افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے مثبت اشارے

پاکستان، امریکا اور چین افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کررہے ہیں

افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہو چکی ہے، اگر امریکا، چین اور ایران بھرپور مدد کریں فوٹو: فائل

SWAT:
افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔پاکستان، امریکا اور چین افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔

افغان طالبان کے رویے میں بھی ماضی کے مقابلے میں خاصی لچک نظر آ رہی ہے، اب سابق کمانڈر گلبدین حکمت یار بھی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شمولیت پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی نے افغان حکومت سے امن مذاکرات میں شریک ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔


حکمت یار کے ترجمان انجینئر ہارون زرغون نے غیرملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ بات چیت میں شرکت کا فیصلہ افغانستان کے مفاد میں کیا گیا۔ حزب اسلامی نے بار بار کہا تھا کہ افغانوں کو اجازت دیدیں کہ وہ آپس میں بیٹھ کر اپنی مشکلات خود حل کریں، ہم بین الاقوامی مذاکرات کے طرفدار ہیں اس لیے تیار بھی ہیں تاہم مذاکراتی عمل کے آغاز کے بارے میں ان کے پاس ابھی کوئی معلومات نہیں ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں حزب اسلامی کے وفد کی سربراہی گروپ کے سیاسی امور کے نگران ڈاکٹر غیرت باہیر کریں گے۔ادھر افغانستان میں صورتحال بہتر ہو رہی ہے تاہم حالات مستحکم ہونے میں وقت لگے گا۔

افغانستان میں برطانوی سفیر ڈومینک جرمی نے افغان ٹی وی ''تولو نیوز'' کو انٹرویو میں کہا کہ برطانیہ افغانستان کے امن مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔افغانستان میں امن کے قیام کے لیے روس سمیت علاقائی ممالک کا کردار بہت اہم ہے۔ برطانیہ، پاکستان اور ایران سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ افغان امن مذاکرات کے حوالے سے رابطے میں ہے۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہو چکی ہے، اگر امریکا، چین اور ایران بھرپور مدد کریں اور افغانستان میں برسرپیکار طالبان اور دیگر مجاہدین گروپ عقلمندی اور ذہانت کا مظاہرہ کریں تو افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا جس سے پورے خطے میں استحکام آ جائے گا۔
Load Next Story