امریکی الزامات کا چین کی طرف سے سخت جواب

دنیا بھر میں حقوق انسانی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے امریکا کا اصل چہرہ اس قدر مکروہ اور بھیانک ہے

امریکا چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت سے خوفزدہ ہو کر چین کے خلاف منفی پراپیگنڈے میں مصروف ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا چین پر شروع ہی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کر رہا ہے جس کا اعادہ اس نے جنیوا میں گزشتہ روز منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کے اجلاس میں کیا تاہم اس مرتبہ چین نے خلاف معمول خاموشی اختیار کرنے کے بجائے الٹا امریکا کو دوغلے پن اور منافقت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا خود انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب ہے اور ان کے اپنے ملک میں خواتین کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ شہریوں کی بے دریغ قتل و غارت کی جاتی ہے۔

کونسل کے اجلاس میں چین کے سفارتی نمایندے فو کونگ نے خطاب کرتے ہوئے امریکا کے جرائم کو تند و تلخ الفاظ میں قابل مذمت قرار دیتے ہوئے گوانتانامو بے کے عقوبت خانے کا حوالہ دیا جہاں قیدیوں کو نہ صرف یہ کہ قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقدمہ چلائے بغیر قید رکھا گیا بلکہ انھیں انتہائی غیر انسانی ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔


ان قیدیوں میں اکثریت بیگناہوں کی تھی جنھیں امریکی ایجنٹوں نے جبراً اغوا کر کے امریکا کے حوالے کر دیا اور کئی حالتوں میں ان قیدیوں کے عوض ڈالر بھی وصول کیے۔ گوانتانامو بے کے قید خانے میں قیدیوں پر اذیت اور تشدد کے نت نئے طریقے ایجاد اور اختیار کیے گئے جن میں ''واٹر بورڈنگ' کو خصوصی شہرت حاصل ہوئی لیکن امریکا کا ظالمانہ انداز صرف یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے اپنے بغیر پائلٹ کے اڑنے والے میزائل بردار پریڈیٹر ڈرون طیاروں کے ذریعے دوسرے ملکوں کے بعض علاقوں کو ہیل فائر جیسے خطرناک بموں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت ان گنت افراد لقمہ اجل بنتے رہے۔

دنیا بھر میں حقوق انسانی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے امریکا کا اصل چہرہ اس قدر مکروہ اور بھیانک ہے مگر پراپیگنڈے میں اسے امن و شانتی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اسی پر بس نہیں بلکہ امریکی مسلح فوجی بھی دوسرے کمزور ملکوں پر حملے کر کے وہاں عورتوں کی حرمت پامال کرتے ہیں اور معصوم بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس سے قبل کونسل میں امریکا اور اس کے حواری ممالک کی طرف سے چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے گئے جس کا چینی سفارتکار جواب دے رہے تھے۔

چین کے خلاف الزامات پر مشتمل مقالہ امریکی سفیر کیتھ ہارپر نے پڑھ کر سنایا جب کہ آسٹریلیا جاپان اور 9 یورپی ملکوں نے امریکی الزامات کی آنکھیں بند کر کے تائید کی۔ چینی سفارتی نمایندے نے کہا کہ امریکا کے دنیا بھر میں غیرقانونی اقدامات کی عالمی سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکا چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت سے خوفزدہ ہو کر چین کے خلاف منفی پراپیگنڈے میں مصروف ہے اور دنیا کی توجہ حقوق انسانی کی اپنی خلاف ورزیوں سے ہٹانا چاہتا ہے لیکن اب اس کا دوغلا پن دنیا پر آشکار ہو چکا ہے۔
Load Next Story