شارع فیصل سے سائن بورڈ فوری ہٹانے کا حکم

ہم بار بار ہدایت جاری کرتے ہیں لیکن عملدرآمد نہیں ہوتا،جسٹس امیرہانی

اسٹیشن ہیڈ کوارٹر کے کردار کے بارے میں وفاقی حکومت سے درست صورت حال معلوم کرکے بتائیں، سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت فوٹو : ایکسپریس

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے حکم دیا ہے کہ شارع فیصل کے دو اطراف سے ہورڈنگز و سائن بورڈز جمعرات کو ہٹادیے جائیں بصورت دیگر جمعہ کو دونوں کنٹونمنٹ بورڈز کے سربراہ عدالت میں پیش ہوجائیں ۔

فاضل بینچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس بارے میں اسٹیشن ہیڈ کوارٹر کے کردار کے بارے میں وفاقی حکومت سے درست صورتحال معلوم کرکے بتائیں، جمعرات کو جسٹس امیرہانی مسلم ، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے کراچی رجسٹری میں شارع فیصل سمیت اہم شاہراہوں پر غیر قانونی بل بورڈز کی تنصیب سے متعلق کیس کی سماعت کی ، کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے بتایا گیا کہ شارع فیصل پر ہورڈنگز اسٹیشن ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔

جسٹس ہانی نے لیگل ایڈوائزر کنٹونمنٹ بورڈ کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کیا انھیں علم ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ، لیگل ایڈوائزر کے اثبات میں جواب دینے پر انھوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں تحریری بیان دیں تو عدالت چیف آف آرمی اسٹاف کو نوٹس بھیج دیگی۔

انھوں نے کمرہ عدالت میں موجود کنٹونمنٹ بورڈز کے وکلاجنید فاروقی ایڈووکیٹ اور دیگر کو ہدایت کی کہ عدالت کا حکم ان کنٹونمنٹ بورڈز کے سربراہوں کو پہنچادیں جن کی حدود میں شارع فیصل آتی ہے کہ وہ جمعرات کو سڑک کے دونوں اطراف سے سائن بورڈز وغیرہ ہٹادیں یا پھر صورتحال کی وضاحت کے لیے جمعہ کو عدالت میں پیش ہوں۔


فیصل کنٹونمنٹ کے وکیل جنید فاروقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بورڈ نیوی کی جانب سے لگائے گئے سائن بورڈ نہیں ہٹاسکتا جبکہ نیوی کے نمائندے نے بتایا کہ انکی جانب سے کوئی سائن بورڈ نہیں لگایا گیا، عدالت عظمی کے حکم کی تعمیل کے سلسلے میں رپورٹ پہلے ہی پیش کی جاچکی ہے تاہم بینچ کے رکن جسٹس خلجی عارف حسین نے استفسار کیا کہ کور فائیو کے اطراف اور کارساز پر کس کی جانب سے سائن بورڈ لگائے گئے ہیں۔

انھوں نے نیوی کے نمائندے کی جانب سے اپنے موقف پر اصرار کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ آپ کو درست معلومات فراہم نہ کی گئی ہوں اس لیے ایک بار پھر اس کاجائزہ لے لیں، جسٹس ہانی نے صورتحال ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بار بار ہدایت جاری کرتے ہیں لیکن عملدرآمد ہی نہیں کیا جاتا، کسی کو انسانی جانوں کا احساس ہی نہیں، کوسٹ گارڈز کی جانب سے عدالت کے حکم کی تعمیل کرکے رپورٹ پیش کردی گئی کہ ان کی جانب سے کراچی کی کسی شارع پر سائن بورڈ نہیں لگایا گیا، فاضل بینچ نے کوسٹ گارڈ کے رویے کو سراہتے ہوئے آئندہ کوسٹ گارڈ کو نوٹس جاری نہ کرنے کی ہدایت کی۔

گزشتہ سماعت پر کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے عدالت کو بتایاگیا تھا کہ مسلح افواج کی جانب سے کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں اجازت کے بغیربورڈز آویزاں کردیے جاتے ہیں، کے ایم سی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیاتھا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013کی دفعہ 160(2)اوردیگر رائج قوانین کے تحت سائن بورڈز اور ہورڈنگز آویزاں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور سخت نگرانی کے باعث غیرقانونی بورڈز لگانا ممکن نہیں، اس مد میں 85 کروڑ روپے تک آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا تھاکہ شہر میں صرف کے ایم سی نہیں بلکہ کنٹونمنٹ بورڈز،پاک بحریہ،رینجرز،سول ایوی ایشن اتھارٹی، ڈی ایچ اے اور کے پی ٹی سمیت 17ایجنسیز بل بورڈز اور ہورڈنگز آویزاں کرنے کی اجازت دینے کی مجاز ہیں۔
Load Next Story