’’پاکستان ایکسپریس‘‘ اسٹیشن پر تیار روانگی کیلیے گرین سگنل درکار
سیاسی کشمکش نے گرین شرٹس کو انتظار کی سولی پر لٹکا دیا
سیاسی کشمکش نے گرین شرٹس کو انتظار کی سولی پر لٹکا دیا. فوٹو: فائل
بھارت روانگی کیلیے اسٹیشن پر تیار''پاکستان ایکسپریس'' کو گرین سگنل درکار ہے، سیاسی کشمکش نے گرین شرٹس کو انتظار کی سولی پر لٹکا دیا، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کیلیے بے چین کرکٹرز غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے، لاہور کے کھلاڑی گھروں، کپتان شاہد آفریدی، ہیڈ کوچ وقار یونس، معاون اسٹاف اور دیگر شہروں سے آنے والے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تیار بیٹھے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈٹی ٹوئنٹی کی مہم سر کرنے کا عزم لیے پاکستانی اسکواڈ نے بھارت روانگی کی تیاریاں مکمل کرلی تھیں، سیکیورٹی وفد کی جانب سے پڑوسی ملک میں انتظامات کا جائزہ لیے جانے کے بعد ایونٹ میں شرکت کا حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کو کرنا تھا،گرین شرٹس نے سامان باندھ لیا تھا تاکہ کلیئرنس ملنے پر روانہ ہونے میں کوئی مسائل نہ ہوں، حکومت کی طرف سے اجازت ملنے پر قومی ٹیم میں شامل 15کرکٹرز اور 12آفیشلز بدھ کی دوپہر بھارتی دارلحکومت نئی دہلی پہنچ جاتے۔
انھیں بعدازاں وہاں سے کولکتہ کیلیے اڑان بھرنا تھی، جمعرات کو شاہد آفریدی کی پریس کانفرنس بھی شیڈول کی گئی ہے، قومی ٹی ٹوئنٹی کپتان پیر کو ہی نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور پہنچ گئے تھے، ہیڈ کوچ وقار یونس معاون اسٹاف کے ہمراہ پہلے سے ہی یہاں موجود ہیں، فوری طور پر طلب کیے جانے والے کراچی اور حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی سرفراز احمد، محمد سمیع، شرجیل خان، خالد لطیف اور انور علی بھی لاہور آمد کے بعد این سی اے میں ڈیرے ڈال چکے ہیں، راولپنڈی سے عماد وسیم اور محمد نوازنے بھی اسکواڈ کو جوائن کرلیا، شعیب ملک، عمراکمل، محمد حفیظ، احمد شہزاد، محمد عامر، وہاب ریاض،محمد عرفان پہلے ہی لاہور میں موجود اور روانگی کی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں۔
بھارت میں حساس صورتحال کے پیش نظر پاکستانی اسکواڈ کو خصوصی لیکچر میں بتایا گیا کہ ہوٹل میں قیام کے دوران کسی بھی انجان شخص سے ملاقات اور ساتھ کھانے پینے سے گریز کیا جائے، ناپسندیدہ عناصر کی جانب سے کسی بھی قسم کے رابطے کی کوشش ہو تو فوری طور پر مینجمنٹ کو آگاہ کریں، میدان کے اندر اور باہر ڈسپلن کی سختی سے پابندی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی، دوپہر کو بھارتی میڈیا نے اطلاعات جاری کردیں کہ پاکستانی وفد نے دھرم شالا میں میچ سمیت سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کردیا ہے۔
توقع کی جارہی تھی کہ قومی ٹیم شیڈول کے مطابق ہی روانہ ہوجائے گی لیکن رات کو یہ اطلاعات سامنے آگئیں کہ دھرم شالا میں پاکستان مخالفانہ فضا گھمبیر ہے، میدان سے باہر ٹیم کی آمدورفت، کسی پُرتشدد احتجاج کی صورت میں کھلاڑیوں کے تحفظ ،گرین شرٹس کی جیت پر ہوٹل تک کا سفر کیسے محفوظ ہوگا؟ مہمان صحافیوں اور کرکٹ شائقین کی عمومی سیکیورٹی کیا ہوگی، یہ تمام سوالات اٹھائے گئے ہیں، وفد کی رپورٹ پر پاکستان ٹیم کی بھارت روانگی موخر کردی گئی۔
چیئرمین پی سی بی شہریارخان نے بتایا کہ اس ضمن میں حتمی فیصلے کا اعلان وزیر داخلہ چوہدری نثار بدھ کو کریں گے جس کے بعد جمعرات کو اسکواڈ کی روانگی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، مزید معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کا دھرم شالا میں میچ کولکتہ یا موہالی منتقل کرنے کا امکان موجود ہے، دیگر مقابلے شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان ٹیم بھارت میں آمد کے بعد اگلے روز صلاحیتیں نکھارنے کیلیے پریکٹس سیشنز کا آغاز کریگی۔
