تمام ’’لوجیوں‘‘ کی ماں …روٹیالوجی

کتابوں نے کیا دیا ہے؟ روٹی دی ہے کیوں کہ کتاب تو روٹی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے

barq@email.com

جس طرح ضرورت ایجاد کی والدہ محترمہ ہے، قبض ام الامراض اور شراب ام الخبائث ہے، ''سوال'' علوم کی ماں ہے، جھوٹ سیاست کی ''ممی'' ہے، کرسی لیڈروں کی ''امی جان'' ہے، ٹھیک اسی طرح ''روٹیالوجی'' بھی باقی کی تمام لوجیوں کی ماں ہے مثلاً سوشیالوجی، میتھالوجی، بیالوجی، انتھراپالوجی، کرسیالوجی، ٹرخالوجی، کرپشنالوجی، چمچالوجی ... سب کی سب چھوٹی بڑی ''لوجیاں'' اس ''روٹیالوجی'' کی اولاد ہیں بلکہ دوسری مائیں مثلاً ضرورت، قبض، شراب، وغیرہ بھی اس کی دختران بداختران ہیں ،گویا اسے ہم ''ماں'' کے بجائے نانی اماں بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس کی تحقیق میں پاکستان کی بہت ساری اکیڈمیاں، بورڈز اور یونی ورسٹیاں لگی ہوئی ہیں اور روٹیالوجی پر زبردست تحقیقات کر رہی ہیں لیکن کچھ ''بے وثوق'' قسم کی تحقیقات میں بتایا جاتا ہے کہ روٹیالوجی کی ابتدا ٹھیک اس وقت سے ہوتی ہے جب اماں حوا ایک پتھر کے توے پر روٹیاں پکا رہی تھیں، دراصل جس نامراد گندم نے انھیں جنت سے نکلوایا تھا، اس سے انتقام لینے کی خاطر وہ اسے کوٹ کوٹ کر اور پیس پیس کر گرم توے پر سزا دے رہی تھیں۔

لیکن پہلی روٹی پکنے پر قابیل اور ہابیل اپنے اپنے کام سے واپس آئے اور اپنے خاندانی دشمن گندم کی روٹی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگے۔ قابیل نے تو جھپٹا مار کر گرم گرم روٹی اٹھا بھی لی لیکن ہابیل نے اپنا دعویٰ دائر کرتے ہوئے آدھی روٹی مانگی۔ قابیل نے ڈنڈی مارتے ہوئے ایک چھوٹا ٹکڑا ہابیل کو دے کر بڑا ٹکڑا خود رکھنا چاہا لیکن ہابیل حصہ بقدر جثہ پر اصرار کرنے لگا۔ دونوں جھگڑتے ہوئے گھر سے باہر نکل آئے، پہلے دونوں میں ''تُو تُو میں میں'' ہوئی پھرآخری نتیجہ یہ ہوا کہ بے چارا ہابیل مارا گیا اور قابیل فرار ہوگیا، لیکن اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ... باتوں کے بتنگڑ تو بن ہی جاتے ہیں۔

خیر ابتدا جو بھی ہو، انتہا یہ ہے کہ دنیا کے تمام علوم و فنون فلسفے، نظریے، تحریکیں، انقلابات سب کچھ اس روٹی نے ''روٹیا'' لیا ہے۔ ایسا کوئی انسان ہے ہی نہیں جس کی قیمض کے نیچے ایک عدد شکم نہ ہو اور اس شکم میں روٹی کا غم نہ ہو۔

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

اسی روٹی کے سب اسیر ہوئے

پہلے روٹی ایک عام سی چیز تھی لیکن کچھ سال پہلے سر زمین ہند میں ایک فلسفی شاعر پیدا ہوا، نظیر اکبر آبادی اس کا نام تھا۔ اس نے روٹی کو باقاعدہ ایک فلسفہ بنا کر ''لوجی'' بنا دیا، تب سے اب تک اسے روٹیالوجی ہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ سنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت تک نہ تو کوئی شخص ملازم ہو سکتا ہے اور نہ ہی سیاست جوائن کر سکتا ہے جب تک اس نے روٹیالوجی میں کم از کم ایم فل نہ کیا ہو، وضاحتاً عرض ہے کہ یہ لفظ وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ یہ ''ایم فل'' اصل میں (I AM Full) ہوتا ہے۔ خصوصاً سیاست تو (FULL) پیٹ کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی، چاہے وہ دینی سیاست ہو یا دنیاوی دونوں کے لیے ''پیٹ بھرا'' یعنی شکم پُر یا شکم فل ہونا ضروری ہے۔

