کولکتہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم ’’فائیو اسٹار جیل‘‘ میں مقیم
10منٹ کیلیے بھی باہرجانا ہو تو6گھنٹے قبل بتانے کی ہدایت، سخت سیکیورٹی انتظامات
بھارت میں مخالفانہ جذبات کی فضا کے باوجودگرین شرٹس عوامی رویے سے خوش :فوٹو: فائل
کولکتہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم ''فائیو اسٹار جیل'' میں مقیم ہے، کھلاڑی اگر10 منٹ کیلیے بھی کہیں باہر جانا چاہیں تو6گھنٹے قبل سیکیورٹی اہلکاروں کو بتانا پڑتا ہے اسی لیے اب تک کہیں نہیں گئے۔
دوسری جانب پلیئرز حفاظتی انتظامات اور عوام کے رویے پر خوش ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے گرین شرٹس کی بھارت روانگی تاخیر کا شکار ہوئی، ٹیم اب کولکتہ میں مقیم ہے جہاں اسے بدھ کو بنگلہ دیش سے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کا پہلا میچ کھیلنا ہوگا، ذرائع نے بتایا کہ آمد کے بعد سے پاکستانی کرکٹرزصرف پریکٹس یا وارم اپ میچ کھیلنے ہی ایڈن گارڈنز گئے ہیں، اس کے علاوہ باہر جانے کا موقع نہیں ملا، پہلے دن ٹیم نے اکھٹے ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا تھا مگر اس کے بعد کمروں میں ہی مختلف گروپس کی صورت میں لنچ یا ڈنر کرتے ہیں۔
پلیئرز باہر جانے سے اس کیلیے بھی گریزاں ہیں کہ چاہے 10،15منٹ کیلیے بھی جانا ہو منتظمین نے انھیں 6 گھنٹے قبل آگاہ کرنے کی ہدایت دی ہے، اس صورت میں وہ سیکیورٹی انتظامات کر سکیں گے، دوسری جانب پاکستانی ٹیم بھارت کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی سے مطمئن دکھائی دیتی ہے، وہ جس فلور پر مقیم ہے وہاں کسی غیر متعلقہ فرد کو آنے کی اجازت نہیں،کھلاڑی بھی خاصے محتاط انداز میں رہتے ہوئے دوستوں تک سے ملاقاتوں سے گریز کر رہے ہیں۔
بھارت میں پاکستان مخالف جذبات کی فضا کے باوجود گرین شرٹس اب تک عوامی رویے سے بیحد خوش ہیں، اسٹیڈیم میں شائقین نے پلیئرز کی خاصی حوصلہ افزائی بھی کی، انھیں توقع ہے کہ بدھ کو بنگلہ دیش سے میچ میں بھی کراؤڈ کی حمایت حاصل رہے گی۔
دوسری جانب پلیئرز حفاظتی انتظامات اور عوام کے رویے پر خوش ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے گرین شرٹس کی بھارت روانگی تاخیر کا شکار ہوئی، ٹیم اب کولکتہ میں مقیم ہے جہاں اسے بدھ کو بنگلہ دیش سے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کا پہلا میچ کھیلنا ہوگا، ذرائع نے بتایا کہ آمد کے بعد سے پاکستانی کرکٹرزصرف پریکٹس یا وارم اپ میچ کھیلنے ہی ایڈن گارڈنز گئے ہیں، اس کے علاوہ باہر جانے کا موقع نہیں ملا، پہلے دن ٹیم نے اکھٹے ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا تھا مگر اس کے بعد کمروں میں ہی مختلف گروپس کی صورت میں لنچ یا ڈنر کرتے ہیں۔
پلیئرز باہر جانے سے اس کیلیے بھی گریزاں ہیں کہ چاہے 10،15منٹ کیلیے بھی جانا ہو منتظمین نے انھیں 6 گھنٹے قبل آگاہ کرنے کی ہدایت دی ہے، اس صورت میں وہ سیکیورٹی انتظامات کر سکیں گے، دوسری جانب پاکستانی ٹیم بھارت کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی سے مطمئن دکھائی دیتی ہے، وہ جس فلور پر مقیم ہے وہاں کسی غیر متعلقہ فرد کو آنے کی اجازت نہیں،کھلاڑی بھی خاصے محتاط انداز میں رہتے ہوئے دوستوں تک سے ملاقاتوں سے گریز کر رہے ہیں۔
بھارت میں پاکستان مخالف جذبات کی فضا کے باوجود گرین شرٹس اب تک عوامی رویے سے بیحد خوش ہیں، اسٹیڈیم میں شائقین نے پلیئرز کی خاصی حوصلہ افزائی بھی کی، انھیں توقع ہے کہ بدھ کو بنگلہ دیش سے میچ میں بھی کراؤڈ کی حمایت حاصل رہے گی۔