہو جائیں گے۔ کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ڈھائی کروڑ کی آبادی میں کسی بڑے منصوبے سے اگر دو تین لاکھ عوام کو فائدہ ہوتا ہے تو یہ مسئلے کا حل تو نہ ہوا البتہ اس کی پروپیگنڈا ویلیو سے انکار ممکن نہیں۔ لاہور، اسلام آباد وغیرہ میں ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے کے لیے جن منصوبوں پر عمل ہو رہا ہے کیا یہ منصوبے ان شہروں کے رہنے والے عوام کے مسائل حل کر پائے ہیں؟
کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبہ 30 سال سے سرد خانے میں ڈالا جا رہا ہے۔ کراچی دنیا کا واحد میٹرو پولیٹن ہے جو ماس ٹرانزٹ سسٹم سے محروم ہے۔ ماضی میں عالمی بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی مدد سے ماس ٹرانزٹ کے کئی منصوبے بنائے گئے تاہم کسی پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ 2005ء میں نئے شہری نظام کے تحت جاپان کے ادارے ''جائیکا'' اور دیگر اداروں نے بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کراچی سرکلر ریلوے کے احیا اور 4 ہزار نئی سی این جی بسوں کے منصوبے بنائے جو سرکاری فائلوں اور حکام کی نااہلیوں اور بدعنوانیوں میں دب کر رہ گئے۔
1988ء کے بعد سے ملک پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جمہوری حکومتیں ہی ''چل'' رہی ہیں۔ ان حکومتوں کو عوامی مسائل حل کرنے سے کس نے روکا تھا؟ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ عشروں سے جاری ہے، ہر آنے والی حکومت ماضی کی حکومت پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ماضی میں بھی سوائے پرویز دور کے یہی دو جماعتیں برسر اقتدار رہی ہیں۔
مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہو، بجلی گیس کا ہو، مہنگائی، بیروزگاری کا ہو یا جرائم کی بھرمار کا۔ یہ مسائل مستقل طور پر اس لیے حل نہیں ہو پاتے کہ ان مسائل کا حل ہماری جمہوری حکومتوں کی ترجیحات ہی میں شامل نہیں۔ جن حکومتوں کی ترجیحات میں لوٹ مار پہلی اور آخری ترجیح ہو وہ کبھی عوام کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں کر سکتیں۔ بس ''کام چلاؤ، پیسے بناؤ'' مہم کے تحت ہی سارے کام ہوتے ہیں۔
اس کلچر کے جاری رہنے اور مستحکم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ منتخب حکمرانوں کو عوام کے سامنے جواب دہی کا کوئی خوف نہیں۔ چونکہ انتخابات اشرافیہ کی سیاسی عیاشی بنے ہوئے ہیں اور صرف اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ہی کروڑوں اربوں کی سرمایہ کاری کر کے قانون ساز اداروں میں پہنچتے ہیں اور قانون ساز ادارے انھی لٹیروں سے بھرے ہوئے ہیں، لہٰذا ان سے عوام کے مسائل کے دیرپا حل کی توقع بے کار ہے۔ اشرافیہ محض کمپنی کی مشہوری اور بینک بیلنس میں اضافے کو ہی پیش نظر رکھتی ہے۔ سو مسائل کے وقتی اور نامکمل حل ہی تلاش کیے جاتے رہیں گے۔
پاکستان میں درمیانے طبقے پر مشتمل ایسی کئی پارٹیاں موجود ہیں جو صدق دل سے اس ملک کے عوام کے مسائل دیرپا بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہیں، ان پارٹیوں میں ایسے مخلص اور صاحب الرائے لوگ موجود ہیں جو عوام کے مسائل کا ادراک بھی رکھتے ہیں اور انھیں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لیکن ان طاقتوں کو کبھی ریاستی مشینری سے دبا دیا گیا اور کبھی ان کے خلاف لادینیت کا امریکی حربہ استعمال کر کے انھیں عوام سے دور کرنے کی کوشش کی گئی۔
میں یہاں تک لکھ پایا تھا کہ پنجاب کے دور دراز علاقے پکا کھوکا سے ہمارے ایک باشعور قاری نثار احمد کا فون آیا۔ نثار بھی یہی ماتم کر رہے تھے جس کا ذکر ہم اپنے کالموں میں کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران عالمی استحصالی طاقتوں کے تنخواہ دار ہیں اور جب تک یہ عوام کے سروں پر سوار رہیں گے ہر کام ایڈہاک ازم اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر ہوتا رہے گا، جہاں طاقت ہی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے وہاں عوام ہمیشہ مسائل میں دبے رہتے ہیں۔