شبقدر میں خود کش حملہ
سوات آپریشن اور پھر شمالی وزیرستان میں ہونے والے آپریشن کے باعث دہشت گردوں کا نیٹ ورک خاصی حد تک ٹوٹ گیا ہے
فوج نے اپنے حصے کا کردار ادا کر دیا ہے، اب دہشت گردوں کے پاس محفوظ پناہ گاہیں، اس طرح نہیں رہیں جیسی آج سے پندرہ بیس برس پہلے تھیں، فوٹو : اے ایف پی
خیبرپختونخوا ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر بازار میں کچہری کے احاطے میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں3 پولیس اہلکاروں اور 7خواتین سمیت 20 افراد شہید اور31زخمی ہوگئے ۔اخباری اطلاعات کے مطابق پیر کو صبح سوا گیارہ بجے کے قریب 16سالہ حملہ آور نے کچہری گیٹ پر روکنے پر فائرنگ کرکے پولیس اہلکاروں ہیڈکانسٹیبل نسیم اللہ اور کانسٹیبل ایمن خان کو شہید کیا جس کے بعد سیشن جج کی عدالت کے سامنے خود کو اُڑا دیا، جائے وقوعہ سے ایک مشتبہ شخص کو اسلحے سمیت گرفتاربھی کیا گیا ہے۔
تحصیل ناظم نے شبقدر میں چار روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے،ڈی پی او شبقدر سہیل خالد نے کہا کہ گیٹ پر تعینات پولیس اہلکارنے جان دیکر شہرکو بڑے سانحے سے بچا لیا،ڈی آئی جی سعید وزیر نے میڈیاسے گفتگو میں کہاکہ پولیس اہلکاروں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش بمبار کو گیٹ پر ہی روک لیا اور اندر داخل ہونے نہیں دیا جس سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا' پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شہید سپاہیوں کی فرض شناسی اور بہادری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق تحریکِ طالبان کے گروپ جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔پاکستان بار کونسل نے بھی شبقدر چارسدہ میں دہشت گردی کے واقعے کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا۔اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سیاستدانوں نے بھی روایتی انداز میں خود کش حملے کی مذمت کی ہے۔
پاکستان میں خود کش حملے' بم دھماکے یا دہشت گردی کی دیگر وارداتیں نئی بات نہیں ہیں' کئی برسوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشت گرد زیادہ سرگرم ہیں کیونکہ قبائلی علاقے اور افغانستان کے علاقے ان کے لیے پناہ گاہ کا کام کرتے ہیں۔ان علاقوں میں چونکہ حکومتی رٹ ابھی کمزور ہے اور یہاں افغانستان جانے کے لیے نقل و حرکت آسان ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد خیبرپختونخوا میں آسانی سے واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
بہر حال سوات آپریشن اور پھر شمالی وزیرستان میں ہونے والے آپریشن کے باعث دہشت گردوں کا نیٹ ورک خاصی حد تک ٹوٹ گیا ہے لیکن وہ ابھی تک اپنی وارداتیں کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ پچھلے دنوں انھوں نے چار سدہ یونیورسٹی میں بھی دہشت گردی کی تھی۔ شبقدر کچہری میں بھی پولیس کے سپاہیوں نے جراتمندی کا مظاہرہ کیا' اگر وہ خود کش حملہ آور کو راستے میں نہ روکتے تو زیادہ افراد مارے جاتے' چار سدہ یونیورسٹی میں جب دہشت گرد داخل ہوئے تو ان کے ساتھ بھی پہلا مقابلہ مقامی پولیس اور بلدیاتی نمایندوں نے کیا تھا' یہ دہشت گردی کے خلاف عوامی بیداری کی مثال بھی ہے اور پولیس کی بہادری کی بھی۔ اب ہماری سیاسی جماعتوں' دانشوروں اور سول سوسائٹی کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے' اگر پورا معاشرہ ایکٹو رول ادا کرے تو معاشرے میں موجود انتہا پسندوں' ان کے سہولت کاروں اور پشت پناہوں کو تنہا کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ملک کے سول انٹیلی جنس اداروں کو مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ بلاشبہ سول انٹیلی جنس ادارے ماضی کے مقابلے میں بہتر کردار ادا کر رہے ہیں لیکن انھیں مزید متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ چاروں صوبائی حکومتوں کو اب تعلیمی نصاب میں بہتری لانے پر بھی زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ معاشرے میں انتہا پسندی دہشت گردی کے پنپنے کی بڑی وجہ ہے۔ہماری حکومتوں نے برسوں سے ان معاملات پر توجہ نہیں دی۔ سرد جنگ کے دور میں مخصوص نظریات کو پختہ ہونے کا موقع فراہم کیا گیا' معاشرے میں بدعنوانی اور لاقانونیت کو فروغ دیا گیا' خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے قبائلی علاقے میں اصلاحات نہیں لائی گئیں' سندھ کے دیہات میں ترقی کی کوشش نہیں کی گئی۔
اس غفلت اور لاپروائی کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے' ہمارے قبائلی علاقے غربت اور پسماندگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں' اس غربت اور پسماندگی کو دہشت گردوں کی سرپرست قوتوں نے استعمال کیا' ملک میں تعلیمی میدان میں اصلاحات نہ ہونے کا فائدہ بھی انتہا پسند ذہنوں کو پہنچا' اب پاکستان کے پالیسی سازوں کے پاس مزید غفلت کا موقع نہیں ہے۔ پاک فوج نے شمالی وزیرستان دیگر قبائلی علاقوں اور بلوچستان سے دہشت گردوں اور شرپسندوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔
