کلیئرنگ ایجنٹس کانئے پی اے ٹی ٹی معاہدے پر نظرثانی پرزور

رکاوٹیں نہ ہٹائے جانے پرپاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈختم،بھارت وایران کوفائدے کا امکان ظاہر

رکاوٹیںنہ ہٹائے جانے پرپاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈختم،بھارت وایران کوفائدے کا امکان ظاہر ۔ فوٹو: فائل

حکومت کی جانب سے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نئے معاہدے میں حائل رکاوٹیں دورکرنے میں مستقل عدم دلچسپی بھارت کی افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کی افزائش کا باعث بن رہی ہے جبکہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی ٹرانزٹ ٹریڈ کی بقا کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

ٹرانزٹ ٹریڈ سے منسلک کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل رکاوٹوں کا ذمے دار دونوں ممالک کی بیورو کریسی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں نے مشترکہ طور پرنئے پی اے ٹی ٹی معاہدے پر نظرثانی نہ کی تو پاکستان اور افغانستان کے مابین افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیاں عملی طور پر ختم ہوجائیں گی۔


جس کا پورا فائدہ بھارت اور ایران حاصل کرلے گا۔ فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس گروپ خیبر پختونخوا کے صدرضیاء الحق سرحدی نے بتایا کہ افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیل وال نے حال ہی میں خیبر پختونخوا چیمبرآف کامرس کے دورے کے موقع پرپاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا تفصیلی احاطہ کرتے ہوئے پی اے ٹی ٹی معاہدے میں دونوں ممالک کی تاجربرادری کو درپیش مسائل سے مکمل طور پر اتفاق کیا اور یقین دہانی کرائی کہ موثراقدامات کے لیے وہ افغان حکومت کے علاوہ پاکستان کے اعلیٰ حکومتی حلقوں سے بھی بات چیت کریں گے۔

ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ حکومت کوافغان مارکیٹ اوروسط ایشیائی منڈیوں سے استفادے کے لیے طویل مدتی اورجامع پالیسی متعارف کرانے کی ضرورت ہے، سال 2010 کیپاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈمعاہدے میں بعض سقم کی وجہ سے ٹرانزٹ ٹریڈکی تجارت ایرانی بندرگاہ چہابہاراور بندرعباس منتقل ہوچکی ہے جس کے باعث پاک افغان باہمی تجارت بھی گھٹ گئی ہے حالانکہ دونوں ممالک باہمی تجارت کے حجم 5ارب ڈالر تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔
Load Next Story