برطانیہ کشمیر کو فراموش نہ کرے
پاکستان اور بھارت غیرریاستی عناصر اور دیگر پریشر گروپوں کو امن عمل کو پٹڑی سے اترنے نہ دیں
پاک بھارت تعلقات میں بہتری مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں مضمر ہے،اسے فراموش کرنے میں نہیں۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو بات چیت کا عمل جاری رکھنا چاہیے، وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ پاکستان اور بھارت غیرریاستی عناصر اور دیگر پریشر گروپوں کو امن عمل کو پٹڑی سے اترنے نہ دیں جب کہ مقطع میں سخن گسترانہ بات وہ اپنے ان معنی خیز فقروں میں ادا کرگئے کہ مسئلہ کشمیر کا حل مذاکراتی عمل سے مشروط نہ ہو۔
فلپ ہیمنڈ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں ، انھوں نے وزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقاتیں کیں اور یقین دلایا کہ خطے کی صورتحال سمیت برطانیہ اور پاکستان کے اسٹرٹیجک مذاکرات کا اگلا مرحلہ آیندہ چند ہفتوں میں منعقد ہوگا۔ فلپ ہیمنڈ برطانوی کنزرویٹیو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ہیں ، اگرچہ عالمی امور اور دولت مشترکہ کے ملکوں کے معاملات پر ان کی گہری نگاہ ہے تاہم وہ مسئلہ کشمیر کے تذکرہ سے الرجک نکلے۔
المیہ یہ ہے کہ مغربی ملکوں کا مشترکہ انداز نظر تنگ نظری سے مشروط ہے جس کے ذریعے وہ برصغیر کے مسائل اور سیاسی حرکیات سے گہری تاریخی وابستگی کے باوجود مسئلہ کشمیر سے واقفیت اور پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے اہم ایشو سے گریز کرنے کے مغالطہ سے باہر نہیں نکلتے۔اگرچہ نائن الیون کے واقعے کے بعد سے دہشتگردی کا عذاب جھیلتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں کی تعریف کرتے ہیں مگر جب بھارت سے تعلقات کی بات آتی ہے تو ان کا پلڑا ہمیشہ غیر منطقی بھارتی موقف کی حمایت میں جھک جاتا ہے، لہٰذا فلپ ہیمنڈ نے نصیحت فرمائی کہ پاک بھارت بات چیت میں کشمیر کا ذکر نہیں آنا چاہیے۔
آخر کیوں ؟جب کہ اس ضمن میں وہ تاریخی عوامل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت کو پس پشت ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان و بھارت نان اسٹیٹ ایکٹرز کو امن عمل کی ناکامی سے روکنے کی کوشش کریں حالانکہ دہشتگردی کے عالمی عفریت کو روکنے کی کوششوں میں پاکستان نے کسی بھی فرنٹ لائن ملک سے زیادہ ہلاکتوں کے صدمے برداشت کیے ہیں ، انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف پاکستانی فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کر کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائی کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے نیٹ ورک کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ افغانستان بھاگ گئے ۔
جہاں بیٹھ کر وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں جس کا فلپ ہیمنڈنے خود اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملاقات میں افغان عمل کے ذریعے امن و مفاہمت کے فروغ کی حمایت کی، ادھر وزیر داخلہ چوہدری نثار سے ان کی ملاقات مفید رہی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کو امن کے فروغ، مشترکہ چیلنجوں پر قابو پانے، انسداد دہشتگردی اور منظم جرائم کے خلاف مختلف شعبوں میں بھرپور شراکت قائم کرنے جب کہ علاقے میں امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے عناصر کے خلاف مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
دفتر خارجہ میں برطانوی ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات اور افغان امن مذاکرات پر اہم بات چیت ہوئی۔ فلپ ہیمنڈ نے پٹھان کوٹ دہشتگرد حملے کی تحقیقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکرات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔ برطانوی ہم منصب کو آگاہ کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقات کے لیے (جے آئی ٹی) ٹیم آیندہ چند دنوں میں بھارت روانہ ہوگی،اسی طرح پاک برطانیہ دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے تین سالہ روڈ میپ کی تیاری پر اتفاق ایک اہم پیش رفت ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کابل میں چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ سے ملاقات کی، اس ملاقات کے دوران انھوں نے برطانیہ کی طرف سے امن عمل کے لیے 4.1 ارب ڈالر دینے کا وعدہ بھی کیا۔ دریں اثنا مشیر خارجہ نے سینٹ میں بحث سمیٹتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' سمیت بھارتی ریاستی عناصر سے پاکستان کو خطرہ ہے۔ سرتاج عزیز نے بھارتی حکمرانوں کی الزام تراشیوں کی مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت کی سلامتی کونسل کا رکن بننے کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی۔
چنانچہ برطانیہ سمیت تمام مغربی ممالک کو پاک بھارت تعلقات کی حرکیات سے لاعلمی کا ایسا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے جس سے خطے میں بھارتی جنگی عزائم اور طفلانہ دباؤ کی جارحانہ حکمت عملی کے نتیجہ میں امن و سلامتی کی کوششوں کو نقصان پہنچے، بے جا الزام تراشی بھارتی وتیرہ بن چکا ہے ، مثلًا ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ ہے کہ مارشل آئی لینڈ کے وکیل کے توسط سے پاکستان پر ایک نیا الزام تھوپا گیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کررہا جب کہ فلپ ہیمنڈ نے جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کی تعریف کی۔
