کراچی دہشتگرد قدم نہ جمانے پائیں
کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے
ہر سال 5 لاکھ افراد شہر میں جائے سکونت کی تلاش میں ان آبادیوں میں بسیرے ڈالتے ہیں۔ فوٹو؛ فائل
ترجمان سندھ رینجرز نے کہا ہے کہ ایک عسکریت پسند گروہ کراچی میں تشدد کو ہوا دینے میں مصروف ہے، کچھ اشخاص نے رینجرز سے رابطہ کر کے مذموم کوششوں کی نشاندہی کی ہے ، رینجرز چیک پوسٹوں پر حملے اور جھوٹے الزامات اسی سلسلے کی کڑی ہیں، ترجمان کے مطابق پر تشدد کارروائیوں پر اکسانے والوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔
یہ مختصر سا انتباہ اپنے سیاق وسباق میں وسیع مضمرات کا حامل ہے جب کہ ان انتہا پسند قوتوں کے ایک بار پھر سرگرم عمل ہونے کا بر وقت اشارہ ہے جو ملک کے تمام شہروں میں اپنے درہم برہم نیٹ ورک کو فعال کرنے اور دہشت گردانہ ایجنڈے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی آخری بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، کراچی کو وہ اسی انداز نظر سے اپنا آشیانہ بنانا چاہتے ہیں مگر رینجرز ان کے مکروہ عزائم کی راہ میں دیوار بن گئی ہے۔
انتہا پسندوں ، مجرمانہ گروہوں اور گینگ وار کارندوں نے اب ٹارگٹ کلنگ ، دستی بموں اور اغوا برائے تاوان سمیت اسٹریٹ کرائمز کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ ہٹانے یا ان کو مصروف رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے جسے کچلنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آپریشن ضرب عضب نے تحریک طالبان پاکستان ، دیگر کالعدم تنظیموں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو قبائلی علاقوں سے بھاگنے یا مرنے پر مجبور کردیا ہے تاہم ارباب اختیار اور سیکیورٹی حکام کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ ان دہشتگردوں کے پاس بظاہر جدید ہتھیار ہیں لیکن ایک ہتھیار ان کے مہلک نظریات کا بھی ان کے پاس ہے ۔
سیاسی حلقوں میں وہ اپنے سہولت کاروں اور مالیاتی گٹھ جوڑ والوں سے ''پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ''کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،علاوہ ازیں وہ نئی نسل کو برین واشنگ کے ذریعے دہشتگردی اور ریاست مخالف مہم میں شامل کرنے کے جتن کررہے ہیں۔ اس لیے ان سے دو محاذوں پر ستیزہ کار رہنے کی ضرورت ہے، پنجاب میں ننکانہ صاحب اور بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی علاقے میں فورسز کی کارروائیاں اسی راست سمت میں ہوئی ہیں۔
جس میں کالعدم تنظیموں کے 10 دہشتگرد ہلاک جب کہ ان کے قبضہ سے دھماکا خیز مواد ، بارودی سرنگ اور بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ابھی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے ۔اتوار کو ایک بیان کے مطابق ترجمان سندھ رینجرز نے کہا کہ رینجرز نے ان مذموم کوششوں کا سخت نوٹس لیا ہے ۔
انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسے ملک دشمن عناصر کی اطلاع رینجرز ہیلپ لائن1101یا رینجرز ہیڈ کوارٹر کو دیں، سیکیورٹی اداروں سے تعاون کرنے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ واضح رہے کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں دو مختلف مقامات پر دہشت گردوں نے تین منٹ کے وقفے سے رینجرز کی 2 چوکیوں پر دستی بم حملے کیے تاہم جانی نقصان نہیں ہوا، چیک پوسٹوں کو جزوی نقصان پہنچا، صوبائی وزیر داخلہ نے بم حملوں کو نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ سے رپورٹ طلب کر لی، دونوں بم حملوں میں سیاہ رنگ کے شاپنگ بیگ میں دیسی ساختہ ایمپروائس ایکسپلوزو ڈیوائس) (IED استعمال کی گئی جس میں500، 500گرام بارودی مواد اور ڈیٹونیٹر نصب کیا گیا تھا ۔
