کراچی میں قیام امن اور پولیس کا کردار
سندھ کےنئےآئی جی کی شہرت ایک قابل اور فرض شناس افسر کی ہےیقیناً ان کی تعیناتی سے پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی
جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کو قابو کرنے کے لیے گراس روٹ لیول تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سندھ حکومت سے مشاورت کے بعد اللہ ڈینو خواجہ (اے ڈی خواجہ) کو سندھ کا نیا آئی جی مقرر کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ غلام حیدر جمالی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم سپریم کورٹ نے جمعہ کو ایک کیس کی سماعت کے دوران دیا تھا، کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹا دیا جائے، ساتھ ہی یہ بھی قرار دیا کہ ان کے ساتھ دیگر افسران کو بھی ہٹا کر ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے۔
سندھ کے نئے آئی جی کی شہرت ایک قابل اور فرض شناس افسر کی ہے۔یقیناً ان کی تعیناتی سے پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔پاکستان میں سرکاری محکموں میںاچھے اور قابل افسروں کی کمی نہیں ہے' اسی طرح پولیس میں بھی جہاں نااہل یا بدعنوان موجود ہیں وہاں انتہائی بہترین اور پروفیشنل افسران کی بھی کمی نہیں ہے۔اس کے علاوہ حکمرانوں کی پسند اور نا پسند کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک اچھے پولیس افسر کو محض اس لیے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ وہ حکمرانوں کا منظور نظر نہیں ہوتا۔ پاکستان میں اس کلچر نے خاصا نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کے سرکاری محکموں میں نااہلی اور کرپشن کی بڑی وجہ پسند اور نا پسندکا کلچر ہے۔ سرکاری محکموں کو کرپشن اور بے قاعدگیوں سے پاک کرنے کے لیے ایسی کارروائیوں کو مثال بنا دیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس سے نہ صرف سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر ہو گی بلکہ عوام کو حکومت کے بارے میں جو شکایات ہیں ان میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ سندھ کے بگڑتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے میں رینجرز اور پولیس نے اہم کردار ادا کیا ہے' ان دونوں محکموں کے اہلکاروں کی ہمت' جرات' فرض شناسی اور قربانیوں کی بدولت آج نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں دہشت گردی' بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں نمایاں کمی آنے کے بعد امن و امان کی فضا بحال ہوئی ہے۔
سندھ پولیس کے بہت سے افسروں اور جوانوں نے دہشت گردوں کی دھمکیوں کے باوجود ان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ جہاں ایماندار، فرض شناس اور بہادر پولیس افسروں اور جوانوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے وہاں اس محکمے کو کرپٹ اور فرائض سے غفلت برتنے والے اہلکاروں سے پاک کرنا لازم ہے۔ نئے آئی جی پولیس سندھ پر بھاری ذمے داری آن پڑی ہے اور انھوں نے بڑے مشکل حالات میں یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کراچی میں امن و امان اور تھانہ کلچر کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔
محکمہ پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے تھانہ کلچر میں بنیادی تبدیلیاں لانا پڑیں گی' پولیس کے بارے میں عوام کی سوچ میں تبدیلی لانے کے لیے دونوں کے درمیان باہمی خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ جب تک عوام کا تعاون حاصل نہ ہو پولیس افسران اور اہلکار خواہ کتنے ہی ایماندار اور فرض شناس کیوں نہ ہوں جرائم کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ پولیس کی بہتر کارکردگی کی راہ میں سیاسی دباؤ بھی بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ پولیس کے محکمے کو سیاسی دباؤ سے پاک رکھیں' ملزم خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اسے قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
سیاسی حکومتیں اپنے کارکنوں اور ووٹروں کو نوازنے کے لیے سرکاری محکموں میں غیر قانونی بھرتیاں کرتی ہیں ،اس سلسلے کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث آج ہر محکمے میں خرابی نظر آتی ہے۔ اگر سیاستدانوں اور سرکاری محکموں کے افسروں اور اہلکاروں کو بروقت احتساب کا خوف ہو تو وہ غیر قانونی اقدامات سے ہر ممکن گریز کریں گے۔ کراچی میں قیام امن کے لیے پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے' پولیس کے افسر اور اہلکار جس قدر متحرک اور فرض شناس ہوں گے' جرائم پیشہ عناصر اتنے ہی کمزور ہوتے چلے جائیں گے' اب سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ کراچی میں قیام امن کو اولین ترجیح بنائے تاکہ اس شہر میں کاروباری سرگرمیاں مزید تیز ہوسکیں۔
