حصص مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کامندی پراختتام
11 کروڑ63 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروبار 317 کمپنیوں تک محدود رہا
11 کروڑ63 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروبار 317 کمپنیوں تک محدود رہا۔ فوٹو: آئی این پی/فائل
ISLAMABAD:
غیرملکی سرمائے کے انخلا، بینک ٹرانزیکشن ٹیکس کی شرح بڑھنے جیسے عوامل کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو بھی اتارچڑھاؤ کے بعد مندی رہی جس سے سرمایہ کاروں کے مزید21 ارب16 کروڑ روپے ڈوب گئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ جمعہ کو انڈیکس کے بیشترشعبوں میں فروخت کا دباؤ رہا، کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر47.80 پوائنٹس کی تیزی اوربعد ازاں 185.65 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی، ٹریڈنگ کے دوران حبیب بینک اور ایم سی بی بینک میں فروخت کا دباؤ رہا جبکہ آٹوموٹیو، آئل اور سیمنٹ سیکٹرمیں پرافٹ سیلنگ دیکھنے میں آئی، غیرملکیوں نے بھی3.5 ملین ڈالرکاسرمایہ نکال لیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 41.40 پوائنٹس کمی سے 32669.16 ،کے ایس ای30 انڈیکس 78.42 پوائنٹس گھٹ کر19232.36 اورکے ایم آئی آل شیئر انڈیکس 3.33 پوائنٹس کمی سے 15344.39 ہوگیاجبکہ کے ایم آئی 30 انڈیکس103.52 پوائنٹس بڑھ کر 57002.07ہوگیا، کاروباری حجم 14.2فیصد کم رہا،11 کروڑ63 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروبار 317 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں108 کے بھاؤ میں اضافہ، 175 کے دام میں کمی اور34 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
غیرملکی سرمائے کے انخلا، بینک ٹرانزیکشن ٹیکس کی شرح بڑھنے جیسے عوامل کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو بھی اتارچڑھاؤ کے بعد مندی رہی جس سے سرمایہ کاروں کے مزید21 ارب16 کروڑ روپے ڈوب گئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ جمعہ کو انڈیکس کے بیشترشعبوں میں فروخت کا دباؤ رہا، کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر47.80 پوائنٹس کی تیزی اوربعد ازاں 185.65 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی، ٹریڈنگ کے دوران حبیب بینک اور ایم سی بی بینک میں فروخت کا دباؤ رہا جبکہ آٹوموٹیو، آئل اور سیمنٹ سیکٹرمیں پرافٹ سیلنگ دیکھنے میں آئی، غیرملکیوں نے بھی3.5 ملین ڈالرکاسرمایہ نکال لیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 41.40 پوائنٹس کمی سے 32669.16 ،کے ایس ای30 انڈیکس 78.42 پوائنٹس گھٹ کر19232.36 اورکے ایم آئی آل شیئر انڈیکس 3.33 پوائنٹس کمی سے 15344.39 ہوگیاجبکہ کے ایم آئی 30 انڈیکس103.52 پوائنٹس بڑھ کر 57002.07ہوگیا، کاروباری حجم 14.2فیصد کم رہا،11 کروڑ63 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروبار 317 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں108 کے بھاؤ میں اضافہ، 175 کے دام میں کمی اور34 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