منی پاکستان رینجرز ہیڈ کوراٹرز پر خود کش حملہ
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی میںروزانہ 6,5 افراد کی ہلاکت سوالیہ نشان ہے.
سیکیورٹی اہلکاروں کو حساس اور دہشت گردوں کے ٹارگٹڈ علاقوں میں ہائی الرٹ رہنا چاہیے تھا تاکہ کوئی وہاں پر نہ مار سکتا. فوٹو: اے ایف پی/ فائل
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاکBمیں واقع سچل رینجرز کے ہیڈکوارٹرز پر جمعرات کو الصبح 6بجکر55منٹ منی ٹرک کے ذریعے خود کش بم دھماکے کے نتیجے میں 3 رینجرز اہلکار جاں بحق جب کہ اہلکاروں سمیت21 افراد زخمی ہوگئے ۔
طالبان نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے جب کہ سی آئی ڈی پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس میں لشکر جھنگوی ملوث ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے3اہلکاروں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے،نارتھ ناظم آباد میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر خود کش بم دھماکے کی سی سی کیمرہ فوٹیج نارتھ ناظم آباد پولیس نے حاصل کر لی ، فوٹیج میں بارود سے بھری شہزور ٹرک کو گولی میں تیزی سے آتے اور رینجرز ہیڈ کوارٹر کے رہائشی کمپلکس کے مین گیٹ سے ٹکرا کر ایک درخت اور پھر عمارت کی دیوار کے ساتھ ٹکرا کر دھماکا ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آواز کئی کئی میل دور سنی گئی، بم دھماکے کے نتیجے میں رینجرز ہیڈ کوارٹر کے قریب عمارتوں ، فیکٹریوں اور گھروں کی کھڑکیاں ، دروازے اور شیشے اور ٹین کی چھتوں کے ٹکڑے ٹوٹ کر دور دور تک بکھر گئے، حملے کے باعث رینجرز ہیڈکوارٹر کی رہائشی عمارت میں آگ بڑک اٹھی جب کہ عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہو گیا۔
دھماکے کے نتیجے میں رینجرز ہیڈکوارٹر کے ساتھ بنی ہوئی چوکیاں مکمل طور پر تباہ جب کہ مسجد بھی شہید ہو گئی ، دریں اثنا کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ سے مزید12 افراد ہلاک اوربچی سمیت8افراد زخمی ہوگئے۔کچھ پتا نہیں کہ کب تک منی پاکستان سمیت ملک بھر میں میں لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے جب کہ دہشت گرد اسی طرح حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے لاقانونیت اور بربریت کا بازار گرم کرتے رہیں گے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی میںروزانہ 6,5 افراد کی ہلاکت سوالیہ نشان ہے، یہ ریمارکس کراچی میں بلوچ رہنما بختیار ڈومکی کی بیٹی اور اہلیہ کے قبل پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیے گئے جب کہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ریڈ الرٹ کی وہ پیشگی وارننگز ہیں جو خود وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی و وفاقی حکومت کے ارباب اختیار کو جاری کی تھیں۔
جن کی روشنی میں سیکیورٹی اہلکاروں کو حساس اور دہشت گردوں کے ٹارگٹڈ علاقوں میں ہائی الرٹ رہنا چاہیے تھا تاکہ کوئی وہاں پر نہ مار سکتا،اگر دہشت گرد اندر داخل ہوں تو واردات سے پہلے ہی مارے جائیں یا ان کی گرفتاری یقینی ہو ۔منی پاکستان میں ہونے والی کل کی واردات کی ابتدائی تفتیش کے حوالہ سے ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان نے ایکسپریس کو بتایا کہ دھماکے میں کالعدم لشکر جھنگوی نعیم بخاری گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے ،ایک اور رپورٹ کے مطابق اس میں تحریک طالبان پاکستان کے المنصور گروپ کا ہاتھ ہے۔ تاہم حکام واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں ۔
