کنوئیں کے مینڈک

ماضی میں بہت ساری بیماریوں کو لاعلاج سمجھا جاتا تھا اور انھیں قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیا جاتا تھا

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

روزنامہ ایکسپریس کے ایک صفحے پر ''دلچسپ و عجیب'' کے عنوان سے ایسی خبریں دی جاتی ہیں جن کا تعلق تحقیق اور غیر معمولی واقعات سے ہوتا ہے، میں ہر روز ''دلچسپ و عجیب'' کا خاص طور پر مطالعہ اس لیے کرتا ہوں کہ ان خبروں سے ماضی اور حال کے درمیان فاصلوں کا اندازہ ہوتا ہے اور دنیا کے جینئس لوگوں کا فکری موضوع ماضی اور حال کا فرق ہوتا ہے۔

ماضی میں بہت ساری بیماریوں کو لاعلاج سمجھا جاتا تھا اور انھیں قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیا جاتا تھا لیکن صحت کے شعبے میں حال کا جو حال ہے، وہ اس قدر حیرت انگیز ہے کہ 100 سال پہلے فوت ہونے والا انسان زندہ ہوجائے اور حال کے حال پر نظر ڈالے تو وہ حیرت سے دوبارہ مرجائے گا۔

دل انسانی جسم کا وہ انجن ہے جو انسانی زندگی کی گاڑی کو بغیر ایک سیکنڈ کے وقفے کے کھینچتا رہتا ہے، دنیا کے 90 فیصد سادہ لوح انسان تو دل کے اس فنکشن سے واقف ہی نہیں رہتے، ذہنی پسماندگی کا ایک سبب لاعلمی بھی ہے۔ دل مدتوں سے ہمارے شعرا کا موضوع بھی رہا ہے، دل اور دماغ کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے، دل انسانی جسم کی گاڑی کو کھینچتا رہتا ہے تو دماغ انسانی تاریخ کے عجوبوں اور انکشافات کے مرکز کی حیثیت سے کام کرتا رہتا ہے۔

''دلچسپ و عجیب'' کی ایک خبر کے مطابق امریکا کی ایک ریاست سیال میں ایک 7 ماہ کی بچی کے ناقص دل کو ایک صحت مند دل سے بدل کر اس کی زندگی بچا لی گئی۔ خبر کے مطابق دل کے ٹرانسپلانٹیشن سے پہلے ہی بچی کے دل نے دو مرتبہ دھڑکنا بند کردیا تھا لیکن ماہر سرجنوں نے بڑی مہارت سے دل کی پیوندکاری کرکے 7 ماہ کی بچی کی نہ صرف جان بچائی بلکہ اس کے سامنے ایک طویل زندگی بھی رکھ دی۔

ایکسپریس میں ہی ایک اور خبر پر بھی ہماری نظر پڑی جس کے مطابق روس میں ایک مسلمان آیا نے مالک مکان کی 4 سالہ بچی کا سر کاٹ دیا اور اس کٹے ہوئے سر کو ہاتھ میں پکڑ کر ایک میٹرو اسٹیشن کے قریب کھڑی تھی کہ پولیس اہلکار نے اسے عدالت پہنچادیا، خاتون آیا نے عدالت کو بتایا کہ اس نے خدا کے حکم پر بچی کا سر کاٹا ہے۔ خاتون کو جب پولیس کے سپاہی نے پکڑنے کی کوشش کی تو وہ چلانے لگی میں دہشت گرد ہوں، میں تمہاری موت ہوں۔

دلچسپ و عجیب کی ایک اور خبر کے مطابق روس اور امریکا کے دو خلا باز کیلی اور کورنینکو 340 دن خلا میں گزارنے کے بعد بحفاظت زمین پر واپس آگئے۔ دونوں خلا باز جس گاڑی سے زمین پر واپس آئے وہ گاڑی خلائی اسٹیشن سے تین گھنٹے قبل علیحدہ ہوئی تھی، کورنینکو خلا باز نے اپنے ساتھی کے ساتھ دنیا یعنی ہمارے کرہ ارض کے گرد 5440 چکر لگائے جس کی مسافت 14 کروڑ 40 لاکھ میل بنتی ہے ان دونوں خلا بازوں نے اپنے مدار سے 10880 مرتبہ سورج کو طلوع اور غروب ہوتے دیکھا۔

