کراچی میں امن اپیکس کمیٹی کس مرض کی دوا
اب لازم ہے کہ سندھ حکومت امن کو یقینی بنانے کے لیے قائم کردہ اپیکس کمیٹی کے ذریعے مسائل کا حل نکالے
کراچی کا امن قانون نافذ کرنے والے ان دونوں اداروں سے گہری کمٹمنٹ کا متقاضی ہے۔ فوٹو : فائل
سپریم کورٹ نے کراچی میں تھانوں کے قیام، ایف آئی آر کے اندراج اور چالان پیش کرنے کے اختیارات سے متعلق سندھ رینجرز کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے جو عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں، بنچ نے توقع ظاہر کی کہ اپیکس کمیٹی کے فورم پر وفاقی و صوبائی حکومتیں اس کا جائزہ لے کر کوئی مثبت فیصلہ کریں گی۔
جسٹس امیرہانی مسلم کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔ بنچ کی رائے صائب ہے ،اپیکس کمیٹی کو فعال طریقہ سے قانون نافذ کرنے والے دونوں اداروں کے مابین تعاون و خیرسگالی اور موثر اشتراک کو یقینی بنانا چاہیے، رینجرز کے وکیل نے اختیارات میں سالانہ توسیع کے لیے دوبارہ درخواست دائر کی اور استدعا کی کہ تھانوں کے قیام اور بروقت پراسیکیوٹرز کی تعیناتی سمیت3 معاملات حل کیے جائیں وگرنہ کراچی میں امن کے لیے عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد ممکن نہیں، تاہم رینجرز حکام کو عدالت کے اس استدلال کے مطابق کہ سپریم کورٹ اختیارات سے تجاوزکر کے کوئی حکم نہیں دے سکتی، یہ انتظامی مسائل باہمی رضا مندی سے طے کریں۔
اب لازم ہے کہ سندھ حکومت امن کو یقینی بنانے کے لیے قائم کردہ اپیکس کمیٹی کے ذریعے مسائل کا حل نکالے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ اختیارات پولیس کے پاس ہیں، جب تک ضابطہ فوجداری میں ترمیم نہیں کی جاتی، یہ اختیارات نیم فوجی دستوں یا پیرا ملٹری فورس کو نہیں دیے جا سکتے۔ سندھ حکومت نے بھی اپنا جواب جمع کرا دیا جس میں کہا گیا کہ رینجرز کے تھانوں سے متوازی نظام قائم ہوجائیگا۔ لہٰذا بادی النظر میں اب یہی آئینی و قانونی راستہ رہ گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی ہدایت کی روشنی میں تمام اسٹیک ہولڈرز رینجرز کے تحفظات کا حل تلاش کریں، اور ایسا کثیر جہتی عملی میکنزم تشکیل دیا جائے۔
جس سے پولیس و رینجرز کے مابین کشیدگی اوراختیارات کی کشمکش کا تاثر ختم ہو اور کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں مشترکہ اسپرٹ دکھائی دے جب کہ پولیس کارکردگی پر عدالت کی مسلسل برہمی پر پولیس کے ارباب اختیار کو خود احتسابی کا سوچنا چاہیے۔ کراچی کا امن قانون نافذ کرنے والے ان دونوں اداروں سے گہری کمٹمنٹ کا متقاضی ہے۔
جسٹس امیرہانی مسلم کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔ بنچ کی رائے صائب ہے ،اپیکس کمیٹی کو فعال طریقہ سے قانون نافذ کرنے والے دونوں اداروں کے مابین تعاون و خیرسگالی اور موثر اشتراک کو یقینی بنانا چاہیے، رینجرز کے وکیل نے اختیارات میں سالانہ توسیع کے لیے دوبارہ درخواست دائر کی اور استدعا کی کہ تھانوں کے قیام اور بروقت پراسیکیوٹرز کی تعیناتی سمیت3 معاملات حل کیے جائیں وگرنہ کراچی میں امن کے لیے عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد ممکن نہیں، تاہم رینجرز حکام کو عدالت کے اس استدلال کے مطابق کہ سپریم کورٹ اختیارات سے تجاوزکر کے کوئی حکم نہیں دے سکتی، یہ انتظامی مسائل باہمی رضا مندی سے طے کریں۔
اب لازم ہے کہ سندھ حکومت امن کو یقینی بنانے کے لیے قائم کردہ اپیکس کمیٹی کے ذریعے مسائل کا حل نکالے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ اختیارات پولیس کے پاس ہیں، جب تک ضابطہ فوجداری میں ترمیم نہیں کی جاتی، یہ اختیارات نیم فوجی دستوں یا پیرا ملٹری فورس کو نہیں دیے جا سکتے۔ سندھ حکومت نے بھی اپنا جواب جمع کرا دیا جس میں کہا گیا کہ رینجرز کے تھانوں سے متوازی نظام قائم ہوجائیگا۔ لہٰذا بادی النظر میں اب یہی آئینی و قانونی راستہ رہ گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی ہدایت کی روشنی میں تمام اسٹیک ہولڈرز رینجرز کے تحفظات کا حل تلاش کریں، اور ایسا کثیر جہتی عملی میکنزم تشکیل دیا جائے۔
جس سے پولیس و رینجرز کے مابین کشیدگی اوراختیارات کی کشمکش کا تاثر ختم ہو اور کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں مشترکہ اسپرٹ دکھائی دے جب کہ پولیس کارکردگی پر عدالت کی مسلسل برہمی پر پولیس کے ارباب اختیار کو خود احتسابی کا سوچنا چاہیے۔ کراچی کا امن قانون نافذ کرنے والے ان دونوں اداروں سے گہری کمٹمنٹ کا متقاضی ہے۔