پاکستان ہدف کونشانہ بنانیوالا ڈرون تیارکررہا ہےجرمن جریدہ
ہتھیارلے جانے اورہدف کونشانہ بنانے والی ڈرون ٹیکنالوجی موجودنہیں،نویدقمر،نمائش کادورہ
ہتھیارلے جانے اورہدف کونشانہ بنانے والی ڈرون ٹیکنالوجی موجودنہیں،نویدقمر،نمائش کادورہ . فوٹو: فائل
وفاقی وزیردفاع سید نوید قمر نے کہاہے کہ پاکستان کے پاس موجودڈرون ٹیکنالوجی میں ہتھیار لے جانے اورہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں اور مسلح افواج یہ ٹیکنالوجی نگرانی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
آئیڈیاز2012کے دورے کے موقع پر میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ڈرون پاکستان میں ٹیکنالوجی ارتقا کے مراحل میں ہے اوربہتری کا عمل جاری ہے،پاکستان بہت سے ممالک کوہلکے ہتھیار فروخت کررہا ہے اور جلدہی پاکستان سے بڑے آلات بھی ایکسپورٹ کیے جائیںگے۔دوسری جانب جرمن جریدے ملٹری ٹیکنالوجی نے آئیڈیاز2012کے حوالے سے اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ پاکستان ہتھیاروں سے لیس ڈرون کی تیاری میں مصروف ہے جس کیلیے غیرملکی مدد بھی حاصل ہے،یہ جریدہ آئیڈیاز 2013 کے دوران مفت تقسیم کیا جارہاہے۔
جریدے کے صفحہ 19پرشائع ہونے والے مواد کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کے باوجود پاکستان سی آئی اے کے ڈرون پروگرام کانشانہ بنا ہواہے جس سے پاکستان کوبھاری کولیٹرل نقصان کاسامناہے،امریکا کی جانب سے پاکستان کوڈرون ٹیکنالوجی فراہم نہ کیے جانے کے بعد 2009سے پاکستان نے اپناڈرون پروگرام تیزکردیا ہے اور مخبر،عقاب، جاسوس نامی بغیرپائلٹ کے طیارہ بنارہا ہے، جریدے کے مطابق پاکستان لیزر گائیڈڈ میزائل سے لیس پریڈی ایٹر طرزکے طیاروں کی آزمائشی پروازوں میں مصروف ہے حال ہی میں پاکستان نے ڈرون طیاروں کی ٹیکنالوجی کے لیے اٹلی کی کمپنی Selex-Galileoسے سودا طے کیاہے جس کے تحت پاکستان میں منی میزائل لانچرسے لیس فالکن طیارے بنائے جائیں گے۔
آئیڈیاز2012کے دورے کے موقع پر میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ڈرون پاکستان میں ٹیکنالوجی ارتقا کے مراحل میں ہے اوربہتری کا عمل جاری ہے،پاکستان بہت سے ممالک کوہلکے ہتھیار فروخت کررہا ہے اور جلدہی پاکستان سے بڑے آلات بھی ایکسپورٹ کیے جائیںگے۔دوسری جانب جرمن جریدے ملٹری ٹیکنالوجی نے آئیڈیاز2012کے حوالے سے اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ پاکستان ہتھیاروں سے لیس ڈرون کی تیاری میں مصروف ہے جس کیلیے غیرملکی مدد بھی حاصل ہے،یہ جریدہ آئیڈیاز 2013 کے دوران مفت تقسیم کیا جارہاہے۔
جریدے کے صفحہ 19پرشائع ہونے والے مواد کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کے باوجود پاکستان سی آئی اے کے ڈرون پروگرام کانشانہ بنا ہواہے جس سے پاکستان کوبھاری کولیٹرل نقصان کاسامناہے،امریکا کی جانب سے پاکستان کوڈرون ٹیکنالوجی فراہم نہ کیے جانے کے بعد 2009سے پاکستان نے اپناڈرون پروگرام تیزکردیا ہے اور مخبر،عقاب، جاسوس نامی بغیرپائلٹ کے طیارہ بنارہا ہے، جریدے کے مطابق پاکستان لیزر گائیڈڈ میزائل سے لیس پریڈی ایٹر طرزکے طیاروں کی آزمائشی پروازوں میں مصروف ہے حال ہی میں پاکستان نے ڈرون طیاروں کی ٹیکنالوجی کے لیے اٹلی کی کمپنی Selex-Galileoسے سودا طے کیاہے جس کے تحت پاکستان میں منی میزائل لانچرسے لیس فالکن طیارے بنائے جائیں گے۔