رینجرزکراچی میں امن قائم نہیں کرسکیمشاہدحسین سید
قائمہ کمیٹی کو وزیرستان لے جاؤنگا،پاک افغان پالیسی سی آئی اے اور اسٹیبلشمنٹ چلا رہی تھی
آرمی چیف کا بیان اہم ہے،متحدہ سے تعلقات شاندار روایت میں ڈھل چکیہیں، نائن زیرو پر گفتگو فوٹو : فائل
پاکستان مسلم لیگ (ق)کے سیکریٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین سید نے کراچی و حیدرآباد میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1995 سے رینجرز کراچی میں موجود ہے لیکن امن کی بحالی کیلیے کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔
رینجرزکا طویل عرصے کراچی میں قیام سود مند نہیں۔ پولیس کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر درست کرنے کی ضرورت ہے، اداروں پر سیاسی دباؤ اور سفارش کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ وہ جمعرات کو مسلملیگ (ق) سندھ کے صوبائی سیکریٹریٹ میں متحدہ قومی موومنٹ رابطہ کمیٹی کے اراکین وسیم آفتاب ، واسع جلیل ، ڈاکٹر صغیر احمد اور خالد عمر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ق) کے صوبائی عہدیدار علیم عادل شیخ ، حلیم عادل شیخ اور دیگر بھی موجود تھے ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ہماری حکمت عملی ناکام ہوچکی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں 8500 افرادپرناجائز اسلحہ رکھنے کے الزام میںمقدمات قائم ہوئے مگر انھیں سزا نہیں ہوسکی ۔ انھوں نے آرمی چیف کے حالیہ بیان کوانتہائی اہم قرار دیا ۔ انھوں نے کہا کہ عنقریب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان کو وزیرستان لے جاؤں گا ۔ اصغر خان کیس کے حوالے سے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں مہران اسکینڈل جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے ۔ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کے ضمن میں انھوں نے کہا کہ ہمارے دیرینہ تعلقات شاندار روایت کی شکل اختیار کرچکے ہیں ۔
رینجرزکا طویل عرصے کراچی میں قیام سود مند نہیں۔ پولیس کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر درست کرنے کی ضرورت ہے، اداروں پر سیاسی دباؤ اور سفارش کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ وہ جمعرات کو مسلملیگ (ق) سندھ کے صوبائی سیکریٹریٹ میں متحدہ قومی موومنٹ رابطہ کمیٹی کے اراکین وسیم آفتاب ، واسع جلیل ، ڈاکٹر صغیر احمد اور خالد عمر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ق) کے صوبائی عہدیدار علیم عادل شیخ ، حلیم عادل شیخ اور دیگر بھی موجود تھے ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ہماری حکمت عملی ناکام ہوچکی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں 8500 افرادپرناجائز اسلحہ رکھنے کے الزام میںمقدمات قائم ہوئے مگر انھیں سزا نہیں ہوسکی ۔ انھوں نے آرمی چیف کے حالیہ بیان کوانتہائی اہم قرار دیا ۔ انھوں نے کہا کہ عنقریب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان کو وزیرستان لے جاؤں گا ۔ اصغر خان کیس کے حوالے سے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں مہران اسکینڈل جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے ۔ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کے ضمن میں انھوں نے کہا کہ ہمارے دیرینہ تعلقات شاندار روایت کی شکل اختیار کرچکے ہیں ۔