عالمی ٹی20جنگ کے لیے صف آرائی مکمل
پر عزم اسکواڈز نے ٹائٹل پر نظریں مرکوز کرلیں
پر عزم اسکواڈز نے ٹائٹل پر نظریں مرکوز کرلیں ۔ فوٹو : فائل
دنیا بھر میں کرکٹ کے کروڑوں شائقین موجود ہیں، فٹبال کا جنون رکھنے والے ملکوں میں بھی اس کھیل سے والہانہ لگاؤ رکھنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ایک بڑا ذریعہ ٹوئنٹی 20 کرکٹ بنی ہے۔
چوکوں، چھکوں کی برسات، گرتی وکٹیں، فیلڈرز کی برق رفتاری اور بولرز کے نت نئے حربے سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں اور ٹی وی ناظرین کو اپنے سحرمیں مبتلا رکھتے ہیں، مختصر فارمیٹ کا ورلڈکپ ہو تو شائقین کا جوش و خروش اور بھی بڑھ جاتا ہے،ایسا ہی ایک میلہ بھارت میں شروع ہوچکا ہے۔
پہلے مرحلے میں 8 چھوٹی ٹیمیں 8مارچ سے شروع ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ میں شریک ہیں، گروپ اے میں بنگلہ دیش، آئرلینڈ، نیدرلینڈزاورعمان جبکہ گروپ بی زمبابوے، افغانستان، ہانگ کانگ اور سکاٹ لینڈ پرمشتمل ہے، کوالیفائرز مرحلہ آج مکمل ہوجائے گا، دونوں گروپ کی ٹاپ ٹیموں کو سپر10راؤنڈ میں دیگر ٹاپ 8 کوجوائن کرنا ہے جہاں گروپ ون میں جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز،انگلینڈ اور سری لنکا، گروپ ٹو میں پاکستان، بھارت، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو شامل کیا گیا ہے، مین راؤنڈ کا افتتاحی میچ 15مارچ کوبھارت اورنیوزی لینڈ کے مابین کھیلا جائے گا،اگلے روز گرین شرٹس کسی کوالیفائرز کیخلاف اپنی مہم کا آغاز کرینگے، دنیا بھر کے شائقین کی توجہ کا مرکز پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا 19مارچ کو کولکتہ میں ہوگا۔
میگا ایونٹ میں شریک تمام ٹیمیں ٹائٹل پر حق جتانے کا عزم لئے میدان میں اتریں گی، تاہم مضبوط بیٹنگ لائن، عمدہ فیلڈنگ اور پرفریب سپنرز کی موجودگی میں میزبان بھارت کو فیورٹ قرار دیا جارہا ہے، دوسری طرف میچ کا پانسہ پلٹ دینے کی صلاحیت رکھنے والے کئی کھلاڑیوں سے مزیئن جنوبی افریقہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، آسٹریلیا کے پاس ہر طرح کی کنڈیشنز میں عمدہ پرفارم کرنے والے کھلاڑی موجود ہیں، ویسٹ انڈیز کو میچ ونر آل راؤنڈرز کی خدمات حاصل ہیں۔
انگلینڈ کا سکواڈ بھی متوازن ہے، نیوزی لینڈ کی ٹیم میگاایونٹس میں عمدہ کھیل پیش کرنے کا اچھا ٹریک ریکارڈ رکھتی ہے، پاکستان حریفوں کو حیران کردینے کی صلاحیتوں کی بدولت ہمیشہ ایک مشکل حریف خیال کیا جاتا ہے، نوجوان سری لنکن ٹیم بھی بھارت کی سازگار کنڈیشنز میں سخت چیلنج ثابت ہوسکتی ہے، تاہم ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں کسی ایک کھلاڑی کی شاندار کارکردگی ہی میچ کا نقشہ بدل دینے کے لیے کافی ہوسکتی ہے،اس لئے کم سے کم غلطیاں کرنے والی ٹیم کو ہی ٹائٹل کی جانب پیش قدمی جاری رکھنے کا موقع ملے گا۔
ورلڈ ٹوئنٹی 20میں شرکت کرنے والی بیشتر ٹیمیں اپنے سکواڈز اور گیم پلان کو کئی ماہ قبل ہی حتمی شکل دے چکی ہیں، انجریز کے سبب ایک دو تبدیلیاں کرنا بھی پڑیں تو متبادل تیار تھے لیکن پاکستان نے میگا ایونٹ کی ڈریس ریہرسل ایشیا کپ میں بھی تجربات کا سلسلہ جاری رکھا جن میں سے بیشتر ناکام رہے، احمد شہزاد کی جگہ ٹوئنٹی 20کرکٹ میں ناتجربہ کار خرم منظور کو ترجیح دینے کی سنگین غلطی کی گئی۔
