ڈیٹا ویئر ہاؤس کے سرور کو فارمیٹ کرنیکی ہدایت ٹیکس دہندگان کی اہم معلومات ضائع ہونے کا خدشہ

ڈیٹا ویئر ہاؤس کےسرورمیں ٹیکس دہندگان کے بارے میں سال 2001 سے اب تک کا تصدیق شدہ ڈیٹا و ریکارڈ موجود ہے، ایف بی آر

ڈیٹا ویئر ہاؤس کےسرورمیں ٹیکس دہندگان کے بارے میں سال 2001 سے اب تک کا تصدیق شدہ ڈیٹا و ریکارڈ موجود ہے، ایف بی آر فوٹو: فائل

پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ(پرال) نے ایف بی آرکے انتہائی اہم ڈیٹا ویئر ہاؤس کے سرور نیکسس سے ٹیکس دہندگان کی معلومات خاموشی سے ضائع کرنے کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے تاہم قائم مقام سی ای او نے ایسا نہ ہونے دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس ضمن میں پرال کے ذمے دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈیٹا ویئر ہاؤس کے سرور کو فارمیٹ (صاف) کرنے کے لیے تحریری احکام کے بجائے زبانی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس کے باعث پرال کے افسران میں اضطراب پایا جاتا ہے کیونکہ ڈیٹا ویئر ہاؤس کے سرور سے معلومات ضائع کرنے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور بعد میں اس کی ذمے داری بھی انہی پر ڈال دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے ڈیٹا ویئر ہاؤس کے سرور میں ٹیکس دہندگان کے بارے میں سال 2001 سے اب تک کا تصدیق شدہ ڈیٹا و ریکارڈ موجود ہے، ایف بی آر ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اس ڈیٹا بینک کو ہی استعمال کرتا ہے اور رضاکارانہ ٹیکس اسکیم کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی ایف بی آر نان فائلرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کرنا چاہتا ہے، اگر اس سے پہلے یہ ڈیٹا ضائع کردیا گیا تو اس سے ایف بی آر کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ انسٹالیشن ٹیم کو ہدایات میں کہا گیاکہ ڈیٹا سروس کے سرور کی ہارڈ ڈسک کو واش کیا جائے، ایف بی آر کے اس ڈیٹا ویئرہاؤس کی کوئی بیک اپ اسٹریٹجی نہیں ہے۔ اس بارے میں قائم مقام سی ای او پرال احمد نواز سے ان کا موقف جاننے کے لیے موبائل فون پر رابطہ کیا گیا توانہوں نے بتایا کہ وہ ڈیٹا ویئر ہاؤس اور اس کے سرورز سمیت ادارے (پرال) کے محافظ ہیں لہٰذا وہ کیسے ڈیٹا ویئر ہاؤس کے سرور کے فارمیٹ کی زبانی یا تحریری ہدایات جاری کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود اس معاملے کو دیکھیں گے اور انسٹالیشن ٹیم کے سربراہ سے خود پوچھیں گے، اگر کسی نے کوئی ہدایات دی ہیں تو غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے انہیں قائم مقام سی ای او بنایا گیا ہے اور وہ ادارے کے مستقل سی ای او کے عہدے کے امیدوار کے طور پر انٹرویو دینے گئے ہیں اس وقت سے ایک لابی ان کے خلاف سرگرم ہے۔

ایف بی آر کے ترجمان و ممبر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر اقبال نے رابطہ کرنے پر کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے قائم مقام سی ای او پرال کو ڈیٹا ویئر ہاؤس سمیت کسی بھی سرور سے ڈیٹا واش کرنے کی ہدایات جاری نہیں کی گئیں، اگر پرال کی انسٹالیشن ٹیم کو کسی بھی افسر کی جانب سے زبانی ہدایات موصول ہوئی ہیں تو ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور کسی کو بھی ان زبانی ہدایات پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہیے۔
Load Next Story