مسئلہ کشمیر اور بھارتی رویہ

بھارت تیزی سے ترقی کر رہا ہے جس کی بنا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ مستقبل کی ایک بڑی اقتصادی قوت بن کر ابھرے گا

دہشت گردی کا ناسور نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے جس کے خاتمے کے لیے ہر ملک کو اپنی اپنی سطح پر کوشش کرنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

KHULNA:
دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ کشمیر کا تنازعہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور پاک بھارت مذاکراتی ایجنڈے میں شامل ہے' مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف میں تبدیلی کا تاثر بے بنیاد ہے' پاکستان اور بھارت کے مابین جب بھی مذاکرات ہوں گے مسئلہ کشمیر اس میں شامل ہو گا' پاکستان اور بھارت کے مابین قیادت کی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم الزامات عائد کرنے سے باہمی تناؤ کم کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔

بھارت کی موجودہ حکومت ایک عرصے سے یہ کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ جب بھی مذاکرات کا عمل شروع ہو اس میں مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کیا جائے۔ اب برطانیہ بھی بھارت کے اس موقف کی حمایت کرتا نظر آنے لگا ہے۔ چند روز قبل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا تھا کہ پاک بھارت مذاکرات کو کشمیر سے مشروط نہ کیا جائے۔

بھارت تیزی سے ترقی کر رہا ہے جس کی بنا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ مستقبل کی ایک بڑی اقتصادی قوت بن کر ابھرے گا یہی وجہ ہے کہ برطانیہ سمیت بہت سے یورپی ممالک کے تجارتی اور اقتصادی مفادات بھارت سے وابستہ ہوتے چلے جا رہے ہیں اور وہ اپنے ان مفادات کے حصول کے لیے بھارت کے ہر جائز اور ناجائز موقف کی حمایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں حتیٰ کہ سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے حصول کے لیے بھی وہ بھارت کے شانہ بشانہ دکھائی دیتے ہیں۔

مودی سرکار نے برسراقتدار آنے کے بعد وہی روایتی رٹ لگانا شروع کر دی تھی کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے لہٰذا وہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان سے بات چیت کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوگا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر بھی اپنے اس موقف کی حمایت کے لیے اندرون خانہ مہم چلا رہا ہے۔


پاکستان بارہا اپنا یہ موقف واضح کر چکا ہے کہ بھارت کے ساتھ جب بھی مذاکرات ہوں گے اس میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہو گا' یہ مسئلہ حل ہوئے بغیر مذاکرات کا کوئی بھی عمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے لہٰذا اقوام متحدہ پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ لیکن اقوام متحدہ نے آج تک اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور نہ کبھی بھارت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اسے حل کرنے کے لیے کوشش کرے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان اعلیٰ سطح پر بھی مذاکرات ہو چکے ہیں اگرچہ ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور مسئلہ جوں کا توں چلا آ رہا ہے۔

عالمی قوتوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا پاک بھارت تعلقات میں بہتری نہیں آ سکتی۔ اس لیے اس کو مذاکراتی عمل سے مائنس کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے لیکن بھارت کا جارحانہ اور متعصبانہ رویہ اس سلسلے میں مسلسل رکاوٹ بن رہا ہے۔ اس وقت بھارت میں کرکٹ میچ کے حوالے سے انتہا پسند ہندوؤں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے خلاف جس انداز میں متعصبانہ اور نفرت انگیز مہم چلائی اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی حکومت بھی انتہا پسند اور جنونی ہندوؤں کا ساتھ دے رہی ہے اور وہ انھیں روکنے کے لیے کوئی مناسب اقدام نہیں کر رہی۔ پاکستان پورے خطے میں امن کا خواہاں ہے اس لیے اس کی یہ کوشش ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کا قیام یقینی بنایا جائے اس کے لیے وہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اسی حوالے سے کہا کہ پاکستان' امریکا' چین اور افغانستان افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے تشکیل کردہ چار ملکی رابطہ گروپ میں شامل ہیں اور یہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمے داری ہے کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔

دہشت گردی کا ناسور نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے جس کے خاتمے کے لیے ہر ملک کو اپنی اپنی سطح پر کوشش کرنا چاہیے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ مین کا کردار ادا کیا ہے اور اب بھی وہ اپنے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن کر رہا ہے جس میں اس نے واضح کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بہر حال تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کا رویہ ہمیشہ سے تاخیری رہا ہے۔

جب بھی مذاکرات کا ماحول بنا' بھارتی لیڈر شپ نے حیلوں بہانوں سے تنازعہ کشمیر پر گرما گرمی پیدا کرنے کی کوشش کی' ادھر بھارتی دانشور یہ کہنا شروع ہو جاتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کو ایک طرف کر کے تجارتی معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔یہی وہ رویہ ہے جو دو طرفہ تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
Load Next Story