جس کے بارے میں چیف سلیکٹر ہارون رشید نے خود کہا کہ فیصلہ ''مہنگا'' پڑا، ٹیم کی مجموعی کارکردگی تقریباً ایسی تھی جیسا کہ کسی سکول کی الیون کھیل رہی ہو، کبھی کبھی صرف ایک غلط انتخاب توازن بگاڑ دیتا ہے، اگر ٹاپ 3جلد پویلین لوٹ جائیں، تو ظاہر ہے کہ ٹیم مشکل میں پڑ جائے گی، یہی پاکستان کے ساتھ بنگلادیش میں ہوا، بیٹنگ لائن کھوکھلی ہو تو اکیلے محمد عامر میچ نہیں جتوا سکتے،
بہتر فارم میں نہ ہونے کی وجہ سے ڈراپ ہونے والے احمد شہزاد کے لیے موقع ہوگا کہ نئے جذبے اور بہترین کارکردگی کے ساتھ نقصان کی تلافی کرتے ہوئے ٹاپ آرڈر کو استحکام دیں، بغیر مواقع دیئے فارغ کئے جانے والے افتخاراحمد کی جگہ خالد لطیف کو شامل کیا گیا ہے،تکنیکی طور پر مضبوط بیٹسمین پاکستان کو ابتدائی 10 اوورز میں اچھا پلیٹ فارم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، اوپنر شرجیل خان اور آل راؤنڈر محمد نواز کو محض پاکستان سپر لیگ میں کارکردگی کی بنیاد پر جلد بازی میں ٹیم میں شامل کیا گیا،میگا ایونٹ میں پرفارمنس دکھانے کے لیے انہیں ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگی۔
خاص طور پر اوپنر آف سٹمپ سے باہر جاتی گیندوں پر وکٹ کی قربانی پیش کرنے کے عادی ہیں،ایک عرصہ قومی ٹیم سے باہر رہنے کے باوجود انہوں نے اپنی اس خامی کو دور کرنے کے لیے کام نہیں کیا، ہیڈ کوچ وقار یونس اور ان کے معاون گرانٹ فلاور بھی بہتری نہیں لاسکے، حریف بولرز اپنا ہوم ورک کرچکے ہونگے، شرجیل خان کو ساری گیندیں مڈل اور لیگ سٹمپ پر کروانے کی غلطی نہیں کرینگے، پاکستان کی بیٹنگ میں محمد حفیظ کو سینئر کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی، بھارتی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے شعیب ملک اور عمر اکمل کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔
جب بھی ٹیم سنگین صورتحال میں ہو، مشکلات میں گھرے کپتان شاہد آفریدی اپنے بیٹ کو ہی خودکشی کا ہتھیار بنا لیتے ہیں جس وجہ سے کئی میچز میں شکست ہوئی، کئی جذباتی مداح بھی مایوسی میں ان کے خلاف ہوتے جارہے ہیں، اپریل 2015 سے لے کر اب تک ٹوئنٹی 20انٹرنیشنل میں آفریدی نے 16 میچز میں 12.35کی اوسط سے 173 رنز بنائے، زیادہ سے زیادہ سکور 45 رہا، انہوں نے 33.40 کی اوسط سے 12 وکٹیں حاصل کی ہیں، آل راؤنڈر نے ماضی میں کئی مواقع پر انتہائی دباؤ میں زبردست کارکردگی دکھائی ہے۔
بھارت میں ہی ورلڈ کپ2011 کے دوران ان کی بولنگ حریفوں کے لیے درد سر بنی رہی،اس بار بھی بڑی توقعات وابستہ ہیں، بیٹنگ کرتے ہوئے اگر ابتدا میں تھوڑا سنبھل کر کھیلیں تو ٹیم کے لیے مفید دیگر کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، ماضی کے ہر ورلڈ ٹوئنٹی 20میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز رکھنے والے واحد کرکٹر کو اپنا 20سالہ بین الاقوامی تجربہ استعمال کرنا ہوگا،سری لنکا کے خلاف ایشیا کپ میچ میں بہتر بیٹنگ لائن اپ دیکھنے کو ملی، سرفراز احمد کو اوپر لا کر نمبر 3 پر کھلایا گیا۔
عمر اکمل چوتھے اور شعیب ملک 5 ویں نمبر پر آئے،خالد لطیف کی جگہ بنانے کے لیے اکادکا تبدیلی کرلی جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن ہر میچ میں نیا بیٹنگ آرڈر متعارف کروانے سے غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوگی، کسی کو اپنے رول کا اندازہ نہیں ہوسکے گا، اس طرح کے تجربات میگا ایونٹس میں نہیں باہمی سیریز میں کئی ماہ قبل کرلئے جاتے ہیں، بیٹسمینوں کو نکالے جانے کا خوف نہیں مواقع اور اعتماد دینا ہونگے۔
