رینجرز ہیڈکوارٹر پر حملے کی تحقیقات کیلیے3رکنی کمیٹی قائم
ڈی آئی جی سی آئی اے سربراہ ہونگے،جائے وقوعہ کی طرف آنیوالی سڑک بند کردی گئی
افسران خفیہ کیمروں کی ریکارڈنگ سے ٹرک کی گزرگاہوں کو تلاش کرنے میں مصروف فوٹو: اے ایف پی/ فائل
نارتھ ناظم آباد میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں3 رکنی ٹیم بنادی گئی ۔
تحقیقات کے سلسلے میں جمعے کو پولیس ، سی آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران دن بھر اجلاسوں میں مصروف رہے جبکہ جائے وقوعہ کو قناتیں لگا کر بند کردیا اور سڑک بھی آمدورفت کیلیے بند کردی گئی ہے ، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو نارتھ ناظم آباد بلاک B میں سچل رینجرز کے ہیڈ کوارٹر پر ٹرک کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں رینجرز کے3 اہلکار جاں بحق اور21 زخمی ہوگئے تھے، واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی بنادی گئی ہے جس میں ایس ایس پی فاروق اعوان اور ایس ایس پی نیاز کھوسو شامل ہیں ۔
واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں جمعے کو دن بھر اجلاسوں کا سلسلہ جاری رہا ، پولیس ، سی آئی اے ، سی آئی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران سر جوڑ کر بیٹھے رہے ، تحقیقاتی افسران آس پاس کی عمارتوں پر لگے کیمروں کی ریکارڈنگ کے ذریعے ٹرک کی گزرگاہوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ بورڈ آفس چورنگی سے رینجرز ہیڈ کوارٹر تک متعدد عمارتوں پر خفیہ کیمرے نصب ہیں ، علاوہ ازیں جائے وقوعہ کو قناتیں لگا کر بند کردیا جبکہ تحقیقاتی اداروں کے افسران و اہلکار شواہد اکٹھے کرتے رہے ، ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جائے وقوعہ تک آنے والی سڑک کو آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا جبکہ اس کے سامنے واقع گارمنٹس فیکٹریوں کے ملازمین کو فیکٹری تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔
تحقیقات کے سلسلے میں جمعے کو پولیس ، سی آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران دن بھر اجلاسوں میں مصروف رہے جبکہ جائے وقوعہ کو قناتیں لگا کر بند کردیا اور سڑک بھی آمدورفت کیلیے بند کردی گئی ہے ، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو نارتھ ناظم آباد بلاک B میں سچل رینجرز کے ہیڈ کوارٹر پر ٹرک کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں رینجرز کے3 اہلکار جاں بحق اور21 زخمی ہوگئے تھے، واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی بنادی گئی ہے جس میں ایس ایس پی فاروق اعوان اور ایس ایس پی نیاز کھوسو شامل ہیں ۔
واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں جمعے کو دن بھر اجلاسوں کا سلسلہ جاری رہا ، پولیس ، سی آئی اے ، سی آئی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران سر جوڑ کر بیٹھے رہے ، تحقیقاتی افسران آس پاس کی عمارتوں پر لگے کیمروں کی ریکارڈنگ کے ذریعے ٹرک کی گزرگاہوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ بورڈ آفس چورنگی سے رینجرز ہیڈ کوارٹر تک متعدد عمارتوں پر خفیہ کیمرے نصب ہیں ، علاوہ ازیں جائے وقوعہ کو قناتیں لگا کر بند کردیا جبکہ تحقیقاتی اداروں کے افسران و اہلکار شواہد اکٹھے کرتے رہے ، ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جائے وقوعہ تک آنے والی سڑک کو آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا جبکہ اس کے سامنے واقع گارمنٹس فیکٹریوں کے ملازمین کو فیکٹری تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