فوج نے اپنے حصے کا کردار ادا کر دیا ہے، اب دہشت گردوں کے پاس محفوظ پناہ گاہیں، اس طرح نہیں رہیں جیسی آج سے پندرہ بیس برس پہلے تھیں، گو اب بھی دہشت گرد قبائلی علاقوں میں پناہ لیتے ہیں اور وہاں سے افغانستان چلے جاتے ہیں لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر ملک کی سول قیادت' دانشور' سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اپنا کردار ادا کرے تو ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔
تحصیل ناظم نے شبقدر میں چار روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے،ڈی پی او شبقدر سہیل خالد نے کہا کہ گیٹ پر تعینات پولیس اہلکارنے جان دیکر شہرکو بڑے سانحے سے بچا لیا،ڈی آئی جی سعید وزیر نے میڈیاسے گفتگو میں کہاکہ پولیس اہلکاروں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش بمبار کو گیٹ پر ہی روک لیا اور اندر داخل ہونے نہیں دیا جس سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا' پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شہید سپاہیوں کی فرض شناسی اور بہادری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق تحریکِ طالبان کے گروپ جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔پاکستان بار کونسل نے بھی شبقدر چارسدہ میں دہشت گردی کے واقعے کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا۔اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سیاستدانوں نے بھی روایتی انداز میں خود کش حملے کی مذمت کی ہے۔
پاکستان میں خود کش حملے' بم دھماکے یا دہشت گردی کی دیگر وارداتیں نئی بات نہیں ہیں' کئی برسوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشت گرد زیادہ سرگرم ہیں کیونکہ قبائلی علاقے اور افغانستان کے علاقے ان کے لیے پناہ گاہ کا کام کرتے ہیں۔ان علاقوں میں چونکہ حکومتی رٹ ابھی کمزور ہے اور یہاں افغانستان جانے کے لیے نقل و حرکت آسان ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد خیبرپختونخوا میں آسانی سے واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
بہر حال سوات آپریشن اور پھر شمالی وزیرستان میں ہونے والے آپریشن کے باعث دہشت گردوں کا نیٹ ورک خاصی حد تک ٹوٹ گیا ہے لیکن وہ ابھی تک اپنی وارداتیں کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ پچھلے دنوں انھوں نے چار سدہ یونیورسٹی میں بھی دہشت گردی کی تھی۔ شبقدر کچہری میں بھی پولیس کے سپاہیوں نے جراتمندی کا مظاہرہ کیا' اگر وہ خود کش حملہ آور کو راستے میں نہ روکتے تو زیادہ افراد مارے جاتے' چار سدہ یونیورسٹی میں جب دہشت گرد داخل ہوئے تو ان کے ساتھ بھی پہلا مقابلہ مقامی پولیس اور بلدیاتی نمایندوں نے کیا تھا' یہ دہشت گردی کے خلاف عوامی بیداری کی مثال بھی ہے اور پولیس کی بہادری کی بھی۔ اب ہماری سیاسی جماعتوں' دانشوروں اور سول سوسائٹی کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے' اگر پورا معاشرہ ایکٹو رول ادا کرے تو معاشرے میں موجود انتہا پسندوں' ان کے سہولت کاروں اور پشت پناہوں کو تنہا کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ملک کے سول انٹیلی جنس اداروں کو مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ بلاشبہ سول انٹیلی جنس ادارے ماضی کے مقابلے میں بہتر کردار ادا کر رہے ہیں لیکن انھیں مزید متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ چاروں صوبائی حکومتوں کو اب تعلیمی نصاب میں بہتری لانے پر بھی زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ معاشرے میں انتہا پسندی دہشت گردی کے پنپنے کی بڑی وجہ ہے۔ہماری حکومتوں نے برسوں سے ان معاملات پر توجہ نہیں دی۔ سرد جنگ کے دور میں مخصوص نظریات کو پختہ ہونے کا موقع فراہم کیا گیا' معاشرے میں بدعنوانی اور لاقانونیت کو فروغ دیا گیا' خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے قبائلی علاقے میں اصلاحات نہیں لائی گئیں' سندھ کے دیہات میں ترقی کی کوشش نہیں کی گئی۔
اس غفلت اور لاپروائی کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے' ہمارے قبائلی علاقے غربت اور پسماندگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں' اس غربت اور پسماندگی کو دہشت گردوں کی سرپرست قوتوں نے استعمال کیا' ملک میں تعلیمی میدان میں اصلاحات نہ ہونے کا فائدہ بھی انتہا پسند ذہنوں کو پہنچا' اب پاکستان کے پالیسی سازوں کے پاس مزید غفلت کا موقع نہیں ہے۔ پاک فوج نے شمالی وزیرستان دیگر قبائلی علاقوں اور بلوچستان سے دہشت گردوں اور شرپسندوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔
فوج نے اپنے حصے کا کردار ادا کر دیا ہے، اب دہشت گردوں کے پاس محفوظ پناہ گاہیں، اس طرح نہیں رہیں جیسی آج سے پندرہ بیس برس پہلے تھیں، گو اب بھی دہشت گرد قبائلی علاقوں میں پناہ لیتے ہیں اور وہاں سے افغانستان چلے جاتے ہیں لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر ملک کی سول قیادت' دانشور' سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اپنا کردار ادا کرے تو ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