سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ کی طبی رپورٹ عدالت میں پیش
محمد افضل سومروکا 10اکتوبرکو تفصیلی معائنہ کیا گیا اور مطلوبہ ٹیسٹ بھی کرائے گئے.
رپورٹس کے مطابق جسٹس( ر ) محمد افضل سومرو کا ذہنی توزن درست نہیں اور اپنے حواس کھو چکے ہیں. فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ محمد افضل سومروکی بازیابی سے متعلق آئینی درخواست میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی ۔
جمعرات کو سماعت کے موقع پر جسٹس(ر) محمد افضل سومرو کے طبی معائنے کی رپورٹ پیش کی گئی ، تین ڈاکٹروں پر مشتمل پینل کی تیارکردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمد افضل سومروکا 10اکتوبرکو تفصیلی معائنہ کیا گیا اور مطلوبہ ٹیسٹ بھی کرائے گئے، 23 اکتوبرکو جسٹس( ر )محمدافضل سومرو کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا گیا ، رپورٹس کے مطابق جسٹس( ر ) محمد افضل سومرو کا ذہنی توزن درست نہیں اور اپنے حواس کھو چکے ہیں، بحالی کیلیے انھیں طویل علاج اور توجہ کی ضرورت ہے، درخواست گزار ارشاد علی سومرو نے موقف اختیار کیا کہ ان کے والد جسٹس( ر ) افضل سومروکے پہلے طبی معائنوں اور ادویات کی تفصیلات بھی میڈیکل بورڈ کو پیش نہیں کی گئی۔
جس سے میڈیکل بورڈ کو اپنی رپورٹ تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، ارشاد علی سومرو ایڈوکیٹ نے اپنی درخواست میں محکمہ داخلہ ، محکمہ صحت ، حنا سومرو اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے والد سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس افضل سومرو اور بھائی علی ارسلان کو ان کی سوتیلی والدہ حنا سومرو نے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اورکسی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، والد کی دوسری اہلیہ حنا سومرو نے ملاقات سے روک دیا ،اس حوالے سے متعلقہ پولیس کو بھی درخواستیں دی گئیں مگر پولیس نے بھی مدد نہیں کی، م حنا سومرو درخواست گزار کے والد محمد افضل سومرو کی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔
جمعرات کو سماعت کے موقع پر جسٹس(ر) محمد افضل سومرو کے طبی معائنے کی رپورٹ پیش کی گئی ، تین ڈاکٹروں پر مشتمل پینل کی تیارکردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمد افضل سومروکا 10اکتوبرکو تفصیلی معائنہ کیا گیا اور مطلوبہ ٹیسٹ بھی کرائے گئے، 23 اکتوبرکو جسٹس( ر )محمدافضل سومرو کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا گیا ، رپورٹس کے مطابق جسٹس( ر ) محمد افضل سومرو کا ذہنی توزن درست نہیں اور اپنے حواس کھو چکے ہیں، بحالی کیلیے انھیں طویل علاج اور توجہ کی ضرورت ہے، درخواست گزار ارشاد علی سومرو نے موقف اختیار کیا کہ ان کے والد جسٹس( ر ) افضل سومروکے پہلے طبی معائنوں اور ادویات کی تفصیلات بھی میڈیکل بورڈ کو پیش نہیں کی گئی۔
جس سے میڈیکل بورڈ کو اپنی رپورٹ تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، ارشاد علی سومرو ایڈوکیٹ نے اپنی درخواست میں محکمہ داخلہ ، محکمہ صحت ، حنا سومرو اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے والد سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس افضل سومرو اور بھائی علی ارسلان کو ان کی سوتیلی والدہ حنا سومرو نے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اورکسی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، والد کی دوسری اہلیہ حنا سومرو نے ملاقات سے روک دیا ،اس حوالے سے متعلقہ پولیس کو بھی درخواستیں دی گئیں مگر پولیس نے بھی مدد نہیں کی، م حنا سومرو درخواست گزار کے والد محمد افضل سومرو کی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