کالعدم لشکری جھنگوی سے تعلق رکھنے والا نعیم بخاری اس سے قبل بھی شہر میں دہشت گردی کی متعدد وارداتوں اور رینجرز پر حملوں میں ملوث ہے ،40 سے 45 سالہ نعیم بخاری کا آبائی تعلق سکھر سے ہے جب کہ یہ کالعدم القاعدہ کا اہم رکن بھی ہے، انھوں نے بتایا کہ نعیم بخاری سکھر سے کراچی آگیا تھا اور ناظم آباد پاپوش نگر میں رہائش اختیار کی تھی ، کراچی یونیورسٹی میں پنجابی مجاہدین کے نام سے اپنا ایک گروپ بنایا تھا تربیت حاصل کرنے وزیرستان چلا گیا تھا جہاں اس نے کالعدم لشکر جھنگوی میں شمولیت اختیار، کراچی میں متعدد ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں میں بھی ملوث ہے ان دنوں کراچی میں طالبان کے لیے کام کر رہا تھا۔اب جب کہ اتنی معلومات اور اس دہشت گرد کے بارے میں جمع کی جاچکی ہیں تو اس کی گرفتاری میں تاخیر کیوں ہورہی ہے۔وہ کہیں بھی روپوش ہو پولیس ، رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اسے اور ہر قانون شکن اور ریاست سے ٹکر لینے والے دہشت گرد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں ۔
ملک دشمنوں سے اب کوئی رعایت مجرمانہ غفلت قرار پائے گی ، ہلاکتوں کا سلسلہ رکنا چاہیے ۔ ان وارداتوں میں اگر غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں تو وہ بھی کاٹ دینے چاہییں۔وزیرداخلہ سینیٹر رحمٰن ملک سے ہماری اتنی گزارش ہے کہ وہ عوام کو صرف خبردار نہ کریں بلکہ ٹھوس اقدامات سے ان کے دل جیتیں اور دہشت گردوں کے حوصلے پست کردیں۔ عوام آخر کس طرح محتاط رہیں، محرم میں اگر بڑی دہشت گردی کا خطرہ ہے تو اسے روکنے کی ذمے داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہے ۔ عوام قانون کی حکمرانی اور دہشت گردی کا ہر قیمت پر خاتمہ چاہتے ہیں جب کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ سیکیورٹی پر مامور حکام جب خود بینکروں میں رہنے لگیں گے تو عوام بیچارے کہاں جائیں، وہ تو اپنے گھر،دفتر، تجارتی مراکز تعلیمی اداروں ،مسجدوں ، امام بارگاہوں، مندروں، گرجائوں،سڑکوں اور اپنے محلہ میں غیر محفوظ ہیں ، وہ کیا احتیاط کریں۔
ریاست کی بنیادی ذمے داری ان کے جان و مال کی حفاظت ہے۔اس لیے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ملک گیر سطح پر وزیرستان سے لے کر منی پاکستان تک انتہا پسندوں کے خلاف جارحانہ اور فول پروف کائونٹر ٹیررازم اسٹرٹیجی تیار کی جائے جس کے فقدان کے باعث قانون کی رٹ قائم کرنے اور دہشت گردی کی کمر توڑنے میں ناکامی بہر صورت تشویش ناک ہوگی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے دہشت گردی کی پیشگی اطلاع کے باوجود بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے اندوہ ناک معاملے کے تناظر میںقانون کے نفاذ اور سلامتی پر مامور اداروںکی کارکردگی پر نظر ثانی اشد ضروری ہے۔
طالبان نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے جب کہ سی آئی ڈی پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس میں لشکر جھنگوی ملوث ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے3اہلکاروں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے،نارتھ ناظم آباد میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر خود کش بم دھماکے کی سی سی کیمرہ فوٹیج نارتھ ناظم آباد پولیس نے حاصل کر لی ، فوٹیج میں بارود سے بھری شہزور ٹرک کو گولی میں تیزی سے آتے اور رینجرز ہیڈ کوارٹر کے رہائشی کمپلکس کے مین گیٹ سے ٹکرا کر ایک درخت اور پھر عمارت کی دیوار کے ساتھ ٹکرا کر دھماکا ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آواز کئی کئی میل دور سنی گئی، بم دھماکے کے نتیجے میں رینجرز ہیڈ کوارٹر کے قریب عمارتوں ، فیکٹریوں اور گھروں کی کھڑکیاں ، دروازے اور شیشے اور ٹین کی چھتوں کے ٹکڑے ٹوٹ کر دور دور تک بکھر گئے، حملے کے باعث رینجرز ہیڈکوارٹر کی رہائشی عمارت میں آگ بڑک اٹھی جب کہ عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہو گیا۔
دھماکے کے نتیجے میں رینجرز ہیڈکوارٹر کے ساتھ بنی ہوئی چوکیاں مکمل طور پر تباہ جب کہ مسجد بھی شہید ہو گئی ، دریں اثنا کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ سے مزید12 افراد ہلاک اوربچی سمیت8افراد زخمی ہوگئے۔کچھ پتا نہیں کہ کب تک منی پاکستان سمیت ملک بھر میں میں لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے جب کہ دہشت گرد اسی طرح حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے لاقانونیت اور بربریت کا بازار گرم کرتے رہیں گے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی میںروزانہ 6,5 افراد کی ہلاکت سوالیہ نشان ہے، یہ ریمارکس کراچی میں بلوچ رہنما بختیار ڈومکی کی بیٹی اور اہلیہ کے قبل پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیے گئے جب کہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ریڈ الرٹ کی وہ پیشگی وارننگز ہیں جو خود وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی و وفاقی حکومت کے ارباب اختیار کو جاری کی تھیں۔
