کے آئی ایچ ڈی امراض قلب کی تشخیص کیلیے مشین نصب
مشین سے دل کوخون فراہم کرنیوالی بند شریانوں کا بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے۔
سٹی انجیوگرافی مشین دنیا کی سب سے جدید مشین ہے جو5منٹ میں امراض قلب کی تشخیص کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فوٹو: فیس بک
کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں امراض قلب کی تشخیص کرنے والی پہلی سٹی انجیو 320 سلائس مشین نصب کردی گئی۔
12 کروڑ روپے مالیت کی جدید ترین مشین کے ذریعے دل کی بیماریوں کی فوری تشخیص کی جاسکے گی، اسپتال انتظامیہ نے اس مشین سے 10 مریضوں کی تشخیص کرلی، دل کوخون فراہم کرنیوالی بند شریانوں کا بھی مشین سے پتہ چلایا جا سکتا ہے، معلوم ہوا ہے کہ اسپتال انتظامیہ مشین کوآپریٹ کرنے کی تربیت کیلیے 2 ٹیکنیشن کو جاپان بھی بھیجے گی، ذرائع کے مطابق آئندہ ہفتے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خاں مشین کا افتتاح کریں گے ، دریں اثنا بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید نے کہا ہے کہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں 12کروڑروپے کی لاگت سے لگائی گئی، سٹی انجیوگرافی مشین دنیا کی سب سے جدید مشین ہے جو5منٹ میں امراض قلب کی تشخیص کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بات انھوں نے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کے دورے کے موقع پرکہی ،ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز الطاف جی میمن ، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزز، ڈاکٹر محمد اسحٰق سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے ، ایڈمنسٹریٹرکراچی نے کہا کہ مریضوں سے انجیوگرافی کی انتہائی کم فیس وصول کی جائے، غریب اور مستحق مریضوں کو انجیو گرافی کی مفت سہولت مہیا کی جائے اورکسی بھی قسم کے چارجز وصول نہ کیے جائیں،انھوں نے کہاہے کہ 240 بستروں پر مشتمل طبی کمپلیکس بھی جلدتعمیر ہوگا جس میں امراض قلب میں مبتلا مریضوں کیلیے علاج کی بہتر سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔
کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کے CCUII میں ڈائیلائسز مشینیں ، ای سی جی مشینیں ، 15 مانیٹرنگ مشینیں ،3 وینٹی لیٹرز اور پورٹ ایبل ایکسرے مشین فراہم کی گئی ہیں جبکہ 15 بستروں کے اضافے کے ساتھ CCU کو سینٹرلی ایئرکنڈیشنڈ کردیا گیا ہے، 6 سال کے دوران 7 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا اور صرف 2008ء میں مریضوں کی تعداد تقریباً پونے دو لاکھ سے زائد رہی، اب تک اسپتال میں 12 ہزار سے زائد مریضوں کی انجیو پلاسٹی اور 400 سے زائد مریضوں کا بائی پاس آپریشن کیا گیا ہے، بلدیہ عظمیٰ اس اسپتال پر20 کروڑ روپے سالانہ خرچ کرتی ہے جو ضرورت کے لحاظ سے کم ہے لہٰذا رواں سال اس رقم میں مزید معقول اضافہ کیا جارہا ہے ۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ماہر امراض قلب ڈاکٹر محمد اسحٰق نے بتایا کہ یہ مشین دوا ڈالے بغیردل کی شریانوں کا تجزیہ کرتی ہے کہ آیا دل کی شریانوں میںکس حد تک رکاوٹیں ہیں جبکہ عام انجیوگرافی کی مشینوں میں دوا کا استعمال کیا جاتا ہے، انھوں نے بتایا کہ اس جدید ترین مشین کو روزانہ 6سے 8گھنٹوں تک آپریٹ کیاجا سکتا ہے، یہ امراض قلب کے علاج میں انتہائی مددگار اورمعاون مشین ہے جس سے مرض کی فوری تشخیص ہوجاتی ہے اور ایک ہی دن میں تشخیص کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ صحیح علاج بھی شروع ہوجاتا ہے جس سے کئی قیمتی جانیں بچائی جاسکیںگی۔
