طالبان مذاکرات کے لیے لچک پیدا کریں

طالبان قیادت کو افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے

پاکستان کی بھی یہی خواہش ہے یہی وجہ ہے کہ وہ پرامن افغانستان کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ فوٹو: فائل

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر طالبان کو ان انتباہات کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے کہ وہ جنگ یا امن میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کریں، فیصلہ کریں کہ وہ افغان قوم اور ملک دشمنوں میں سے کس کے ساتھ ہیں۔ طالبان کے لیے ظاہر ہے یہ مرحلہ آزمائش اور چیلنج سے کم نہیں مگر وہ سمجھوتہ کرنے کے الزام سے آلودہ کسی بات چیت سے گریز پا ہیں اور رہیں گے، کیونکہ وہ افغان سیاست و حکمرانی میں گریٹر شیئراور مراعات کے مطالبہ پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔

صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ قوم کو مشکل حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ یہ باتیں انھوں نے اتوار کو موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کہیں ۔ افغان صدر کا بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب دو روز قبل ہی طالبان نے افغان حکومت سے براہ راست بات چیت سے انکار کردیا اور اپنے تین مطالبات دہرائے جن میں غیر ملکی فورسز کے فوری انخلا، طالبان علاقوں پر بمباری روکنے اور طالبان قیدیوں کی رہائی کے مطالبات شامل ہیں ، یوں بھی طالبان کا کسی بھی قسم کے مذاکرات میں مہمان اداکار کے طور پر شریک ہونا ممکن نظر نہیں آتا، طالبان سٹیک ہولڈر ہونے کے بنیادی استحقاق پر اصرار کرتے ہوئے چار ملکی تعاون گروپ کے ساتھ تعاون سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ۔

افغانستان کا دوسرا مسئلہ طالبان کو اقتدار میں شریک کرنے اور ساتھ ہی اسے شورش اور دہشتگردی ختم کر کے امن بات چیت میں شمولیت پر افغان حکومت کا اصرار ہے۔ طالبان قیادت نے اسلام آباد کے 7 مارچ کے متوقع اجلاس میں شمولیت سے انکار کرکے امن عمل اور بات چیت کے مستقبل کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے، وہ ملا عمر کی موت کے بعد بھی مذاکرات سے گریز پا رہے۔ ایسی غیر یقینی صورتحال میں صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ اگر طالبان افغان ہیں تو انھیں امن کے عمل میں شامل ہونا چاہیے۔


جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اسے افغان امن سے گہری دلچسپی ہے، وزیراعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کے حالیہ بیانات جب کہ جنرل راحیل شریف کی تاجکستان سے واپسی پر کابل میں مختصر قیام کے دوران اشرف غنی اور نیٹوفورسز کے کمانڈر سے تبادلہ خیال افغان امن سے ہی متعلق تھا۔ ادھر افغانستان میں گزشتہ چند ماہ میں سیکیورٹی فورسز کے درمیان تعاون میں اضافے کی اطلاعات ہیں ، خواتین بھی فوج میں شامل ہوئی ہیں۔ اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان واحد ملک ہے جہاں سے داعش بھاگ رہی ہے، پاکستان اور افغانستان کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

افغان سیکیورٹی فورسز نے ننگرہار میں آپریشن شاہین کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے داعش کے300 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ علاوہ ازیں افغان صوبہ ہلمند کی صوبائی کونسل کے ارکان نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان کی کوئٹہ شوریٰ ضلع موسیٰ قلعہ میں افغان فورسز کے خلاف جنگ کی قیادت کررہی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ افغان صورتحال داخلی طور پر غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کے پیدا کردہ باد مخالف سے نبرد آزما ہے جہاں افغان صدر کے بقول القاعدہ ، داعش، ازبکستان، تاجکستان اور چیچنیا سمیت دیگر انتہا پسند عناصر مسئلہ بنے ہوئے ہیں ، جن کے خاتمہ کا وہ عزم ظاہر کررہے ہیں۔ طالبان قیادت کو افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اس کے بعد ہی چار ملکی گروپ سے بات چیت کسی بریک تھرو پر منتج ہو سکتی ہے۔
Load Next Story