اس مشق کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ کشش ثقل کے بغیر خلائی ماحول میں طویل عرصے تک رہنے سے انسانی جسم اور دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ ایک خبر کے مطابق مسلم ملک عراق میں صرف ایک ماہ کے عرصے میں 670 افراد دہشت گردی کا شکار ہوگئے ایک اور تین کالمی خبر کے مطابق چیئرمین نظریاتی کونسل نے فرمایا ہے کہ ''نسواں بل غیر اسلامی ہے، اسے منظور کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔''


واضح رہے کہ ہمارے آئین میں آرٹیکل 6 بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور جس کی سزا موت ہے۔ اس بل کا تعلق پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ سے ہے، جس کا مقصد غیرت کے نام پر قتل، ونی جیسے جرائم کی روک تھام ہے، جس میں خواتین کو بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اس بل کے خلاف شوہروں کے حقوق کے حوالے سے تحریک چلانے کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔

دنیا میں مسلم ملکوں کی تعداد 57 ہے، جس کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ ہے، ان 57 ملکوں میں کسی ایک ملک میں بھی آکسفورڈ جیسی ایک یونیورسٹی نہیں ہے، کسی ایک ملک میں بھی ناسا جیسا کوئی ایک خلائی تحقیق کا ادارہ نہیں، کسی ایک ملک میں کوئی ایسا تحقیقاتی ادارہ نہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں میں تحقیقاتی کام کر رہا ہو۔

57 مسلم ملکوں میں ایک ملک بھی ایسا نہیں جسے ہم صنعتی طور پر ترقی یافتہ کہہ سکیں۔ مسلم ملکوں میں خلیجی ممالک سب سے زیادہ دولت مند ملک ہیں، اگر یہ ملک صنعتی میدان میں سرمایہ کاری کریں تو خودکفیل ہوسکتے ہیں لیکن یہ متمول ملک روٹی سے لے کر F-16 تک باہر سے منگواتے ہیں اور اربوں ڈالر اس درآمد پر خرچ کرتے ہیں اور کندھوں پر شکروں کو بٹھا کر فخر کرتے ہیں۔

ہر ملک، ہر معاشرے میں منفی اور مثبت طاقتیں متحرک رہتی ہیں، جن ملکوں میں حکمران طبقات ذی شعور ہوتے ہیں ان ملکوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں کی اس طرح سرپرستی کی جاتی ہے کہ یہ ملک ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہوکر ملک و ملت کی اجتماعی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ایک 7 ماہ کی بچی کے دل کی بھی پیوندکاری کرکے اسے موت سے بچا لیا جاتا ہے اور ہمارے ملک کے ایک علاقے تھر میں اب تک بھوک و بیماریوں سے ہزاروں معصوم بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ امریکا میں دل کی تبدیلی کے ذریعے جہاں ایک 7 ماہ کی بچی کی جان بچانے کی خبر ہے وہیں اسی اخبار کی ایک خبر کے مطابق تھرپارکر میں بھوک کا شکار مزید بچے دم توڑ گئے ہیں۔

علم، معلومات اور تحقیق ترقی کی اصل چابیاں ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پورا عالم اسلام ان تینوں ترقی کی چابیوں سے محروم ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے ابھی تک فکری حوالوں سے کلیسائی دور میں بھٹک رہے ہیں، جہاں علم، معلومات اور تحقیق پر ایسی قدغنیں لگی ہوئی تھیں کہ سچ بولنے والوں کو سزائے موت دی جاتی تھی۔

سقراط اپنے دور کا ایک جید عالم، محقق اور دانشور تھا، اسے بھی سچ کا پرچار کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی اور زہر کا پیالہ اس کے ہاتھوں میں تھما دیا گیا کہ وہ نوجوان نسلوں میں گمراہی پھیلا رہا ہے۔ گلیلیو نے اپنے علم اور تحقیق کی بنیاد پر کہا کہ زمین ساکن نہیں بلکہ سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔

گلیلیو کا یہ سچ چونکہ کلیسائی عقائد ''سورج گردش کر رہا ہے زمین ساکن ہے۔'' سے متصادم تھا، لہٰذا اسے کلیسا نے سزائے موت سنا دی۔ دنیا کے ہر دور میں عقائد و نظریات اس دور کے علم اور معلومات کے مطابق رہے ہیں اگر عقائد زمین کو ساکن اور سورج کو گردش کناں کہتے ہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس جھوٹ کے خلاف سچ بولنے کی کوشش کرے۔ آج پورے مسلم معاشرے کنوئیں کے مینڈک بنے اپنی ''روایتی دھنوں'' میں ٹرّا رہے ہیں اور دنیا ہماری ٹراہٹوں پر ہنس رہی ہے۔
Load Next Story