دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی ضرورت
اگردونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوشش کریں تو اس سے دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے
پاکستان اور بھارت مشترکہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی طے کریں۔ فوٹو : فائل
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے بھارت میں دس خود کش بمبار کے داخلے کی خفیہ معلومات فراہم کی ہیں جس کے بعد گجرات کے تمام اضلاع میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ، اہم تنصیبات پر کمانڈوز تعینات کر دیے گئے اور کئی شہروں کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے ان اطلاعات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی کہ قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ نے بھارتی ہم منصب کو بھارت کی ریاست گجرات سمیت متعدد علاقوں میں دہشت گردی کے خطرہ سے آگاہ کیا ہے۔
تاہم ایسا کیا گیا ہے تو یہ مثبت قدم ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے بھارت سے ممبئی حملے کے تمام چوبیس گواہوں کو پاکستان بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ پاکستان میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران گواہی دے سکیں۔ اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت پہلے ہی تمام پاکستانی گواہوں کے بیان ریکارڈ کر چکی ہے اور اب گیند بھارتی حکومت کے کورٹ میں ہے۔
پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار بھارت کو دہشت گردی کے حوالے سے خفیہ معلومات فراہم کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذمے دار ریاست ہونے کے ناطے دہشت گردی کا ہر ممکن خاتمہ چاہتا ہے۔
خبروں کے مطابق یہ معلومات پاکستان کے مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے اپنے بھارتی ہم منصب کو فراہم کی ہیں جس کے مطابق دس دہشت گرد گجرات میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ ہندوؤں کے مذہبی تہوار مہاشیوا راتری کے موقع پر دہشت گردی کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ پاکستان خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ کر کے اسے مکمل طور پر پرامن بنانے کا خواہاں ہے لیکن کچھ انتہا پسند قوتیں ایسی ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کے اندر بھی دہشت گردی کی وارداتیں کر کے پورے خطے کی سلامتی کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔
پاکستان کی طرف سے بھارت کو پہلی بار دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کی خفیہ معلومات دینے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی بھارت کے بارے میں سوچ اور رویے میں واضح تبدیلی آ گئی ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ گزشتہ دنوں جب بھارت کے علاقے پٹھانکوٹ میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا تو بھارتی حکومت نے فوری طور پر یہ الزام لگایا کہ دہشت گرد پاکستان سے داخل ہوئے ہیں جس پر پاکستان نے بھارت کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے سانحے کی تحقیقات شروع کر دی۔
اب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے معلومات کے تبادلے کی ابتدا ہوئی ہے جو خوش آیند ہے جس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک مشترکہ کوششیں کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل بھی طے کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے جب تک اس کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا تب تک امن و امان کی صورت حال قطعی طور پر بہتر نہیں بنائی جا سکتی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوشش کریں تو اس سے دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ممبئی حملوں کا تعلق ہے تو بھارت کو اس سلسلے میں تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتے ہوئے ممبئی حملے کے تمام چوبیس گواہوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے۔
جس طرح پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھارت کو اہم معلومات فراہم کر کے دوستانہ تعلقات کی جانب قدم بڑھایا ہے اسی طرح بھارت کو بھی مثبت جواب دیتے ہوئے دہشت گردی کے کسی بھی واقعے پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا مہم چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ بھارت کو بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردوں سے تعاون سے بھی ہاتھ کھینچ لینے چاہیے۔ اگر بھارت بھی اپنے رویے میں تبدیلی لاکر پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیتا ہے تو اس کے پورے خطے کی سلامتی پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔
اگر بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کو سپورٹ کرتا رہتا ہے تو پاکستان کی جانب سے یکطرفہ طور پر تعاون کے باوجود دہشت گردوں پر کاری ضرب نہیں لگائی جا سکے گی۔ دہشت گردوں کا نیٹ ورک کافی مضبوط ہے اور ان کے ایک دوسرے سے باہم رابطے ہیں، اس لیے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستان اور بھارت مشترکہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی طے کریں۔
تاہم ایسا کیا گیا ہے تو یہ مثبت قدم ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے بھارت سے ممبئی حملے کے تمام چوبیس گواہوں کو پاکستان بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ پاکستان میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران گواہی دے سکیں۔ اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت پہلے ہی تمام پاکستانی گواہوں کے بیان ریکارڈ کر چکی ہے اور اب گیند بھارتی حکومت کے کورٹ میں ہے۔
پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار بھارت کو دہشت گردی کے حوالے سے خفیہ معلومات فراہم کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذمے دار ریاست ہونے کے ناطے دہشت گردی کا ہر ممکن خاتمہ چاہتا ہے۔
خبروں کے مطابق یہ معلومات پاکستان کے مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے اپنے بھارتی ہم منصب کو فراہم کی ہیں جس کے مطابق دس دہشت گرد گجرات میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ ہندوؤں کے مذہبی تہوار مہاشیوا راتری کے موقع پر دہشت گردی کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ پاکستان خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ کر کے اسے مکمل طور پر پرامن بنانے کا خواہاں ہے لیکن کچھ انتہا پسند قوتیں ایسی ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کے اندر بھی دہشت گردی کی وارداتیں کر کے پورے خطے کی سلامتی کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔
پاکستان کی طرف سے بھارت کو پہلی بار دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کی خفیہ معلومات دینے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی بھارت کے بارے میں سوچ اور رویے میں واضح تبدیلی آ گئی ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ گزشتہ دنوں جب بھارت کے علاقے پٹھانکوٹ میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا تو بھارتی حکومت نے فوری طور پر یہ الزام لگایا کہ دہشت گرد پاکستان سے داخل ہوئے ہیں جس پر پاکستان نے بھارت کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے سانحے کی تحقیقات شروع کر دی۔
اب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے معلومات کے تبادلے کی ابتدا ہوئی ہے جو خوش آیند ہے جس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک مشترکہ کوششیں کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل بھی طے کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے جب تک اس کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا تب تک امن و امان کی صورت حال قطعی طور پر بہتر نہیں بنائی جا سکتی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوشش کریں تو اس سے دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ممبئی حملوں کا تعلق ہے تو بھارت کو اس سلسلے میں تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتے ہوئے ممبئی حملے کے تمام چوبیس گواہوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے۔
جس طرح پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھارت کو اہم معلومات فراہم کر کے دوستانہ تعلقات کی جانب قدم بڑھایا ہے اسی طرح بھارت کو بھی مثبت جواب دیتے ہوئے دہشت گردی کے کسی بھی واقعے پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا مہم چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ بھارت کو بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردوں سے تعاون سے بھی ہاتھ کھینچ لینے چاہیے۔ اگر بھارت بھی اپنے رویے میں تبدیلی لاکر پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیتا ہے تو اس کے پورے خطے کی سلامتی پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔
اگر بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کو سپورٹ کرتا رہتا ہے تو پاکستان کی جانب سے یکطرفہ طور پر تعاون کے باوجود دہشت گردوں پر کاری ضرب نہیں لگائی جا سکے گی۔ دہشت گردوں کا نیٹ ورک کافی مضبوط ہے اور ان کے ایک دوسرے سے باہم رابطے ہیں، اس لیے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستان اور بھارت مشترکہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی طے کریں۔