ایسے لوگوں کی پہچان دور ہی سے ہو جاتی ہے کیوں کہ ان کے جسم کا درمیانی حصہ جس کا مرکز ''ناف'' ہوتا ہے، چاروں اطراف میں کچھ زیادہ ہی متجاوز ہوتا ہے، اگرچہ دنیا میں کسی بھی ملک یا قوم و مذہب کا انسان اس روٹی کے عشق سے بچا ہوا نہیں ہے لیکن اکثر لوگ اپنے روٹی کے عشق کو دوسرے پردوں میں چھپائے رہتے ہیں۔ مثلاً کوئی طوائف یا کرینہ کترینہ یا ملکہ شراوت، راکھی ساونت یا ودیا بالن، دیپکا پاڈوکون، دیوانی تو روٹی کی ہوتی ہیں، اصل مدعا و مقصد ان کا یہی ہوتا ہے لیکن اپنی اس کوشش کو دوسرے نام دیتی ہیں، فن، ہنر اور خدمت، مطلب یہ کہ اگر کوئی طوائف بیچ بازار میں ناچ رہی ہے یا کوئی لیڈر کسی اسٹیج پر نرت دکھا رہا ہے یا کوئی مذہبی ہستی مسجد، مندر، گرجا گردوارے میں کمالات دکھا رہی ہے تو ہاتھی کے دانت ان کے خواہ کچھ بھی ہوں لیکن اصل دانتوں میں اس نامراد روٹی کا ہی لقمہ ہوتا ہے۔

اور تو اور یہ جو دنیا میں اسکول ہیں، مدرسے ہیں، کالجز ہیں، یونی ورسٹیاں ہیں، کتابیں ہیں، اخبار ہیں، رسالے ہیں، ٹی وی ہیں، اینکر ہیں، تھنکر ہیں، بینکر ہیں سب کے سب جو کچھ بھی کرتے ہیں روٹیالوجی ہی کے لیے کرتے ہیں، روٹیالوجی کے سب سے بڑے اسکالر علامہ نظیر اکبر آبادی نے کہا ہے کہ دنیا میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح جا کر روٹی سے نہ ملتے ہیں، ایک اور شاعر نے بھی کہا ہے کہ

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے

سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

آخری مصرعے میں یہ شاعر کچھ تشکیک کا شکار ہو کر بھٹک گیا ہے۔ کتابوں نے کیا دیا ہے؟ روٹی دی ہے کیوں کہ کتاب تو روٹی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، یقین نہ ہو تو کسی بھی سرکاری اسکول کالج مکتب و مدرسہ اور ''اکاڈمی'' والوں سے جاکر پوچھ لیجیے ، وہ ترنت بتا دیگا کہ کتابیں روٹی ہی تو دیتی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ روٹی بھی کتابیں دیتی ہے۔ اگر آپ کہیں کسی کتابوں کی دکان پر گئے ہوں تو وہاں دیکھا ہو گا کہ ہر نئی حکومت کے ساتھ کچھ نئی اقسام کی کتابیں اچانک برساتی کھمبیوں کی طرح اُگ آتی ہیں جن میں کچھ شہیدوں اور عظیم ہستیوں کا ذکر ہوتا ہے، ایسی کتابیں دیکھ کر ہمیں تو اکثر لگتا ہے جیسے یہ کتابیں نہ ہوں روٹیاں ہی ہوں اور یہ سادہ دل شاعر پھر بھی کہتا ہے کہ کتابوں نے کیا دیا مجھ کو ... نا سمجھ کہیں کا ... علامہ نظیر اکبر آبادی آف روٹیالوجی نے فرمایا ہے کہ

جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں

پھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں

آنکھیں پری رُخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں

سینے اوپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں


جتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں

ویسے یہ درست ہے کہ آج تک انسانی علوم کے ماہر روٹی کو پوری طرح سمجھ ہی نہیں پائے کیوں کہ جب یہ پیٹ میں نہیں ہوتیں تب بھی غضب اور جب پیٹ میں آجاتی ہیں تو پھر غضب پر غضب ہو جاتا ہے، جب یہ پیٹ ہی نہیں ہوتا تو یوں ہوتا ہے

پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے

یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے

وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے

ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے

بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں

روٹیالوجی کے ماہرین نے یہ پتہ لگایا ہے کہ جب کسی کے پیٹ میں یہ روٹیاں پہنچتی ہیں تو کیا کیا قیامتیں اٹھاتی ہیں،کھڑاگ پھیلاتی ہیں اور تماشے دکھاتی ہیں،

روٹی جب آئی پیٹ میں سوقند کُھل گئے

گلزار پھولے آنکھوں میں سو عیش تُل گئے

دو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈُھل گئے

چودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کُھل گئے

یہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاں

دور جدید کے سیاسی اور سائنسی علماء کا کہنا ہے کہ دنیا میں جس نے روٹیالوجی کا فلسفہ سمجھ لیا، اس نے گویا سارے کے سارے علوم گھول کر پی لیے ،

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
Load Next Story