سری لنکا ملک میں کلب کرکٹ کا اسٹرکچر بہتر بنائے گا
2017 تک آئی سی سی پروموشنل ایونٹس میں ٹیمیں بھجوانے لگیں گے، نشانتھا راناٹنگا
2017 تک آئی سی سی پروموشنل ایونٹس میں ٹیمیں بھجوانے لگیں گے، نشانتھا راناٹنگا فوٹو فائل
سری لنکا نے ملک میں کلب کرکٹ کے اسٹرکچر کو بہتر بنانے کا عزم کرلیا، البتہ نئے منصوبے کے نفاذ پر کلبز نے کچھ تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
سری لنکا کرکٹ کے سیکریٹری نشانتھا راناٹنگا کا کہنا ہے کہ کلب کرکٹ اسٹرکچر کے بغیرکھیل میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی،ہمیں زیادہ رقم اور وقت اس پر خرچ کرنا چاہیے، اگر ہم نے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو2017 تک آئی سی سی کے ریلیگیشن اور پروموشنل ایونٹس میں اپنی ٹیمیں بھجوانے کے قابل ہوجائینگے،انڈر19 اسکول کرکٹ کے بعد ہمیں کلبز کی اہمیت کا شدت سے اندازہ ہوا، انھوں نے مزید کہا کہ ملک کے ہر بچے کو کرکٹ کا موقع فراہم کرنے کے پیش نظر ہمیں صوبائی اور ڈسٹرکٹس کی سطح پر انھیں کھیل کا اسٹرکچر مہیا کرنا ہوگا ۔
جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا نے یہ کام 15 برس قبل کیا ہے، ہم جنگ کی وجہ سے ایسا نہیں کرپائے لیکن اب ہمارے پاس کرکٹ کو ملک کے طول وعرض میں فروغ دینے کا شاندار موقع ہے، حکومت کو کھیلوں کے میدان مقامی کلبز کو لیز پر دینے چاہئیں لیکن کلبز انھیں اپنی ملکیت نہیں قرار دے سکتے یہ عوامی املاک ہے، کچھ کلبز لیز کی رقم ادا نہیں کرسکتے تو سری لنکن کرکٹ ان کی مدد کرے گی، ہم نیشنل باڈی اور اس لحاظ سے ان کی مدد ہماری ذمہ داری ہے، رانا ٹنگا نے پریمیئر ڈویژ ن میں کلبزکی تعد اد کم کیے جانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ باہر کیے جانے والے کلبز کو اپنی بنیاد مضبوط بنانی چاہیے تاکہ کوالٹی پلیئرز سامنے آسکیں، وہ سسٹم میں رہتے ہوئے بہتری حاصل کریں، انھوں نے کہا کہ کینڈی، گال، امبالاگوندا اور کروناگالے کی سردست کوئی ٹیم نہیں لیکن وہاں سے کئی کرکٹرز نیشنل سطح پر کھیل رہے ہیں۔
سری لنکا کرکٹ کے سیکریٹری نشانتھا راناٹنگا کا کہنا ہے کہ کلب کرکٹ اسٹرکچر کے بغیرکھیل میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی،ہمیں زیادہ رقم اور وقت اس پر خرچ کرنا چاہیے، اگر ہم نے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو2017 تک آئی سی سی کے ریلیگیشن اور پروموشنل ایونٹس میں اپنی ٹیمیں بھجوانے کے قابل ہوجائینگے،انڈر19 اسکول کرکٹ کے بعد ہمیں کلبز کی اہمیت کا شدت سے اندازہ ہوا، انھوں نے مزید کہا کہ ملک کے ہر بچے کو کرکٹ کا موقع فراہم کرنے کے پیش نظر ہمیں صوبائی اور ڈسٹرکٹس کی سطح پر انھیں کھیل کا اسٹرکچر مہیا کرنا ہوگا ۔
جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا نے یہ کام 15 برس قبل کیا ہے، ہم جنگ کی وجہ سے ایسا نہیں کرپائے لیکن اب ہمارے پاس کرکٹ کو ملک کے طول وعرض میں فروغ دینے کا شاندار موقع ہے، حکومت کو کھیلوں کے میدان مقامی کلبز کو لیز پر دینے چاہئیں لیکن کلبز انھیں اپنی ملکیت نہیں قرار دے سکتے یہ عوامی املاک ہے، کچھ کلبز لیز کی رقم ادا نہیں کرسکتے تو سری لنکن کرکٹ ان کی مدد کرے گی، ہم نیشنل باڈی اور اس لحاظ سے ان کی مدد ہماری ذمہ داری ہے، رانا ٹنگا نے پریمیئر ڈویژ ن میں کلبزکی تعد اد کم کیے جانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ باہر کیے جانے والے کلبز کو اپنی بنیاد مضبوط بنانی چاہیے تاکہ کوالٹی پلیئرز سامنے آسکیں، وہ سسٹم میں رہتے ہوئے بہتری حاصل کریں، انھوں نے کہا کہ کینڈی، گال، امبالاگوندا اور کروناگالے کی سردست کوئی ٹیم نہیں لیکن وہاں سے کئی کرکٹرز نیشنل سطح پر کھیل رہے ہیں۔