ترکی میں خودکش حملہ
مسلم دنیا میں ترکی انتہائی پرامن ملک شمار کیا جاتا جس کی معیشت بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہے
اگر ترک حکومت نے سخت گیر پالیسی جاری رکھی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیںجس سے ترکی کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فوٹو : اے ایف پی
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں خود کش کار بم دھماکے میں 34افراد ہلاک اور 127 زخمی ہوگئے۔ جہاں دھماکا ہوا وہ کاروباری لحاظ سے بارونق اور قریب ہی غیر ملکی سفارتخانے ہونے کے باعث انتہائی حساس علاقہ ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے خصوصی طور پر اس علاقے کے انتخاب کا مقصد یہ ہو کہ یہاں دھماکے سے کوئی اہم غیرملکی ہلاک ہونے سے ترک حکومت کی پریشانی اور مسائل میں اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک بیان میں ترک حکومت اور عوام سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں' انھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے مل کر لڑنا ہو گا۔ ترک سیکیورٹی حکام کے مطابق کار بم دھماکا کالعدم کردستان ورکرز پارٹی نے کیا ہے۔
امریکی سفارتخانے نے دو روز قبل انقرہ میں دہشت گرد حملے کی وارننگ بھی جاری کی تھی۔ یہ وارننگ ملنے کے بعد ترک سیکیورٹی ایجنسیاں یقیناً متحرک ہو گئی ہوں گی مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گرد حملے کو روکنا ایک مشکل امر ہے۔ یہ انقرہ میں ایک ماہ کے دوران دوسرا بڑا دھماکا ہے' 17 فروری کے دھماکے میں 29افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
مسلم دنیا میں ترکی انتہائی پرامن ملک شمار کیا جاتا جس کی معیشت بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن جب سے عراق میں داعش کا وجود سامنے آیا ہے تب سے ترکی سمیت سعودی عرب اور دیگر قریبی مسلم ممالک میں دہشت گردی کی وارداتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ترک حکومت کے کردوں سے بھی تعلقات خراب ہیں اور کرد ترک حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں جب کہ جواب میں ترکی بھی کردوں پر برابر حملے کر رہا ہے۔
دو روز قبل بھی ترکی کے جنگی طیاروں نے عراق کے شمالی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک ہو گئے۔ ممکن ہے انقرہ میں ہونے والا یہ کار بم دھماکا ترک طیاروں کی کارروائی کے ردعمل میں کیا گیا ہو۔اس طرح دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں مسلم دنیا کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنتی جا رہی ہیں' اس صورت حال کے تناظر میں وقت آ گیا ہے کہ تمام مسلم دنیا اکٹھی ہو کر اس مسئلے سے نمٹے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اسی خطرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بالکل صائب کہا کہ ہم سب کو مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہو گا۔ ترک حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والے کردوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے، اگر ترک حکومت نے سخت گیر پالیسی جاری رکھی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیںجس سے ترکی کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے خصوصی طور پر اس علاقے کے انتخاب کا مقصد یہ ہو کہ یہاں دھماکے سے کوئی اہم غیرملکی ہلاک ہونے سے ترک حکومت کی پریشانی اور مسائل میں اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک بیان میں ترک حکومت اور عوام سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں' انھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے مل کر لڑنا ہو گا۔ ترک سیکیورٹی حکام کے مطابق کار بم دھماکا کالعدم کردستان ورکرز پارٹی نے کیا ہے۔
امریکی سفارتخانے نے دو روز قبل انقرہ میں دہشت گرد حملے کی وارننگ بھی جاری کی تھی۔ یہ وارننگ ملنے کے بعد ترک سیکیورٹی ایجنسیاں یقیناً متحرک ہو گئی ہوں گی مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گرد حملے کو روکنا ایک مشکل امر ہے۔ یہ انقرہ میں ایک ماہ کے دوران دوسرا بڑا دھماکا ہے' 17 فروری کے دھماکے میں 29افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
مسلم دنیا میں ترکی انتہائی پرامن ملک شمار کیا جاتا جس کی معیشت بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن جب سے عراق میں داعش کا وجود سامنے آیا ہے تب سے ترکی سمیت سعودی عرب اور دیگر قریبی مسلم ممالک میں دہشت گردی کی وارداتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ترک حکومت کے کردوں سے بھی تعلقات خراب ہیں اور کرد ترک حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں جب کہ جواب میں ترکی بھی کردوں پر برابر حملے کر رہا ہے۔
دو روز قبل بھی ترکی کے جنگی طیاروں نے عراق کے شمالی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک ہو گئے۔ ممکن ہے انقرہ میں ہونے والا یہ کار بم دھماکا ترک طیاروں کی کارروائی کے ردعمل میں کیا گیا ہو۔اس طرح دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں مسلم دنیا کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنتی جا رہی ہیں' اس صورت حال کے تناظر میں وقت آ گیا ہے کہ تمام مسلم دنیا اکٹھی ہو کر اس مسئلے سے نمٹے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اسی خطرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بالکل صائب کہا کہ ہم سب کو مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہو گا۔ ترک حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والے کردوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے، اگر ترک حکومت نے سخت گیر پالیسی جاری رکھی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیںجس سے ترکی کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