برطانیہ اور پاکستان کے مابین خطے میں امن اور دہشتگردی و انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے دوطرفہ اشتراک کار کا صائب تسلسل جاری ہے مگر برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو کبھی فراموش نہ کرے۔ پاک بھارت تعلقات میں بہتری مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں مضمر ہے،اسے فراموش کرنے میں نہیں۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو بات چیت کا عمل جاری رکھنا چاہیے، وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ پاکستان اور بھارت غیرریاستی عناصر اور دیگر پریشر گروپوں کو امن عمل کو پٹڑی سے اترنے نہ دیں جب کہ مقطع میں سخن گسترانہ بات وہ اپنے ان معنی خیز فقروں میں ادا کرگئے کہ مسئلہ کشمیر کا حل مذاکراتی عمل سے مشروط نہ ہو۔
فلپ ہیمنڈ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں ، انھوں نے وزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقاتیں کیں اور یقین دلایا کہ خطے کی صورتحال سمیت برطانیہ اور پاکستان کے اسٹرٹیجک مذاکرات کا اگلا مرحلہ آیندہ چند ہفتوں میں منعقد ہوگا۔ فلپ ہیمنڈ برطانوی کنزرویٹیو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ہیں ، اگرچہ عالمی امور اور دولت مشترکہ کے ملکوں کے معاملات پر ان کی گہری نگاہ ہے تاہم وہ مسئلہ کشمیر کے تذکرہ سے الرجک نکلے۔
المیہ یہ ہے کہ مغربی ملکوں کا مشترکہ انداز نظر تنگ نظری سے مشروط ہے جس کے ذریعے وہ برصغیر کے مسائل اور سیاسی حرکیات سے گہری تاریخی وابستگی کے باوجود مسئلہ کشمیر سے واقفیت اور پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے اہم ایشو سے گریز کرنے کے مغالطہ سے باہر نہیں نکلتے۔اگرچہ نائن الیون کے واقعے کے بعد سے دہشتگردی کا عذاب جھیلتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں کی تعریف کرتے ہیں مگر جب بھارت سے تعلقات کی بات آتی ہے تو ان کا پلڑا ہمیشہ غیر منطقی بھارتی موقف کی حمایت میں جھک جاتا ہے، لہٰذا فلپ ہیمنڈ نے نصیحت فرمائی کہ پاک بھارت بات چیت میں کشمیر کا ذکر نہیں آنا چاہیے۔
آخر کیوں ؟جب کہ اس ضمن میں وہ تاریخی عوامل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت کو پس پشت ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان و بھارت نان اسٹیٹ ایکٹرز کو امن عمل کی ناکامی سے روکنے کی کوشش کریں حالانکہ دہشتگردی کے عالمی عفریت کو روکنے کی کوششوں میں پاکستان نے کسی بھی فرنٹ لائن ملک سے زیادہ ہلاکتوں کے صدمے برداشت کیے ہیں ، انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف پاکستانی فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کر کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائی کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے نیٹ ورک کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ افغانستان بھاگ گئے ۔
جہاں بیٹھ کر وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں جس کا فلپ ہیمنڈنے خود اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملاقات میں افغان عمل کے ذریعے امن و مفاہمت کے فروغ کی حمایت کی، ادھر وزیر داخلہ چوہدری نثار سے ان کی ملاقات مفید رہی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کو امن کے فروغ، مشترکہ چیلنجوں پر قابو پانے، انسداد دہشتگردی اور منظم جرائم کے خلاف مختلف شعبوں میں بھرپور شراکت قائم کرنے جب کہ علاقے میں امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے عناصر کے خلاف مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
دفتر خارجہ میں برطانوی ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات اور افغان امن مذاکرات پر اہم بات چیت ہوئی۔ فلپ ہیمنڈ نے پٹھان کوٹ دہشتگرد حملے کی تحقیقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکرات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔ برطانوی ہم منصب کو آگاہ کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقات کے لیے (جے آئی ٹی) ٹیم آیندہ چند دنوں میں بھارت روانہ ہوگی،اسی طرح پاک برطانیہ دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے تین سالہ روڈ میپ کی تیاری پر اتفاق ایک اہم پیش رفت ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کابل میں چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ سے ملاقات کی، اس ملاقات کے دوران انھوں نے برطانیہ کی طرف سے امن عمل کے لیے 4.1 ارب ڈالر دینے کا وعدہ بھی کیا۔ دریں اثنا مشیر خارجہ نے سینٹ میں بحث سمیٹتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' سمیت بھارتی ریاستی عناصر سے پاکستان کو خطرہ ہے۔ سرتاج عزیز نے بھارتی حکمرانوں کی الزام تراشیوں کی مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت کی سلامتی کونسل کا رکن بننے کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی۔
چنانچہ برطانیہ سمیت تمام مغربی ممالک کو پاک بھارت تعلقات کی حرکیات سے لاعلمی کا ایسا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے جس سے خطے میں بھارتی جنگی عزائم اور طفلانہ دباؤ کی جارحانہ حکمت عملی کے نتیجہ میں امن و سلامتی کی کوششوں کو نقصان پہنچے، بے جا الزام تراشی بھارتی وتیرہ بن چکا ہے ، مثلًا ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ ہے کہ مارشل آئی لینڈ کے وکیل کے توسط سے پاکستان پر ایک نیا الزام تھوپا گیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کررہا جب کہ فلپ ہیمنڈ نے جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کی تعریف کی۔
برطانیہ اور پاکستان کے مابین خطے میں امن اور دہشتگردی و انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے دوطرفہ اشتراک کار کا صائب تسلسل جاری ہے مگر برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو کبھی فراموش نہ کرے۔ پاک بھارت تعلقات میں بہتری مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں مضمر ہے،اسے فراموش کرنے میں نہیں۔