انسان کائنات کے نئے سفر پر

خدا نے انسان کو عقل اور اختیار سے نوازا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ...

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

سوئٹزرلینڈ اور فرانس کی سرحد پر 27 کلومیٹر طویل سرنگ میں پانچ ہزار سے زیادہ سائنس دان پچھلے دو سال سے ایک ایسے ایٹمی ذرّے پر تحقیق میں مصروف تھے،جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ ذرّہ ہی تخلیقِ کائنات کا بانی ہوسکتا ہے۔ ویسے تو اس ذرّے کی تلاش پچھلے 45 برسوں سے جاری تھی لیکن اس حوالے سے منظم اور منصوبہ بند تحقیق کا آغاز دو سال پہلے ہوا۔ 4 جولائی 2012 کو ان پانچ ہزار سائنس دانوں نے اعلان کیا کہ انھوں نے وہ ذرّہ دریافت کرلیا ہے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہی ذرّہ تخلیقِ کائنات کا سبب بنا ہوگا۔

اس حوالے سے سائنس دان یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ ''مادّہ اپنی کمیت کیسے حاصل کرتا ہے۔'' دو سال تک یہ 5 ہزار سائنس دان انتہائی باریک ذرّات کو آپس میں ٹکرا کر اس لطیف عنصر کو تلاش کررہے تھے، جسے انھوں نے ''خدائی ذرّے'' کا نام دیا ہے۔ بکس بوسون یعنی خدائی ذرّہ کی تھیوری کے خالق پروفیسر ہکس نے 60 کی دہائی میں یہ نظریہ پیش کیا تھا۔ پروفیسر ہکس نے جنیوا میں اس تحقیق کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے اسے بیسویں صدی میں انسان کے چاند پر قدم رکھنے کے بعد دوسری بڑی کامیابی قرار دیا اور اس تحقیق میں شامل تمام افراد کو اس کامیابی پر مبارک باد دی۔

پروفیسر پیٹر ہکس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے میں ابھی کوئی حتمی رائے تو نہیں دے سکتا لیکن اس ذرّے کی تلاش ایک تاریخی کامیابی ہے۔ اخبارات میں اس حوالے سے جو خبر چھپی ہے، اس کی سرخی ''سائنس دانوں نے کائنات کی تخلیق کا ذریعہ بننے والا ذرّہ دریافت کرلیا'' لگائی ہے۔ یہ سرخی یا دریافت بادی النظر میں عقاید و نظریات سے متصادم ہے۔

اسی لیے میں کئی دن سے یہ سوچتا رہا کہ اس موضوع پر قلم اٹھایا جائے یا نہیں۔ میں نے اس دریافت میں کچھ ایسے پہلو تلاش کرنے کی کوشش کی جو کرۂ ارض اور اس پر بسنے والے سات ارب انسانوں کے اجتماعی مفادات کا ذریعہ بنیں ۔ پروفیسر ہکس نے اگرچہ اس دریافت کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کیا ہے، لیکن ان سائنس دانوں نے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ کامیابی وہ نقطۂ آغاز ہے جس کی انتہا کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

Tarde اور جیمز نے غالباً ٹھیک ہی کہا ہے۔ انسان کی تمام تاریخ دراصل تحقیق و ایجادات کی تاریخ ہے۔ ہر عہد کے آغاز اور نقطۂ عروج پرکوئی نہ کوئی اہلِ دانش اور محقق کھڑا نظر آتا ہے جو ماضی کا وارث بھی ہے اور مستقبل کی رہنمائی کرنے والا بھی۔ سقراط سے لے کر گلیلیو اور افلاطون سے لے کر کاپر نیکس، بیکن، نیوٹن، ڈارون اور کانٹ اور والٹیئر تک جینئس ایک قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں اور اب اس قطار کے آخری سرے پر پروفیسر پیٹر ہکس اپنے پانچ ہزار ساتھی سائنس دانوں کے ساتھ کھڑے گاڈ پارٹیکل یا خدائی ذرّہ دریافت کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔

فلکیاتی شعبے میں اگرچہ پانچویں صدی قبل مسیح ہی سے تحقیقی کام ہوتا رہا ہے لیکن بیسویں صدی میں سائنس، ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ فلکیاتی شعبے میں جو حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین ترقی ہوئی، اگرچہ وہ ذہنِ انسانی کا ایک عجوبہ ہے لیکن اس ترقی نے ہزاروں برسوں پر پھیلے ہوئے عقاید و نظریات میں ایک ایسا بھونچال پیدا کردیا ہے کہ اگر فلکیاتی ترقی اور عقاید و نظریات میں ہم آہنگی ایک دوسرے کے لیے قبولیت نہ پیدا کی گئی تو دنیا ایک ایسی نظریاتی انارکی کا شکار ہوسکتی ہے، جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔


