دو قسم کے بلیک ہولز

بیسویں صدی کے آغاز سے سائنس ٹیکنالوجی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں جو ناقابل یقین چیلنج کھڑا کر دیا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

LANDIKOTAL/JAMRUD:
ناسا کے ایک اعلامیے کے مطابق کائنات میں ایک ایسا بلیک ہول زمین سے 90 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر بتایا جا رہا ہے، ناسا کے مطابق یہ بلیک ہول اب تک دریافت ہونے والے تمام بلیک ہولز سے بہت بڑا ہے، ناسا خلائی تحقیق کے حوالے سے دنیا کا ایک بڑا ادارہ ہے جو مسلسل کائنات کے اسرار و رموز سے پردے اٹھا رہا ہے، آج سے صرف چند سو سال پہلے کرۂ ارض کے انسان کی معلومات زمین، سورج، چاند، ستاروں اور آسمان کی تصوراتی معلومات پر مبنی تھیں اور ان ہی معلومات کی بنیاد پر کرۂ ارض کا انسان اپنی زندگی کی گاڑی چلا رہا تھا۔

بیسویں صدی کے آغاز سے سائنس ٹیکنالوجی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں جو ناقابل یقین چیلنج کھڑا کر دیا ہے، آج انسان جن مسائل سے دوچار ہے کیا جدید دور کے علم اور معلومات ان مسائل سے انسان کو نکالنے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟ کیا انسان ان معلومات اور انکشافات سے استفادہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جو انسان اور کرۂ ارض کے مستقبل کے تعین میں رہنمائی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ناسا نے جو تاریخ کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت کیا ہے اس کے حوالے سے یہ خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ کرۂ ارض بھی اس بلیک ہول میں گم ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ کائنات میں جو بلیک ہول موجود ہیں ان میں اپنی عمر پوری کرنے والے کئی سیارے گم ہو چکے ہیں، یہ سیارے اپنے حجم میں ہمارے نظام شمسی کے سیاروں سے بڑے مانے جاتے ہیں، جس سے بلیک ہولز کی وسعت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، اسی پس منظر میں نئے دریافت شدہ بلیک ہول کی وسعت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کائنات کی وسعت کے اس پس منظر میں کرۂ ارض کے 7 ارب انسانوں کو کیا اپنی زندگی کی از سر نو تشکیل کرنی چاہیے؟ یہی وہ سوال ہے جو ناسا جیسے اداروں کی دریافتوں کی پشت پر کھڑا کرۂ ارض کے انسانوں سے جواب طلب کر رہا ہے۔

کرۂ ارض کی عمر 4 ارب سال بتائی جاتی ہے اور اگر کوئی کائناتی حادثہ نہ ہو تو کرۂ ارض ابھی تین ارب سال زندہ رہ سکتی ہے، لیکن کائناتی حادثوں کا خدشہ کرۂ ارض کے انسانوں کے سروں پر ہمیشہ سوار رہے گا۔ ہمارے موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال گزشتہ سال سے زیادہ گرمی پڑے گی اور ہر آنے والے سال میں گرمی کی حدت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ موسمیات اور ماحولیات کے ماہرین اس بات کی بھی نشان دہی کر رہے ہیں کہ دنیا کے درجۂ حرارت میں جو لگاتار اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے سطح سمندر میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔

ان ماہرین کا خیال ہے کہ اسی صدی کے دوران دنیا کے کئی ساحلی شہر سمندر برد ہو جائیں گے، اس پیش گوئی یا خدشے کو مفروضہ اس لیے قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ماضی بعید میں سمندر کی سطح اس قدر بلند رہی ہیں کہ ہمالیہ جیسا دنیا کا بلند ترین پہاڑی سلسلہ لاکھوں سال تک پانی میں ڈوبا رہا، گرمی اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے سے برفانی علاقوں میں برف پگھل رہی ہے اور برف کے سیکڑوں میل لمبے چوڑے تودے سمندروں میں گر کر اس کی سطح میں اضافہ کر رہے ہیں۔