اسی روز فائرنگ کے واقعات میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ، گذشتہ چند ہفتوں سے شہر قائد میں تشدد شدہ اور بوری بند لاشیں ملنے لگی ہیں، جب کہ حساس اداروں نے کراچی پولیس کے اعلیٰ افسران کو مراسلہ جاری کیا ہے کہ کراچی میں ایک بار پھرکالعدم تحریک طالبان (سوات) گروپ فعال ہوگیا ہے، دریں اثناء اورنگی ٹاؤن ایس پی آفس کے گیٹ پر نامعلوم ملزمان بال بم پھینک کر فرار ہو گئے تاہم وہ پھٹ نہیں سکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنا دیا، ناکارہ بنایا جانے والا بال بم رینجرز چوکیوں حملے میں استعمال ہونے والے بموں سے مماثلث رکھتا ہے۔
اس میں 300 گرام بارودی مواد تھا۔ کچھ روز قبل لیاری کے سیفی لین علاقے میں گینگ وار گروہ نے اپنے ایک منحرف کمانڈر کے گھر پر دو بار دستی بموں سے حملہ کیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن بعض افراد زخمی ہوئے،گزشتہ روزکاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے ہاتھوں سکھن تھانہ کی حدود میں ہلاک ہونے والا دہشت گرد ارشد القاعدہ برصغیر چیپٹر کا کارکن بتایا گیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں قانون نافذ کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے، کنکریٹ کے اس جنگل میں دنیا بھر کے مافیا گینگز کے کارندوں اور دہشتگرد و ٹارگٹ کلرز کو وارداتوں کے لیے برسوں کھلا لائسنس ملا ہوا تھا، آج بھی کچی آبادیوں کے سلسلے پھیلتے جارہے ہیں، ہر سال 5 لاکھ افراد شہر میں جائے سکونت کی تلاش میں ان آبادیوں میں بسیرے ڈالتے ہیں ۔
انتظامی حوالہ سے شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ادھر رینجرز اور پولیس تنازع سے دہشتگرد فائدہ اٹھانے کی مسلسل تاک میں ہیں، افسوس ہے کہ جب تک سپریم کورٹ نے حکم نہیں دیا کہ آئی جی اپنے عہدہ پر رہنا نہیں چاہیے، سندھ حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ عوام کی شرکت کی بغیر کوئی مشن کامیاب نہیں ہوتا۔
یہ مختصر سا انتباہ اپنے سیاق وسباق میں وسیع مضمرات کا حامل ہے جب کہ ان انتہا پسند قوتوں کے ایک بار پھر سرگرم عمل ہونے کا بر وقت اشارہ ہے جو ملک کے تمام شہروں میں اپنے درہم برہم نیٹ ورک کو فعال کرنے اور دہشت گردانہ ایجنڈے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی آخری بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، کراچی کو وہ اسی انداز نظر سے اپنا آشیانہ بنانا چاہتے ہیں مگر رینجرز ان کے مکروہ عزائم کی راہ میں دیوار بن گئی ہے۔
انتہا پسندوں ، مجرمانہ گروہوں اور گینگ وار کارندوں نے اب ٹارگٹ کلنگ ، دستی بموں اور اغوا برائے تاوان سمیت اسٹریٹ کرائمز کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ ہٹانے یا ان کو مصروف رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے جسے کچلنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آپریشن ضرب عضب نے تحریک طالبان پاکستان ، دیگر کالعدم تنظیموں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو قبائلی علاقوں سے بھاگنے یا مرنے پر مجبور کردیا ہے تاہم ارباب اختیار اور سیکیورٹی حکام کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ ان دہشتگردوں کے پاس بظاہر جدید ہتھیار ہیں لیکن ایک ہتھیار ان کے مہلک نظریات کا بھی ان کے پاس ہے ۔
