موسمیاتی تبدیلیاں حفاظتی اقدامات کیے جائیں
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث موسم کے مزاج میں شدت در آئی ہے۔
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث موسم کے مزاج میں شدت در آئی ہے۔ فوٹو؛ فائل
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث موسم کے مزاج میں شدت در آئی ہے۔ رواں سال شدید گرمی اور بارش و سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، جس کے مضمرات ابھی سے سامنے آرہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی، العین اور الغربیہ میں 3 دن سے ہونے والی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا جب کہ پاکستانی سفارتخانے کا مین گیٹ بھی ٹوٹ گیا ہے، تین روزہ بارشوں نے سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالا، ایئرپورٹ پر پانی بھر جانے سے فلائٹ نظام بھی متاثر ہوگیا، کئی پروازیں روک لی گئیں، متاثرہ علاقوں میں اسکول بند کرکے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے جب کہ پاکستان میں بھی محکمہ موسمیات نے اگلے 7 روز بارش کی پیشگوئی کی ہے ۔
جس کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بالائی علاقوں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال سے متعلق ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے، این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی متعلقہ اداروں کو ممکنہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
پنجاب اور پختونخوا میں پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر کو ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے، شدید بارشوں کے پیش نظر مچھیروں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وطن عزیز گزشتہ کئی برس سے ہر سال سیلاب کی صورتحال کا سامنا کررہا ہے جس سے بے پناہ تباہی، انسانی و حیوانی اموات اور متاثرہ علاقوں سے ہجرت کے باعث طرح طرح کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے شکار سیکڑوں دیہات اب تک سنبھل نہیں پائے ہیں نیز 2010 میں آنے والے سیلاب میں تقریباً 2 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے۔
قابل افسوس امر یہ ہے کہ سیکڑوں کی تعداد میں انسانی ہلاکتوں کے باوجود حکومتیں اپنے فرائض سے غافل نظر آتی ہیں، عارضی اقدامات اور نمائشی اعلانات تو کردیے جاتے ہیں لیکن اب تک انفرااسٹرکچر کی مضبوطی اور پیشگی اقدامات کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان سمیت ایشیا کے بیشتر ممالک ال نینو نامی طوفان کے زیر اثر ہیں جس کے باعث بلوچستان اور پختونخوا کے علاوہ بالائی پنجاب، اسلام آباد، کشمیر اور کراچی میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔
آیندہ 7 روز کے دوران خیبرپختونخوا، فاٹا، بالائی پنجاب، اسلام آباد اور کشمیر میں اکثر مقامات پرتیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں سے سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ جمعرات سے اتوار کے دوران خیبرپختونخوا، فاٹا، بالائی پنجاب، اسلام آباد اور کشمیر میں اکثر مقامات پر تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے، جب کہ ہفتہ اور اتوار کو پشاور، کوہاٹ، مردان، ہزارہ، راولپنڈی، اسلام آباد اور کشمیر میں کہیں کہیں موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
میٹرولوجسٹ کے مطابق بارش دینے والا سسٹم ایران سے بلوچستان پہنچ چکا ہے، ہوا کا کم دبائو کراچی سے ہوتا ہوا بالائی سندھ جائے گا۔ مون سون کی بارشوں اور سیلاب کی ممکنہ تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے روڈ میپ تشکیل دینے کی اشد ضرورت ہے۔ کلائمیٹ چینج کے باعث دنیا بھر میں موسم اور آب و ہوا کی تبدیلیاں نوٹ کی جارہی ہیں، جن علاقوں میں ابر رحمت کبھی کبھی برستا تھا وہاں اب سیلابی صورتحال کا سامنا ہے نیز سرد علاقے گرمی کی لہر سے جھلس رہے ہیں۔ ماہر موسمیات آنے والے وقتوں میں اس ماحولیاتی تبدیلی کو بڑی تباہی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
