اصغر خان کیس زندہ رہے گا

پاکستانی قوم سے تعزیت کہ ان کی قومی قیادت جو مری ہوئی تھی اب اس کی وفات کا اعلان بھی ہو گیا ہے۔

Abdulqhasan@hotmail.com

سوائے تفصیلات کے دوسرا سب کچھ آپ کی طرح مجھے بھی پہلے سے معلوم تھا۔ صرف ایک حقیقت پہلی بار منکشف ہوئی کہ کون کتنا لے گیا۔

سیاستدانوں اور صحافیوں کے ساتھ عمر گزر گئی، ان کے آگے پیچھے پھرتے پھراتے جوان اور معمر ہوئے، ان کے اقوال زریں سے قوم کو لمحہ بہ لمحہ مطلع کرتے رہے اور اب تو یوں کہیں کہ گمراہ کرتے رہے مثلاً میں کیا عرض کروں، ایک رات کے نصف گزر جانے پر میں نے ایک بڑے لیڈر کے ہاں حاضری دی، مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے پی این اے کی کس جماعت سے کتنے وزیر لیے ہیں اور کیا آپ کے وزیر بھی اس فوجی حکومت میں شامل ہوں گے۔ اس پر انھوں نے گویا بپھر کر کہا کہ کیا بات کرتے ہیں۔

اس مہنگی سیاست میں میرے پاس کچھ بھی نہیں رہا، اب اگر میں اس وزارت میں شامل ہو جائوں تو گویا بالکل قلاش ہو جائوں۔ انھوں نے جس طرح منہ بھر کر 'قلاش' کا لفظ کہا، اس کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ میں آرام سے گھر آ کر سو گیا کہ اس فوجی وزارت کی تشکیل کی ابتدائی خبر میں دے چکا تھا لیکن یہ صبح کے اخبارات سے انکشاف ہوا کہ ہمارے وہ قومی رہنما تو راتوں رات قلاش ہو گئے بلکہ جب مجھ سے ملے تھے تو ہو چکے تھے، بس جھوٹ بول رہے تھے اور میں اسے تسلیم کر رہا تھا اور رپورٹنگ کی ایک کوتاہی کے باوجود گھر پر سو رہا تھا تو خواتین حضرات عرض یہ کر رہا تھا کہ میں ان قائدین سیاست و صحافت کو جانتا تھا اب بذریعہ عدالت جو انکشافات ہوئے ہیں ان میں سے چند ایک اضافہ بنے ہیں۔

پاکستانی قوم سے تعزیت کہ ان کی قومی قیادت جو مری ہوئی تھی، اب اس کی وفات کا اعلان بھی ہو گیا ہے۔ ہر پاکستانی اپنے گھر میں ہی پھوڑی بچھا کر ماتم کر لے۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ ہمارے جن سیاسی قائدین کے نام موجود ہیں، انھیں آپ صرف ایک نمونہ سمجھیں ،اس فصل کے انبار کا جو مارکیٹ میں برائے فروخت موجود ہے یعنی وہی بات کہ

کوئی مشتری ہو تو آواز دے دے
میں کم بخت جنسِ ہنر بیچتا ہوں

مگر صد افسوس کہ یہ لوگ اپنی جنس ہنر ہی نہیں قوم کو بھی ساتھ ہی بیچ دیتے ہیں۔ اپنے قائدین کی حرکات، اعمال اور اقوال کے حوالے دنیا شروع کروں تو بات کالم سے نکل کر کسی کتاب تک پہنچ جائے۔ کون سا فوجی حکمران یعنی ان سیاستدانوں کی زبان میں آمر تھا جس کے ساتھ انھوں نے تعاون نہیں کیا۔ ایوب خان سے جنرل پرویز مشرف تک۔ ایوب خان نے کچھ کوشش کی کہ وہ ان قومی لیڈروں کے بغیر ہی حکومت چلا لے لیکن انھوں نے اس کا اس طرح ہنر مندی کے ساتھ گھیرائو کیا کہ وہ سیاسی جماعت بنانے پر مجبور ہو گیا۔ کنونشن لیگ بنی اور سیاستدان وزارتوں میں جلوہ افروز ہو گئے۔

ایوب کی پہلی کابینہ میں اس وقت تک قائداعظم کی آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے جو ارکان زندہ تھے وہ سب شامل تھے یعنی یہ بدقسمت اپنی زندگی میں ہی مرحوم ہو گئے۔ کوئی بھی فوجی حکمران اگرچہ اپنی اصل طاقت فوج سے حاصل کرتا ہے لیکن حکومت کا کاروبار چلانے کے لیے اسے کرائے کے لوگ درکار ہوتے ہیں جنھیں ہم سیاستدان کہتے ہیں۔ شاید ہی کوئی سیاستدان ہو جس کو موقع ملا ہو اور وہ کسی فوجی حکومت کے ساتھ نہ گیا ہو۔ ایک پنجابی مثل کے مطابق سور اس نے نہیں کھایا جسے ملا نہیں۔ شریعت میں زندگی بچانے کے مجبوراً خنزیر کھانا جائز ہے مگر ہماری سیاسی شریعت میں اس کی تلاش اور پھر اس کو کھانا حلال ہے۔ شیخ رشید درست کہا کرتے ہیں کہ کوئی سیاستدان ہے جس کی پرورش فوج کے گملے میں نہیں ہوئی۔ کیا پیپلز پارٹی والوں کو یاد ہے کہ بھٹو صاحب ایوب خان کے پروردہ اور ان کے بیٹوں کے برابر تھے اور وہ اسے ڈیڈی کہا کرتے تھے۔