بولنگ پر نظر ڈالی جائے تو 35 سالہ محمد سمیع کے بارے میں خیال تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی مقابلوں کا دباؤ برداشت کرنا سیکھ لیا ہے لیکن بنگلہ دیش کیخلاف ایشیا کپ میچ میں پیسر اہم مواقع پر بڑی غلطیاں کرنے کی روش پر قائم رہے اور 2نوبال کرواتے ہوئے مار بھی کھائی، دیگر بولرز کی محنت پر پانی پھر گیا اور بازی پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئی، سلیکٹرز کو ان کا کوئی متبادل نہ مل سکا، پیسرز کا ذہنی طور پر مضبوط بنانے کا ٹاسک بولنگ کوچ اظہر محمود کو دیا گیا ہے۔
امید کی جاسکتی ہے کہ محمد سمیع کمزور مہرہ ثابت نہیں ہونگے، محمد عامر، محمد عرفان اور وہاب ریاض مل کر بھی فاسٹ بولرز کے لیے مددگار بنگلہ دیشی پچز پر میچ جتوا نہیں پائے، انہیں بھی بھارتی فلیٹ پچز پر آخری اوورز میں بہتر بولنگ کی حکمت عملی پر از سر نو غور کرنا ہوگا، سپین کے شعبے میں محمد نواز ناتجربہ کار ہیں، عماد وسیم پر بھی کارکردگی دکھانے کے لیے دباؤ ہوگا، آل راؤنڈرز شاہد آفریدی اور شعیب ملک کو سپیشلسٹ سپنرز کی کمی پوری کرنا ہوگی۔ پاکستان ٹیم کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی، ہمارے کھلاڑی جیتا ہوا میچ ہار جاتے یا پھر ہاری ہوئی بازی کو شاندار جیت میں بدل دیتے ہیں۔
ورلڈ ٹوئنٹی 20میں پاکستان کی ویمنز ٹیم بھی ثناء میر کی قیادت میں شریک ہے، گرین شرٹس سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع تو نہیں کی جاسکتی،تاہم گزشتہ کچھ عرصے میں کھیل میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، بڑی ٹیموں کو اپ سیٹ کردینے میں ایک آدھ کامیابی بھی بڑی حوصلہ افزا ہوگی۔
چوکوں، چھکوں کی برسات، گرتی وکٹیں، فیلڈرز کی برق رفتاری اور بولرز کے نت نئے حربے سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں اور ٹی وی ناظرین کو اپنے سحرمیں مبتلا رکھتے ہیں، مختصر فارمیٹ کا ورلڈکپ ہو تو شائقین کا جوش و خروش اور بھی بڑھ جاتا ہے،ایسا ہی ایک میلہ بھارت میں شروع ہوچکا ہے۔
پہلے مرحلے میں 8 چھوٹی ٹیمیں 8مارچ سے شروع ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ میں شریک ہیں، گروپ اے میں بنگلہ دیش، آئرلینڈ، نیدرلینڈزاورعمان جبکہ گروپ بی زمبابوے، افغانستان، ہانگ کانگ اور سکاٹ لینڈ پرمشتمل ہے، کوالیفائرز مرحلہ آج مکمل ہوجائے گا، دونوں گروپ کی ٹاپ ٹیموں کو سپر10راؤنڈ میں دیگر ٹاپ 8 کوجوائن کرنا ہے جہاں گروپ ون میں جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز،انگلینڈ اور سری لنکا، گروپ ٹو میں پاکستان، بھارت، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو شامل کیا گیا ہے، مین راؤنڈ کا افتتاحی میچ 15مارچ کوبھارت اورنیوزی لینڈ کے مابین کھیلا جائے گا،اگلے روز گرین شرٹس کسی کوالیفائرز کیخلاف اپنی مہم کا آغاز کرینگے، دنیا بھر کے شائقین کی توجہ کا مرکز پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا 19مارچ کو کولکتہ میں ہوگا۔