پہلا وارم اپ میچ کولکتہ کے جادیوپور یونیورسٹی کمپلیکس میں بنگال کیخلاف 12مارچ کو شیڈول ہے،دوسرا مقابلہ 14مارچ کو ایڈن گارڈنز میں سری لنکا سے ہوگا،ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کاکوالیفائنگ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مین راؤنڈ کا آغاز 15مارچ کو بھارت اور نیوزی لینڈ کے میچ سے ہوگا،گروپ ٹو میں شامل گرین شرٹس اگلے روز کولکتہ میں کوالیفائرز ٹیم کو ہرانے کی کوشش کرینگے، دوسرا میچ 19مارچ کو روایتی حریف بھارت سے دھرم شالا میں ہوگا، پاکستان کا اگلا ٹاکرا 23کو نیوزی لینڈ سے موہالی میں شیڈول ہے، یہیں پر2 روز بعد آخری پول میچ میں آسٹریلیا کا چیلنج درپیش ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈٹی ٹوئنٹی کی مہم سر کرنے کا عزم لیے پاکستانی اسکواڈ نے بھارت روانگی کی تیاریاں مکمل کرلی تھیں، سیکیورٹی وفد کی جانب سے پڑوسی ملک میں انتظامات کا جائزہ لیے جانے کے بعد ایونٹ میں شرکت کا حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کو کرنا تھا،گرین شرٹس نے سامان باندھ لیا تھا تاکہ کلیئرنس ملنے پر روانہ ہونے میں کوئی مسائل نہ ہوں، حکومت کی طرف سے اجازت ملنے پر قومی ٹیم میں شامل 15کرکٹرز اور 12آفیشلز بدھ کی دوپہر بھارتی دارلحکومت نئی دہلی پہنچ جاتے۔
انھیں بعدازاں وہاں سے کولکتہ کیلیے اڑان بھرنا تھی، جمعرات کو شاہد آفریدی کی پریس کانفرنس بھی شیڈول کی گئی ہے، قومی ٹی ٹوئنٹی کپتان پیر کو ہی نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور پہنچ گئے تھے، ہیڈ کوچ وقار یونس معاون اسٹاف کے ہمراہ پہلے سے ہی یہاں موجود ہیں، فوری طور پر طلب کیے جانے والے کراچی اور حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی سرفراز احمد، محمد سمیع، شرجیل خان، خالد لطیف اور انور علی بھی لاہور آمد کے بعد این سی اے میں ڈیرے ڈال چکے ہیں، راولپنڈی سے عماد وسیم اور محمد نوازنے بھی اسکواڈ کو جوائن کرلیا، شعیب ملک، عمراکمل، محمد حفیظ، احمد شہزاد، محمد عامر، وہاب ریاض،محمد عرفان پہلے ہی لاہور میں موجود اور روانگی کی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں۔
بھارت میں حساس صورتحال کے پیش نظر پاکستانی اسکواڈ کو خصوصی لیکچر میں بتایا گیا کہ ہوٹل میں قیام کے دوران کسی بھی انجان شخص سے ملاقات اور ساتھ کھانے پینے سے گریز کیا جائے، ناپسندیدہ عناصر کی جانب سے کسی بھی قسم کے رابطے کی کوشش ہو تو فوری طور پر مینجمنٹ کو آگاہ کریں، میدان کے اندر اور باہر ڈسپلن کی سختی سے پابندی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی، دوپہر کو بھارتی میڈیا نے اطلاعات جاری کردیں کہ پاکستانی وفد نے دھرم شالا میں میچ سمیت سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کردیا ہے۔
توقع کی جارہی تھی کہ قومی ٹیم شیڈول کے مطابق ہی روانہ ہوجائے گی لیکن رات کو یہ اطلاعات سامنے آگئیں کہ دھرم شالا میں پاکستان مخالفانہ فضا گھمبیر ہے، میدان سے باہر ٹیم کی آمدورفت، کسی پُرتشدد احتجاج کی صورت میں کھلاڑیوں کے تحفظ ،گرین شرٹس کی جیت پر ہوٹل تک کا سفر کیسے محفوظ ہوگا؟ مہمان صحافیوں اور کرکٹ شائقین کی عمومی سیکیورٹی کیا ہوگی، یہ تمام سوالات اٹھائے گئے ہیں، وفد کی رپورٹ پر پاکستان ٹیم کی بھارت روانگی موخر کردی گئی۔
چیئرمین پی سی بی شہریارخان نے بتایا کہ اس ضمن میں حتمی فیصلے کا اعلان وزیر داخلہ چوہدری نثار بدھ کو کریں گے جس کے بعد جمعرات کو اسکواڈ کی روانگی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، مزید معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کا دھرم شالا میں میچ کولکتہ یا موہالی منتقل کرنے کا امکان موجود ہے، دیگر مقابلے شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان ٹیم بھارت میں آمد کے بعد اگلے روز صلاحیتیں نکھارنے کیلیے پریکٹس سیشنز کا آغاز کریگی۔
پہلا وارم اپ میچ کولکتہ کے جادیوپور یونیورسٹی کمپلیکس میں بنگال کیخلاف 12مارچ کو شیڈول ہے،دوسرا مقابلہ 14مارچ کو ایڈن گارڈنز میں سری لنکا سے ہوگا،ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کاکوالیفائنگ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مین راؤنڈ کا آغاز 15مارچ کو بھارت اور نیوزی لینڈ کے میچ سے ہوگا،گروپ ٹو میں شامل گرین شرٹس اگلے روز کولکتہ میں کوالیفائرز ٹیم کو ہرانے کی کوشش کرینگے، دوسرا میچ 19مارچ کو روایتی حریف بھارت سے دھرم شالا میں ہوگا، پاکستان کا اگلا ٹاکرا 23کو نیوزی لینڈ سے موہالی میں شیڈول ہے، یہیں پر2 روز بعد آخری پول میچ میں آسٹریلیا کا چیلنج درپیش ہوگا۔