12 کروڑ روپے مالیت کی جدید ترین مشین کے ذریعے دل کی بیماریوں کی فوری تشخیص کی جاسکے گی، اسپتال انتظامیہ نے اس مشین سے 10 مریضوں کی تشخیص کرلی، دل کوخون فراہم کرنیوالی بند شریانوں کا بھی مشین سے پتہ چلایا جا سکتا ہے، معلوم ہوا ہے کہ اسپتال انتظامیہ مشین کوآپریٹ کرنے کی تربیت کیلیے 2 ٹیکنیشن کو جاپان بھی بھیجے گی، ذرائع کے مطابق آئندہ ہفتے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خاں مشین کا افتتاح کریں گے ، دریں اثنا بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید نے کہا ہے کہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں 12کروڑروپے کی لاگت سے لگائی گئی، سٹی انجیوگرافی مشین دنیا کی سب سے جدید مشین ہے جو5منٹ میں امراض قلب کی تشخیص کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بات انھوں نے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کے دورے کے موقع پرکہی ،ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز الطاف جی میمن ، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزز، ڈاکٹر محمد اسحٰق سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے ، ایڈمنسٹریٹرکراچی نے کہا کہ مریضوں سے انجیوگرافی کی انتہائی کم فیس وصول کی جائے، غریب اور مستحق مریضوں کو انجیو گرافی کی مفت سہولت مہیا کی جائے اورکسی بھی قسم کے چارجز وصول نہ کیے جائیں،انھوں نے کہاہے کہ 240 بستروں پر مشتمل طبی کمپلیکس بھی جلدتعمیر ہوگا جس میں امراض قلب میں مبتلا مریضوں کیلیے علاج کی بہتر سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔
کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کے CCUII میں ڈائیلائسز مشینیں ، ای سی جی مشینیں ، 15 مانیٹرنگ مشینیں ،3 وینٹی لیٹرز اور پورٹ ایبل ایکسرے مشین فراہم کی گئی ہیں جبکہ 15 بستروں کے اضافے کے ساتھ CCU کو سینٹرلی ایئرکنڈیشنڈ کردیا گیا ہے، 6 سال کے دوران 7 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا اور صرف 2008ء میں مریضوں کی تعداد تقریباً پونے دو لاکھ سے زائد رہی، اب تک اسپتال میں 12 ہزار سے زائد مریضوں کی انجیو پلاسٹی اور 400 سے زائد مریضوں کا بائی پاس آپریشن کیا گیا ہے، بلدیہ عظمیٰ اس اسپتال پر20 کروڑ روپے سالانہ خرچ کرتی ہے جو ضرورت کے لحاظ سے کم ہے لہٰذا رواں سال اس رقم میں مزید معقول اضافہ کیا جارہا ہے ۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ماہر امراض قلب ڈاکٹر محمد اسحٰق نے بتایا کہ یہ مشین دوا ڈالے بغیردل کی شریانوں کا تجزیہ کرتی ہے کہ آیا دل کی شریانوں میںکس حد تک رکاوٹیں ہیں جبکہ عام انجیوگرافی کی مشینوں میں دوا کا استعمال کیا جاتا ہے، انھوں نے بتایا کہ اس جدید ترین مشین کو روزانہ 6سے 8گھنٹوں تک آپریٹ کیاجا سکتا ہے، یہ امراض قلب کے علاج میں انتہائی مددگار اورمعاون مشین ہے جس سے مرض کی فوری تشخیص ہوجاتی ہے اور ایک ہی دن میں تشخیص کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ صحیح علاج بھی شروع ہوجاتا ہے جس سے کئی قیمتی جانیں بچائی جاسکیںگی۔