میگا ایونٹ میں شریک تمام ٹیمیں ٹائٹل پر حق جتانے کا عزم لئے میدان میں اتریں گی، تاہم مضبوط بیٹنگ لائن، عمدہ فیلڈنگ اور پرفریب سپنرز کی موجودگی میں میزبان بھارت کو فیورٹ قرار دیا جارہا ہے، دوسری طرف میچ کا پانسہ پلٹ دینے کی صلاحیت رکھنے والے کئی کھلاڑیوں سے مزیئن جنوبی افریقہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، آسٹریلیا کے پاس ہر طرح کی کنڈیشنز میں عمدہ پرفارم کرنے والے کھلاڑی موجود ہیں، ویسٹ انڈیز کو میچ ونر آل راؤنڈرز کی خدمات حاصل ہیں۔
انگلینڈ کا سکواڈ بھی متوازن ہے، نیوزی لینڈ کی ٹیم میگاایونٹس میں عمدہ کھیل پیش کرنے کا اچھا ٹریک ریکارڈ رکھتی ہے، پاکستان حریفوں کو حیران کردینے کی صلاحیتوں کی بدولت ہمیشہ ایک مشکل حریف خیال کیا جاتا ہے، نوجوان سری لنکن ٹیم بھی بھارت کی سازگار کنڈیشنز میں سخت چیلنج ثابت ہوسکتی ہے، تاہم ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں کسی ایک کھلاڑی کی شاندار کارکردگی ہی میچ کا نقشہ بدل دینے کے لیے کافی ہوسکتی ہے،اس لئے کم سے کم غلطیاں کرنے والی ٹیم کو ہی ٹائٹل کی جانب پیش قدمی جاری رکھنے کا موقع ملے گا۔
ورلڈ ٹوئنٹی 20میں شرکت کرنے والی بیشتر ٹیمیں اپنے سکواڈز اور گیم پلان کو کئی ماہ قبل ہی حتمی شکل دے چکی ہیں، انجریز کے سبب ایک دو تبدیلیاں کرنا بھی پڑیں تو متبادل تیار تھے لیکن پاکستان نے میگا ایونٹ کی ڈریس ریہرسل ایشیا کپ میں بھی تجربات کا سلسلہ جاری رکھا جن میں سے بیشتر ناکام رہے، احمد شہزاد کی جگہ ٹوئنٹی 20کرکٹ میں ناتجربہ کار خرم منظور کو ترجیح دینے کی سنگین غلطی کی گئی۔
جس کے بارے میں چیف سلیکٹر ہارون رشید نے خود کہا کہ فیصلہ ''مہنگا'' پڑا، ٹیم کی مجموعی کارکردگی تقریباً ایسی تھی جیسا کہ کسی سکول کی الیون کھیل رہی ہو، کبھی کبھی صرف ایک غلط انتخاب توازن بگاڑ دیتا ہے، اگر ٹاپ 3جلد پویلین لوٹ جائیں، تو ظاہر ہے کہ ٹیم مشکل میں پڑ جائے گی، یہی پاکستان کے ساتھ بنگلادیش میں ہوا، بیٹنگ لائن کھوکھلی ہو تو اکیلے محمد عامر میچ نہیں جتوا سکتے،
بہتر فارم میں نہ ہونے کی وجہ سے ڈراپ ہونے والے احمد شہزاد کے لیے موقع ہوگا کہ نئے جذبے اور بہترین کارکردگی کے ساتھ نقصان کی تلافی کرتے ہوئے ٹاپ آرڈر کو استحکام دیں، بغیر مواقع دیئے فارغ کئے جانے والے افتخاراحمد کی جگہ خالد لطیف کو شامل کیا گیا ہے،تکنیکی طور پر مضبوط بیٹسمین پاکستان کو ابتدائی 10 اوورز میں اچھا پلیٹ فارم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، اوپنر شرجیل خان اور آل راؤنڈر محمد نواز کو محض پاکستان سپر لیگ میں کارکردگی کی بنیاد پر جلد بازی میں ٹیم میں شامل کیا گیا،میگا ایونٹ میں پرفارمنس دکھانے کے لیے انہیں ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگی۔
خاص طور پر اوپنر آف سٹمپ سے باہر جاتی گیندوں پر وکٹ کی قربانی پیش کرنے کے عادی ہیں،ایک عرصہ قومی ٹیم سے باہر رہنے کے باوجود انہوں نے اپنی اس خامی کو دور کرنے کے لیے کام نہیں کیا، ہیڈ کوچ وقار یونس اور ان کے معاون گرانٹ فلاور بھی بہتری نہیں لاسکے، حریف بولرز اپنا ہوم ورک کرچکے ہونگے، شرجیل خان کو ساری گیندیں مڈل اور لیگ سٹمپ پر کروانے کی غلطی نہیں کرینگے، پاکستان کی بیٹنگ میں محمد حفیظ کو سینئر کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی، بھارتی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے شعیب ملک اور عمر اکمل کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔
جب بھی ٹیم سنگین صورتحال میں ہو، مشکلات میں گھرے کپتان شاہد آفریدی اپنے بیٹ کو ہی خودکشی کا ہتھیار بنا لیتے ہیں جس وجہ سے کئی میچز میں شکست ہوئی، کئی جذباتی مداح بھی مایوسی میں ان کے خلاف ہوتے جارہے ہیں، اپریل 2015 سے لے کر اب تک ٹوئنٹی 20انٹرنیشنل میں آفریدی نے 16 میچز میں 12.35کی اوسط سے 173 رنز بنائے، زیادہ سے زیادہ سکور 45 رہا، انہوں نے 33.40 کی اوسط سے 12 وکٹیں حاصل کی ہیں، آل راؤنڈر نے ماضی میں کئی مواقع پر انتہائی دباؤ میں زبردست کارکردگی دکھائی ہے۔
بھارت میں ہی ورلڈ کپ2011 کے دوران ان کی بولنگ حریفوں کے لیے درد سر بنی رہی،اس بار بھی بڑی توقعات وابستہ ہیں، بیٹنگ کرتے ہوئے اگر ابتدا میں تھوڑا سنبھل کر کھیلیں تو ٹیم کے لیے مفید دیگر کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، ماضی کے ہر ورلڈ ٹوئنٹی 20میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز رکھنے والے واحد کرکٹر کو اپنا 20سالہ بین الاقوامی تجربہ استعمال کرنا ہوگا،سری لنکا کے خلاف ایشیا کپ میچ میں بہتر بیٹنگ لائن اپ دیکھنے کو ملی، سرفراز احمد کو اوپر لا کر نمبر 3 پر کھلایا گیا۔
عمر اکمل چوتھے اور شعیب ملک 5 ویں نمبر پر آئے،خالد لطیف کی جگہ بنانے کے لیے اکادکا تبدیلی کرلی جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن ہر میچ میں نیا بیٹنگ آرڈر متعارف کروانے سے غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوگی، کسی کو اپنے رول کا اندازہ نہیں ہوسکے گا، اس طرح کے تجربات میگا ایونٹس میں نہیں باہمی سیریز میں کئی ماہ قبل کرلئے جاتے ہیں، بیٹسمینوں کو نکالے جانے کا خوف نہیں مواقع اور اعتماد دینا ہونگے۔
بولنگ پر نظر ڈالی جائے تو 35 سالہ محمد سمیع کے بارے میں خیال تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی مقابلوں کا دباؤ برداشت کرنا سیکھ لیا ہے لیکن بنگلہ دیش کیخلاف ایشیا کپ میچ میں پیسر اہم مواقع پر بڑی غلطیاں کرنے کی روش پر قائم رہے اور 2نوبال کرواتے ہوئے مار بھی کھائی، دیگر بولرز کی محنت پر پانی پھر گیا اور بازی پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئی، سلیکٹرز کو ان کا کوئی متبادل نہ مل سکا، پیسرز کا ذہنی طور پر مضبوط بنانے کا ٹاسک بولنگ کوچ اظہر محمود کو دیا گیا ہے۔
امید کی جاسکتی ہے کہ محمد سمیع کمزور مہرہ ثابت نہیں ہونگے، محمد عامر، محمد عرفان اور وہاب ریاض مل کر بھی فاسٹ بولرز کے لیے مددگار بنگلہ دیشی پچز پر میچ جتوا نہیں پائے، انہیں بھی بھارتی فلیٹ پچز پر آخری اوورز میں بہتر بولنگ کی حکمت عملی پر از سر نو غور کرنا ہوگا، سپین کے شعبے میں محمد نواز ناتجربہ کار ہیں، عماد وسیم پر بھی کارکردگی دکھانے کے لیے دباؤ ہوگا، آل راؤنڈرز شاہد آفریدی اور شعیب ملک کو سپیشلسٹ سپنرز کی کمی پوری کرنا ہوگی۔ پاکستان ٹیم کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی، ہمارے کھلاڑی جیتا ہوا میچ ہار جاتے یا پھر ہاری ہوئی بازی کو شاندار جیت میں بدل دیتے ہیں۔
ورلڈ ٹوئنٹی 20میں پاکستان کی ویمنز ٹیم بھی ثناء میر کی قیادت میں شریک ہے، گرین شرٹس سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع تو نہیں کی جاسکتی،تاہم گزشتہ کچھ عرصے میں کھیل میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، بڑی ٹیموں کو اپ سیٹ کردینے میں ایک آدھ کامیابی بھی بڑی حوصلہ افزا ہوگی۔