ڈونلڈ ٹرمپ کی شکاگو ریلی ہنگامے کی نذر

ریاست ہائے متحدہ کی تاریخ کو دیکھا جائے تو ہم جانتے ہیں کہ حقیقت میں یہ پورا ملک ہی تارکین وطن کی سرزمین ہے

اگر چہ ٹرمپ کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے لیکن کوئی بعید نہیں کہ یہی تاثر اس کی جیت کی راہ ہموار کر دے۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
امریکا میں ری پبلکن پارٹی (جس کا علامتی نشان ہاتھی ہے) کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ نے شکاگو میں ہونے والی اپنی انتخابی ریلی کو منسوخ کر دیا ہے۔ ایلانوئے یونیورسٹی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب سے قبل جلسہ گاہ کے باہر سیکڑوں مظاہرین اکٹھے ہو گئے تھے۔ آڈیٹوریم کے اندر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے کئی واقعات بھی پیش آئے۔ مظاہرین میں ایک بڑی تعداد سیاہ فام اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والوں کی تھی جو ٹرمپ کے امیگریشن مخالف اشتعال انگیز بیانات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ تمام مسلمانوں کو امریکا سے نکالنے کے اپنے بیانات سے یکدم دنیا بھر میں شہرت حاصل کر لی۔ جس کے بعد ٹرمپ نے امریکا میں مقیم دیگر اقلیتوں کے خلاف بھی بیان بازی شروع کر دی، تاہم اب ان کے اشتعال انگیر بیانات نے امریکا کے سیاہ فام باشندوں اور لاطینی امریکا سے آنے والے ہسپانوی نژاد تارکین وطن کو خاصا مشتعل کر دیا ہے اور ٹرمپ کے خلاف کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جس کی تازہ مثال شکاگو کی الانوے یونیورسٹی میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی ہے۔ اس موقعہ پر ٹرمپ کے سفید فام حامیوں اور سیاہ فاموں میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ بعض افراد نے روسٹرم پر چڑھ کر ٹرمپ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تاہم ٹرمپ کے محافظوں نے اسے اپنے حصار میں لے کر بچا لیا۔


البتہ جھڑپوں کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے جن میں چند پولیس والے بھی شامل تھے۔ مذکورہ بدنظمی کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ پولیس نے 32 افراد کو گرفتار کیا۔ شکاگو شہر میں کئی گھنٹوں تک صورتحال انتہائی کشیدہ رہی۔ ادھر ٹرمپ نے خود پر لگائے جانے والے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ کشیدگی کا ذمے دار وہ ہے۔ ریاست ہائے متحدہ کی تاریخ کو دیکھا جائے تو ہم جانتے ہیں کہ حقیقت میں یہ پورا ملک ہی تارکین وطن کی سرزمین ہے جہاں اول اول یورپی ملکوں سے وہ لوگ پہنچے تھے جن پر ان کے اپنے ملک میں سنگین جرائم کے الزامات تھے بلکہ کئی مجرموں کو تو سرکاری طور پر جلاوطن کیا گیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس نئے ملک میں پہنچ کر وہاں کے اصل باشندوں کی وسیع پیمانے پر قتل و غارت کر کے ان کے علاقوں اور املاک پر قبضہ کر لیا۔ امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی اس انتخابی تقریب میں ہنگامہ آرائی سے 1968 ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی کنونشن میں ہونے والے پرتشدد ہنگاموں کی یاد تازہ ہو گئی۔ ڈیموکریٹک کنونشن بھی شکاگو میں ہوا تھا جب امریکی باشندے ویتنام کی جنگ کے حوالے سے جنگ کے مخالفین اور حامیوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ اس کنونشن میں دس ہزار کے لگ بھگ لوگ وہاں جمع تھے جن میں باہمی تصادم ہو گیا جس پر پولیس کئی گھنٹوں کے بعد قابو پا سکی۔ کئی مظاہرین نے ہنگامہ آرائی کے دوران ٹرمپ کے مد مقابل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے صدارتی امیدوار برنی سینڈرز کے نام کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔

لاس ویگاس میں ٹرمپ کی انتخابی تقریر میں نازیبا الفاظ کی تکرار پر ایک یونیورسٹی پروفیسر نے مداخلت کی تو ٹرمپ نے دھمکی دی کہ وہ پروفیسر کے منہ پر مکہ مار دے گا۔ اگر چہ ٹرمپ کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے لیکن کوئی بعید نہیں کہ یہی تاثر اس کی جیت کی راہ ہموار کر دے۔ تاہم اس سے دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ سپر پاور کہلوانے والے اس ملک کے آنے والے قائدین کا معیار کس قدر پست ہو چکا ہے تاہم ٹرمپ صرف زبانی کلامی ابتذال کا مظاہرہ کرتا ہے جب کہ اس کے پیشرو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے تو محض جھوٹے الزام پر افغانستان اور عراق میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو میزائیلوں کی بارش سے موت کی نیند سلا دیا۔
Load Next Story