گرین گیسز کے اخراج اور اوزون کی سطح میں بڑھنے والے شگاف کے باعث دنیا بھر کے سائنسدان سر جوڑے بیٹھے ہیں، ماحولیاتی آلودگی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے لیکن پاکستان میں وہی مسائل سے پہلوتہی برتنے اور روایتی لاپرواہی کا سلسلہ جاری ہے۔ نجانے ذمے داران کب خواب غفلت سے بیدار ہوں گے۔ ارباب بست و کشاد کو حقیقی مسائل کی جانب توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ پانی سر سے گزر جانے کے بعد جاگنے کی روایت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
گزشتہ ادوار میں بھی سیلاب کی صورتحال اور بااثر زمینداروں کا اپنی جاگیر بچانے کے لیے غریبوں کی بستیاں تباہ کرنے کی سازشیں سامنے آئی تھیں۔ راست ہوگا کہ ابھی سے لائحہ عمل طے کیا جائے۔ بارش کے پانی کی نکاسی کے راستوں سے تجاوزات کا خاتمہ اور نہروں کی بروقت بھل صفائی اہم ہے۔ ملک میں بڑے ڈیم بنانے کے معاملات کو سیاسی چپقلش کی نذر کردیا گیا ہے، جس کے باعث ملک پانی و توانائی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔
جب تک بڑے ڈیموں کا مسئلہ حل نہیں ہورہا تب تک چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف سیلابی خطرے کو ٹالا جاسکتا ہے بلکہ پانی کا ذخیرہ کرکے اسے قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے۔ شہروں و دیہات کا انفرااسٹرکچر بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ گائوں دیہات کی صورتحال تو الگ بڑے شہروں میں بھی دوران بارش سڑکیں و گلیاں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں، نظام زندگی مفلوج ہوجاتا ہے۔ مناسب ہوگا کہ صفائی کے عملے کو فعال کیا جائے، کچرا مناسب انداز میں تلف کرکے برساتی نالوں کو صاف کیا جائے تاکہ بعد از بارش صحت وصفائی کا معاملہ سر نہ اٹھا سکے اور عوام حقیقی معنوں میں ابر رحمت کا لطف اٹھا سکیں۔
متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی، العین اور الغربیہ میں 3 دن سے ہونے والی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا جب کہ پاکستانی سفارتخانے کا مین گیٹ بھی ٹوٹ گیا ہے، تین روزہ بارشوں نے سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالا، ایئرپورٹ پر پانی بھر جانے سے فلائٹ نظام بھی متاثر ہوگیا، کئی پروازیں روک لی گئیں، متاثرہ علاقوں میں اسکول بند کرکے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے جب کہ پاکستان میں بھی محکمہ موسمیات نے اگلے 7 روز بارش کی پیشگوئی کی ہے ۔
جس کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بالائی علاقوں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال سے متعلق ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے، این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی متعلقہ اداروں کو ممکنہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
پنجاب اور پختونخوا میں پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر کو ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے، شدید بارشوں کے پیش نظر مچھیروں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وطن عزیز گزشتہ کئی برس سے ہر سال سیلاب کی صورتحال کا سامنا کررہا ہے جس سے بے پناہ تباہی، انسانی و حیوانی اموات اور متاثرہ علاقوں سے ہجرت کے باعث طرح طرح کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے شکار سیکڑوں دیہات اب تک سنبھل نہیں پائے ہیں نیز 2010 میں آنے والے سیلاب میں تقریباً 2 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے۔