ائر مارشل اصغر خان کے معمر کیس میں جو برسوں تک عدالت میں پڑا گلتا سڑتا رہا، اب جب جسٹس افتخار نے جرات کر کے اسے باہر نکالا ہے تو ہماری سیاسی زندگی پر سے نہ جانے کتنے نقاب الٹ گئے ہیں۔ اس جج کی جرنیلوں کے سامنے جرات انکار تاریخ کا حصہ ہے اور پاکستان کی روشن تاریخ اگر کہیں ہے تو اس سے جگمگا رہی ہے۔ میرے جد امجد سیدنا حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ خدا جب کسی کو دولت اور اقتدار دیتا ہے تو وہ شخص اس سے بدلتا نہیں ہے بلکہ بے نقاب ہوتا ہے یعنی اس کی اصل کھل کر سامنے آتی ہے۔ ہمارے جسٹس افتخار کی جرات مندی نے خدا جانے کتنے ہی خوبصورت نقاب الٹ کر مشہور چہرے ننگے کر دیے ہیں۔

قدرت نے اس منصف کی زندگی میں نہ جانے کتنے کارنامے لکھ دیے ہیں اور اس زوال پذیر قوم کو اس شخص کے ذریعے کتنی زندگیاں عطا کی جا رہی ہیں۔ اب جب ایک طویل فہرست بے نقاب ہوئی ہے تو مجھے یوں لگ رہا ہے کہ وہ چہرے کہاں ہیں جو ابھی تک زیر نقاب ہیں۔ بلاشبہ ان میں کئی پرنور روشن چہرے بھی ہیں لیکن جب کوئی آفت ٹوٹتی ہے تو وہ کسی نیک اور پارسا کا لحاظ نہیں کرتی۔ کسی نے اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ اچھے لوگوں کو برے لوگوں کو برداشت کرنے کی سزا ملتی ہے جو بھی ہو اب تو یہی لگتا ہے کہ ہماری سیاسی دنیا میں اور سچ کہوں تو صحافتی دنیا میں بھی کون ہے جس کا دامن صاف ہے اور جو اسے سب کے سامنے سوکھنے کے لیے رسی پر ڈال سکتا ہے۔ یہ شیخ سعدی کا ایک شعر ہے کہ

ہر کسے را دامنِ تر ہست امّا دیگراں
باز می پوشند و من در آفتاب انداختم

''یوں تو ہر کسی کا دامن کسی گندگی سے تر ہے لیکن فرق یہ ہے کہ وہ اس تر کپڑے کو پھر سے پہن لیتے ہیں مگر ہم اسے سوکھنے کے لیے دھوپ میں ڈال دیتے ہیں۔'' دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اب دھوپ میں بھی کوئی پیرہن سوکھتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ ہر کسی نے اسے پھر سے پہن رکھا ہے مگر میں داد دوں گا سیدانی عابدہ حسین کو جس نے یہ دامن باہر دھوپ میں سکھانے کے لیے ڈال دیا ہے اور کہا ہے کہ دیکھو میں نے اسے دوبارہ پہننے سے انکار کر دیا ہے اور اب اس کی معروف سزا کے لیے تیار ہوں مگر عابدہ سے زیادہ بڑے لیڈروں کو ایسی جرات نہیں ہوئی۔ وہ تردیدیں کرتے ہیں اور اپنی لی ہوئی رقم کی رسیدیں طلب کرتے ہیں۔ مثلاً میں نے تو زندگی میں کسی سے کچھ لیا ہے تو اس کی رسید نہیں دی۔ مجلس احرار کے شیخ حسام الدین کی بات یاد آتی ہے کہ وہ سیالکوٹ میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے اور چندے کی اپیل کر رہے تھے کہ جلسہ گاہ میں سے کسی نے اٹھ کر پوچھا کہ جناب پہلے جو چندہ دیا تھا اس کا کیا بنا۔

اس پر شیخ صاحب نے گرج کر کہا جس نے حساب لینا ہو وہ چندہ نہ دے مگر آج نہ کوئی عابدہ ہے نہ کوئی شیخ حسام الدین۔ وہ ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر سب کچھ کرتے ہیں اور قوم کی قیادت کے دعوے دار بھی ہیں۔ جب تک اپنا گیلا دامن خشک کرنے کے لیے سب کے سامنے دھوپ میں ڈالنے اور مال لینے کا عابدہ کی طرح اعتراف نہیں کرتے تب تک یہ قوم آگے نہیں بڑھ سکتی اور اس کی ایک واضح وجہ ہے، رسول ہاشمی کی یہ امت ایک خاص انداز میں وجود میں آئی ہے اور یہ دنیا کی روایتی ترقی یافتہ قوموں کی طرح بے دھڑک ہو کر زندگی بسر کرنے کی اہل نہیں ہے، اسے اس کے عقیدے روکتے ہیں جو اس کی رگ وپے میں سرائیت کر چکے ہیں۔

کیونکہ ع خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی۔ اس قوم کے اندر سے اس کا مذہب نکال دیں جس کی ان دنوں سخت کوشش کی جا رہی ہے ،جرات و جسارت کا یہ عالم ہے اسلام اور سیکولرزم پر ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے جب کہ یہ ریفرنڈم ایک بار رسول ہاشمی کی قیادت میں سر زمین عرب پر اور ایک بار محمد علی جناح کی قیادت میں سر زمین ہند پر ہو چکا ہے۔ دنیا کی ہر طاقت نے اس ریفرنڈم کو کالعدم کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوئی۔ آج کے ریفرنڈم پسند دانشور کیا کر لیں گے۔ غنیمت ہے، ایک اُمتّی افتخار محمد چوہدری جو پھونکوں سے چہروں پر سے نقاب الٹ رہا ہے۔

اصغر خان کا کیس جاری رہے گا اور اس پر فیصلے بار بار آتے رہیں گے۔
Load Next Story