کائنات کی وسعت اور بلیک ہولز کے حوالے سے گفتگو ہمارے کالم کا موضوع نہیں ہو سکتی کہ نہ ہم ماہرین کرۂ ارض میں شامل ہیں نہ خلائی اور کائناتی علوم کے ماہرین میں ہمارا شمار ہوتا ہے لیکن ایک انسان کی حیثیت سے کرۂ ارض کے انسانوں کے حال اور مستقبل پر غور کرنا ہر اہل خرد کی ذمے داری ہے۔ انسان اس کھلی حقیقت سے تو پوری طرح واقف ہے کہ جلد یا بدیر اسے موت کا مزہ چکھنا ہے، ہر زندگی کا آخری اور منطقی انجام موت ہے، اس حقیقت سے آگہی کے باوجود انسان نے کرۂ ارض کو جن جن حوالوں سے جہنم بنا دیا ہے کیا ہر ایک انسانی رویے انسانیت کی نفی نہیں کر رہے ہیں؟ آج دنیا پر ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے 7 ارب انسان مختلف حوالوں سے نہ صرف تقسیم ہیں بلکہ اس طرح برسر پیکار ہیں کہ دنیا جہنم میں بدل گئی ہے۔ کیا انسان اس دنیا کو جنت میں بدل نہیں سکتا؟

یہی وہ سوال ہے جو اہل فکر کو کائناتی پس منظر میں بے چین کیے رکھتا ہے۔ سمندری طوفان، سیلاب، زلزلے وہ قدرتی آفات ہیں جو پلک جھپکتے میں ہزاروں زندگیوں کے چراغ گل کر دیتے ہیں، ہماری حکومتیں ان آفات سے متاثر ہونے والوں کی مدد اور بحالی کے کام انجام دیتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ان بلاؤں کے متاثرین کی مدد کو آگے بڑھتے ہیں۔ لیکن انسانی معاشروں پر جو بلائیں مستقل عذاب کی شکل میں مسلط ہیں کیا ان پر غور کرنے اور انھیں قابو کرنے کی انسان کوشش کر رہا ہے؟

جنگیں، ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت، ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی، ملک، قوم، رنگ، نسل، زبان، دین دھرم کے حوالے سے انسانوں کی تقسیم۔ ان تقسیموں کی جڑیں ہزاروں سال میں اس طرح گڑی ہوئی ہیں کہ ان تقسیموں کو ختم کرنا تو ممکن نظر نہیں آتا لیکن کائناتی پس منظر میں کرۂ ارض کی بے ثباتی کے حوالے سے کیا انسان انسانوں کی ان تقسیموں کو انسانی شناخت تک محدود کر کے دنیا کو نفرتوں، جنگوں اور خون خرابوں سے نہیں بچا سکتا؟

انسان کی سب سے بری اور المناک تقسیم طبقاتی تقسیم ہے، جس میں مٹھی بھر لوگوں کی زندگی جنت بنی ہوئی ہے اور 90 فیصد عوام کی زندگی جہنم سے بدتر بنی ہوئی ہے۔ جب انسان یہ جانتا ہے کہ اسے ایک دن یہ سب ٹھاٹھ باٹ چھوڑ کر پانچ چھ گز کفن کے ساتھ قبر میں جانا ہے، تو کیا اسے احساس نہیں ہوتا کہ اس کی دولت لاکھوں انسانوں کی تکلیف کا باعث بن رہی ہے۔ مذاہب کے حوالے سے تو انسان کو سزا و جزا کا خوف دلایا جاتا رہا لیکن انسان پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور وہ دولت کے انبار پر قبضے کی جد وجہد میں ساری زندگی لگا دیتا ہے۔

دنیا کے ایک دولت مند انسان بل گیٹس کے قبضے میں 78 کھرب روپے ہیں، ایسے گنتی کے چند دولت مند ہیں جو دنیا کی 80 فیصد دولت پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ یہ انسانی معاشروں کے وہ بلیک ہول ہیں جن میں قوم کی محنت کی کمائی کا 80 فیصد حصہ غرق ہو رہا ہے۔ کیا انسان ان بلیک ہولوں میں بے مقصد جمع 80 فیصد دولت کو جانے سے روک کر 80 فیصد انسانوں کی عارضی اور غیر یقینی زندگی کو خوشحال نہیں بنا سکتا؟
Load Next Story