قابل افسوس امر یہ ہے کہ سیکڑوں کی تعداد میں انسانی ہلاکتوں کے باوجود حکومتیں اپنے فرائض سے غافل نظر آتی ہیں، عارضی اقدامات اور نمائشی اعلانات تو کردیے جاتے ہیں لیکن اب تک انفرااسٹرکچر کی مضبوطی اور پیشگی اقدامات کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان سمیت ایشیا کے بیشتر ممالک ال نینو نامی طوفان کے زیر اثر ہیں جس کے باعث بلوچستان اور پختونخوا کے علاوہ بالائی پنجاب، اسلام آباد، کشمیر اور کراچی میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔
آیندہ 7 روز کے دوران خیبرپختونخوا، فاٹا، بالائی پنجاب، اسلام آباد اور کشمیر میں اکثر مقامات پرتیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں سے سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ جمعرات سے اتوار کے دوران خیبرپختونخوا، فاٹا، بالائی پنجاب، اسلام آباد اور کشمیر میں اکثر مقامات پر تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے، جب کہ ہفتہ اور اتوار کو پشاور، کوہاٹ، مردان، ہزارہ، راولپنڈی، اسلام آباد اور کشمیر میں کہیں کہیں موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
میٹرولوجسٹ کے مطابق بارش دینے والا سسٹم ایران سے بلوچستان پہنچ چکا ہے، ہوا کا کم دبائو کراچی سے ہوتا ہوا بالائی سندھ جائے گا۔ مون سون کی بارشوں اور سیلاب کی ممکنہ تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے روڈ میپ تشکیل دینے کی اشد ضرورت ہے۔ کلائمیٹ چینج کے باعث دنیا بھر میں موسم اور آب و ہوا کی تبدیلیاں نوٹ کی جارہی ہیں، جن علاقوں میں ابر رحمت کبھی کبھی برستا تھا وہاں اب سیلابی صورتحال کا سامنا ہے نیز سرد علاقے گرمی کی لہر سے جھلس رہے ہیں۔ ماہر موسمیات آنے والے وقتوں میں اس ماحولیاتی تبدیلی کو بڑی تباہی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
گرین گیسز کے اخراج اور اوزون کی سطح میں بڑھنے والے شگاف کے باعث دنیا بھر کے سائنسدان سر جوڑے بیٹھے ہیں، ماحولیاتی آلودگی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے لیکن پاکستان میں وہی مسائل سے پہلوتہی برتنے اور روایتی لاپرواہی کا سلسلہ جاری ہے۔ نجانے ذمے داران کب خواب غفلت سے بیدار ہوں گے۔ ارباب بست و کشاد کو حقیقی مسائل کی جانب توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ پانی سر سے گزر جانے کے بعد جاگنے کی روایت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
گزشتہ ادوار میں بھی سیلاب کی صورتحال اور بااثر زمینداروں کا اپنی جاگیر بچانے کے لیے غریبوں کی بستیاں تباہ کرنے کی سازشیں سامنے آئی تھیں۔ راست ہوگا کہ ابھی سے لائحہ عمل طے کیا جائے۔ بارش کے پانی کی نکاسی کے راستوں سے تجاوزات کا خاتمہ اور نہروں کی بروقت بھل صفائی اہم ہے۔ ملک میں بڑے ڈیم بنانے کے معاملات کو سیاسی چپقلش کی نذر کردیا گیا ہے، جس کے باعث ملک پانی و توانائی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔
جب تک بڑے ڈیموں کا مسئلہ حل نہیں ہورہا تب تک چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف سیلابی خطرے کو ٹالا جاسکتا ہے بلکہ پانی کا ذخیرہ کرکے اسے قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے۔ شہروں و دیہات کا انفرااسٹرکچر بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ گائوں دیہات کی صورتحال تو الگ بڑے شہروں میں بھی دوران بارش سڑکیں و گلیاں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں، نظام زندگی مفلوج ہوجاتا ہے۔ مناسب ہوگا کہ صفائی کے عملے کو فعال کیا جائے، کچرا مناسب انداز میں تلف کرکے برساتی نالوں کو صاف کیا جائے تاکہ بعد از بارش صحت وصفائی کا معاملہ سر نہ اٹھا سکے اور عوام حقیقی معنوں میں ابر رحمت کا لطف اٹھا سکیں۔