میرے لیے یہ بات بڑی خوشی اور حوصلہ بخش ہے کہ پروفیسر پیٹر ہکس کے خدائی ذرّے کی دریافت اور کائنات کی تشکیل میں اس کے کردار کی وضاحت کے بعد دنیا بھر کے مذہبی حلقوں میں کسی منفی ردّعمل کا اظہار نہیں کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں برسوں پر پھیلے عقاید و نظریات سائنس، ٹیکنالوجی اور فلکیاتی شعبوں کے انکشافات کو قبول کرنے لگے ہیں۔

یہ بات اس لیے بھی حوصلہ افزا ہے کہ چند سو سال پہلے جب گلیلیو نے اپنی تحقیق کے بعد یہ کہا کہ سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو اس وقت کے مذہبی حلقوں نے گلیلیو کو خدائی معاملات میں مداخلت اور مذہب سے بغاوت کا مجرم قرار دے کر اسے سزائے موت سنادی تھی۔ کلیسائی عقاید کے مطابق سورج زمین کے گرد گھومتا تھا اور گلیلیو کی تحقیق کے مطابق زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس قسم کے کئی اور مسئلے آج اور کل کھڑے ہوسکتے ہیں، جن کا ایک ایسا طویل المیعاد حل نکالنا ضروری ہے جو سائنس اور عقاید و نظریات کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردینے کے بجائے ساتھ ساتھ چلنے کی راہ ہموار کرسکے۔

خدا نے انسان کو عقل اور اختیار سے نوازا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ علم حاصل کرے اور تحقیق کرے، انسان عقل اور اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تسخیر کائنات کی جس مہم پر نکل کھڑا ہوا ہے ''خدائی ذرّہ'' اس مہم کا نقطۂ آغاز ہے۔ اسے اور بہت دور جانا ہے لیکن یہ سفر اسے بہت احتیاط سے کرنا پڑے گا، راستہ کٹھن بھی ہے، دشوار گزار بھی اور راہ میں رکاوٹیں بھی ہیں۔ ماضی اور حال ایک دوسرے کے سامنے آتے رہیں گے۔

ماضی اور حال کو ہر ممکن تصادم سے بچانا ہوگا۔ دونوں کو الجھنے کے بجائے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر مستقبل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اگر یہ حکمت عملی اپنائی گئی تو سفر آسان بھی ہوگا، کامیابی سے ہمکنار بھی ہوگا، خدا اس سفر میں انسان کے ساتھ ہوگا کیونکہ خدا شہ رگ اور ریڑھ کی ہڈی سے زیادہ قریب ہے۔

اسے انسان کی بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ کے ہر موڑ پر خدا کے نام ہی کے ساتھ ایک دوسرے سے برسرپیکار رہا، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی کہ اس نے اس حقیقت کو بھلا دیا کہ خدا کسی ایک کا نہیں بلکہ اپنی ساری مخلوق کا ہے، خالق اور مخلوق کے اس رشتے کو خانوں میں بانٹ کر انسان خود بھی کانٹوں میں الجھتا رہا اور خدا کی عظمت کو بھی خانوں میں بانٹتا رہا۔ اب چاند کے کامیاب سفر کے بعد کائنات کے تصور سے زیادہ طویل سفر پر جارہا ہے تو اسے زادِ راہ کے طور پر مسجد کی اذان ، مندر کی گھنٹیوں اور چرچ کے ترنم کو اپنے ساتھ رکھنا پڑے گا۔

یوں سفر آسان بھی ہوگا، سرور انگیز بھی۔ جب انسان اپنی عقل و اختیار کے گھوڑے پر سوار ہو کر اس تاریخی سفر پر نکلے گا تو قدم قدم پر چاند ستارے کہکشائیں اس کی راہ میں آنکھیں بچھائیں گے۔ فرشتے اسے جھک جھک کر سلام کریں گے۔ خدا اپنے بنائے ہوئے انسان کی اس کامیابی پر اسی طرح خوش ہوگا، جس طرح ایک مشفق باپ اپنی فاتح اولاد کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ پروفیسر پیٹر ہکس اور ان کے پانچ ہزار ساتھیوں کو یہ سفر مبارک ہو، ہماری دعا ہے کہ رب العزت کی ساری مخلوق کے درمیان یہ سفر محبت و اخوت کا وسیلہ بن جائے۔
Load Next Story