سیاسی حلقوں میں وہ اپنے سہولت کاروں اور مالیاتی گٹھ جوڑ والوں سے ''پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ''کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،علاوہ ازیں وہ نئی نسل کو برین واشنگ کے ذریعے دہشتگردی اور ریاست مخالف مہم میں شامل کرنے کے جتن کررہے ہیں۔ اس لیے ان سے دو محاذوں پر ستیزہ کار رہنے کی ضرورت ہے، پنجاب میں ننکانہ صاحب اور بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی علاقے میں فورسز کی کارروائیاں اسی راست سمت میں ہوئی ہیں۔
جس میں کالعدم تنظیموں کے 10 دہشتگرد ہلاک جب کہ ان کے قبضہ سے دھماکا خیز مواد ، بارودی سرنگ اور بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ابھی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے ۔اتوار کو ایک بیان کے مطابق ترجمان سندھ رینجرز نے کہا کہ رینجرز نے ان مذموم کوششوں کا سخت نوٹس لیا ہے ۔
انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسے ملک دشمن عناصر کی اطلاع رینجرز ہیلپ لائن1101یا رینجرز ہیڈ کوارٹر کو دیں، سیکیورٹی اداروں سے تعاون کرنے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ واضح رہے کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں دو مختلف مقامات پر دہشت گردوں نے تین منٹ کے وقفے سے رینجرز کی 2 چوکیوں پر دستی بم حملے کیے تاہم جانی نقصان نہیں ہوا، چیک پوسٹوں کو جزوی نقصان پہنچا، صوبائی وزیر داخلہ نے بم حملوں کو نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ سے رپورٹ طلب کر لی، دونوں بم حملوں میں سیاہ رنگ کے شاپنگ بیگ میں دیسی ساختہ ایمپروائس ایکسپلوزو ڈیوائس) (IED استعمال کی گئی جس میں500، 500گرام بارودی مواد اور ڈیٹونیٹر نصب کیا گیا تھا ۔
اسی روز فائرنگ کے واقعات میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ، گذشتہ چند ہفتوں سے شہر قائد میں تشدد شدہ اور بوری بند لاشیں ملنے لگی ہیں، جب کہ حساس اداروں نے کراچی پولیس کے اعلیٰ افسران کو مراسلہ جاری کیا ہے کہ کراچی میں ایک بار پھرکالعدم تحریک طالبان (سوات) گروپ فعال ہوگیا ہے، دریں اثناء اورنگی ٹاؤن ایس پی آفس کے گیٹ پر نامعلوم ملزمان بال بم پھینک کر فرار ہو گئے تاہم وہ پھٹ نہیں سکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنا دیا، ناکارہ بنایا جانے والا بال بم رینجرز چوکیوں حملے میں استعمال ہونے والے بموں سے مماثلث رکھتا ہے۔
اس میں 300 گرام بارودی مواد تھا۔ کچھ روز قبل لیاری کے سیفی لین علاقے میں گینگ وار گروہ نے اپنے ایک منحرف کمانڈر کے گھر پر دو بار دستی بموں سے حملہ کیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن بعض افراد زخمی ہوئے،گزشتہ روزکاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے ہاتھوں سکھن تھانہ کی حدود میں ہلاک ہونے والا دہشت گرد ارشد القاعدہ برصغیر چیپٹر کا کارکن بتایا گیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں قانون نافذ کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے، کنکریٹ کے اس جنگل میں دنیا بھر کے مافیا گینگز کے کارندوں اور دہشتگرد و ٹارگٹ کلرز کو وارداتوں کے لیے برسوں کھلا لائسنس ملا ہوا تھا، آج بھی کچی آبادیوں کے سلسلے پھیلتے جارہے ہیں، ہر سال 5 لاکھ افراد شہر میں جائے سکونت کی تلاش میں ان آبادیوں میں بسیرے ڈالتے ہیں ۔
انتظامی حوالہ سے شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ادھر رینجرز اور پولیس تنازع سے دہشتگرد فائدہ اٹھانے کی مسلسل تاک میں ہیں، افسوس ہے کہ جب تک سپریم کورٹ نے حکم نہیں دیا کہ آئی جی اپنے عہدہ پر رہنا نہیں چاہیے، سندھ حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ عوام کی شرکت کی بغیر کوئی مشن کامیاب نہیں ہوتا۔