یہ پہلو بھی مدنظر کھا جانا چاہیے کہ کراچی میں پولیس اہلکاروں کی بھرتی کے وقت مقامی ڈومیسائل کے حامل افراد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ کمیونٹی پولیسنگ کے تصور کو بھی عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ یورپی ممالک میں قیام امن کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں کمیونٹی پولیسنگ کا نظام رائج ہے۔ اس نظام سے گراس روٹ لیول تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی ہو جاتی ہے۔ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کو قابو کرنے کے لیے گراس روٹ لیول تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سندھ حکومت سے مشاورت کے بعد اللہ ڈینو خواجہ (اے ڈی خواجہ) کو سندھ کا نیا آئی جی مقرر کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ غلام حیدر جمالی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم سپریم کورٹ نے جمعہ کو ایک کیس کی سماعت کے دوران دیا تھا، کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹا دیا جائے، ساتھ ہی یہ بھی قرار دیا کہ ان کے ساتھ دیگر افسران کو بھی ہٹا کر ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے۔
سندھ کے نئے آئی جی کی شہرت ایک قابل اور فرض شناس افسر کی ہے۔یقیناً ان کی تعیناتی سے پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔پاکستان میں سرکاری محکموں میںاچھے اور قابل افسروں کی کمی نہیں ہے' اسی طرح پولیس میں بھی جہاں نااہل یا بدعنوان موجود ہیں وہاں انتہائی بہترین اور پروفیشنل افسران کی بھی کمی نہیں ہے۔اس کے علاوہ حکمرانوں کی پسند اور نا پسند کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک اچھے پولیس افسر کو محض اس لیے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ وہ حکمرانوں کا منظور نظر نہیں ہوتا۔ پاکستان میں اس کلچر نے خاصا نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کے سرکاری محکموں میں نااہلی اور کرپشن کی بڑی وجہ پسند اور نا پسندکا کلچر ہے۔ سرکاری محکموں کو کرپشن اور بے قاعدگیوں سے پاک کرنے کے لیے ایسی کارروائیوں کو مثال بنا دیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس سے نہ صرف سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر ہو گی بلکہ عوام کو حکومت کے بارے میں جو شکایات ہیں ان میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ سندھ کے بگڑتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے میں رینجرز اور پولیس نے اہم کردار ادا کیا ہے' ان دونوں محکموں کے اہلکاروں کی ہمت' جرات' فرض شناسی اور قربانیوں کی بدولت آج نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں دہشت گردی' بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں نمایاں کمی آنے کے بعد امن و امان کی فضا بحال ہوئی ہے۔
سندھ پولیس کے بہت سے افسروں اور جوانوں نے دہشت گردوں کی دھمکیوں کے باوجود ان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ جہاں ایماندار، فرض شناس اور بہادر پولیس افسروں اور جوانوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے وہاں اس محکمے کو کرپٹ اور فرائض سے غفلت برتنے والے اہلکاروں سے پاک کرنا لازم ہے۔ نئے آئی جی پولیس سندھ پر بھاری ذمے داری آن پڑی ہے اور انھوں نے بڑے مشکل حالات میں یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کراچی میں امن و امان اور تھانہ کلچر کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔
محکمہ پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے تھانہ کلچر میں بنیادی تبدیلیاں لانا پڑیں گی' پولیس کے بارے میں عوام کی سوچ میں تبدیلی لانے کے لیے دونوں کے درمیان باہمی خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ جب تک عوام کا تعاون حاصل نہ ہو پولیس افسران اور اہلکار خواہ کتنے ہی ایماندار اور فرض شناس کیوں نہ ہوں جرائم کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ پولیس کی بہتر کارکردگی کی راہ میں سیاسی دباؤ بھی بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ پولیس کے محکمے کو سیاسی دباؤ سے پاک رکھیں' ملزم خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اسے قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
سیاسی حکومتیں اپنے کارکنوں اور ووٹروں کو نوازنے کے لیے سرکاری محکموں میں غیر قانونی بھرتیاں کرتی ہیں ،اس سلسلے کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث آج ہر محکمے میں خرابی نظر آتی ہے۔ اگر سیاستدانوں اور سرکاری محکموں کے افسروں اور اہلکاروں کو بروقت احتساب کا خوف ہو تو وہ غیر قانونی اقدامات سے ہر ممکن گریز کریں گے۔ کراچی میں قیام امن کے لیے پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے' پولیس کے افسر اور اہلکار جس قدر متحرک اور فرض شناس ہوں گے' جرائم پیشہ عناصر اتنے ہی کمزور ہوتے چلے جائیں گے' اب سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ کراچی میں قیام امن کو اولین ترجیح بنائے تاکہ اس شہر میں کاروباری سرگرمیاں مزید تیز ہوسکیں۔
یہ پہلو بھی مدنظر کھا جانا چاہیے کہ کراچی میں پولیس اہلکاروں کی بھرتی کے وقت مقامی ڈومیسائل کے حامل افراد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ کمیونٹی پولیسنگ کے تصور کو بھی عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ یورپی ممالک میں قیام امن کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں کمیونٹی پولیسنگ کا نظام رائج ہے۔ اس نظام سے گراس روٹ لیول تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی ہو جاتی ہے۔ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کو قابو کرنے کے لیے گراس روٹ لیول تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