جن کی روشنی میں سیکیورٹی اہلکاروں کو حساس اور دہشت گردوں کے ٹارگٹڈ علاقوں میں ہائی الرٹ رہنا چاہیے تھا تاکہ کوئی وہاں پر نہ مار سکتا،اگر دہشت گرد اندر داخل ہوں تو واردات سے پہلے ہی مارے جائیں یا ان کی گرفتاری یقینی ہو ۔منی پاکستان میں ہونے والی کل کی واردات کی ابتدائی تفتیش کے حوالہ سے ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان نے ایکسپریس کو بتایا کہ دھماکے میں کالعدم لشکر جھنگوی نعیم بخاری گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے ،ایک اور رپورٹ کے مطابق اس میں تحریک طالبان پاکستان کے المنصور گروپ کا ہاتھ ہے۔ تاہم حکام واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں ۔
کالعدم لشکری جھنگوی سے تعلق رکھنے والا نعیم بخاری اس سے قبل بھی شہر میں دہشت گردی کی متعدد وارداتوں اور رینجرز پر حملوں میں ملوث ہے ،40 سے 45 سالہ نعیم بخاری کا آبائی تعلق سکھر سے ہے جب کہ یہ کالعدم القاعدہ کا اہم رکن بھی ہے، انھوں نے بتایا کہ نعیم بخاری سکھر سے کراچی آگیا تھا اور ناظم آباد پاپوش نگر میں رہائش اختیار کی تھی ، کراچی یونیورسٹی میں پنجابی مجاہدین کے نام سے اپنا ایک گروپ بنایا تھا تربیت حاصل کرنے وزیرستان چلا گیا تھا جہاں اس نے کالعدم لشکر جھنگوی میں شمولیت اختیار، کراچی میں متعدد ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں میں بھی ملوث ہے ان دنوں کراچی میں طالبان کے لیے کام کر رہا تھا۔اب جب کہ اتنی معلومات اور اس دہشت گرد کے بارے میں جمع کی جاچکی ہیں تو اس کی گرفتاری میں تاخیر کیوں ہورہی ہے۔وہ کہیں بھی روپوش ہو پولیس ، رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اسے اور ہر قانون شکن اور ریاست سے ٹکر لینے والے دہشت گرد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں ۔
ملک دشمنوں سے اب کوئی رعایت مجرمانہ غفلت قرار پائے گی ، ہلاکتوں کا سلسلہ رکنا چاہیے ۔ ان وارداتوں میں اگر غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں تو وہ بھی کاٹ دینے چاہییں۔وزیرداخلہ سینیٹر رحمٰن ملک سے ہماری اتنی گزارش ہے کہ وہ عوام کو صرف خبردار نہ کریں بلکہ ٹھوس اقدامات سے ان کے دل جیتیں اور دہشت گردوں کے حوصلے پست کردیں۔ عوام آخر کس طرح محتاط رہیں، محرم میں اگر بڑی دہشت گردی کا خطرہ ہے تو اسے روکنے کی ذمے داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہے ۔ عوام قانون کی حکمرانی اور دہشت گردی کا ہر قیمت پر خاتمہ چاہتے ہیں جب کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ سیکیورٹی پر مامور حکام جب خود بینکروں میں رہنے لگیں گے تو عوام بیچارے کہاں جائیں، وہ تو اپنے گھر،دفتر، تجارتی مراکز تعلیمی اداروں ،مسجدوں ، امام بارگاہوں، مندروں، گرجائوں،سڑکوں اور اپنے محلہ میں غیر محفوظ ہیں ، وہ کیا احتیاط کریں۔
ریاست کی بنیادی ذمے داری ان کے جان و مال کی حفاظت ہے۔اس لیے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ملک گیر سطح پر وزیرستان سے لے کر منی پاکستان تک انتہا پسندوں کے خلاف جارحانہ اور فول پروف کائونٹر ٹیررازم اسٹرٹیجی تیار کی جائے جس کے فقدان کے باعث قانون کی رٹ قائم کرنے اور دہشت گردی کی کمر توڑنے میں ناکامی بہر صورت تشویش ناک ہوگی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے دہشت گردی کی پیشگی اطلاع کے باوجود بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے اندوہ ناک معاملے کے تناظر میںقانون کے نفاذ اور سلامتی پر مامور اداروںکی کارکردگی پر نظر ثانی اشد ضروری ہے۔