خواتین ایکٹ پر مذہبی جماعتوں کی مخالفت
قوانین بنتے ہی اس لیے ہیں کہ ان کی پاسداری کی جائے، جرائم پر سزا کا خوف بھی فرد کو غلط راہ پر چلنے میں مانع ہوتا ہے۔
مردانہ وار معاشرے میں عورت کے حقوق کی پامالی کو اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔ فوٹو : فائل
تحفظ حقوق نسواں پر مبنی نئے بل کی مخالفت میں مذہبی جماعتوں کے قائدین نے اشتراک کرتے ہوئے حکومت سے حقوق نسواں قانون کو 27 مارچ تک واپس لینے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ منگل کو مذہبی جماعتوں کے قائدین کا مشترکہ اجلاس منصورہ میں ہوا جس میں مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے انکشاف کیا کہ تحفظ حقوق نسواں بل میاں نواز شریف کے لیے بھی سرپرائز تھا اور ان سے اس قانون کے لیے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔
جہاں تک مذہبی جماعتوں کی مخالفت کا تعلق ہے حکومت کو کوئی بھی بل خاص طور پر ایسے قوانین جن کا براہ راست تعلق عوامی جذبات اور مذہبی اقدار سے ہو، پاس کرنے سے پہلے علمائے دین اور اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت لازمی کرنی چاہیے تاکہ بعد ازاں مخالفت اور عوامی جذبات کو مشتعل ہونے سے روکا جا سکے۔ پاکستان اسلامی اور مشرقی روایات کا پاسدار ملک ہے، ہماری اقدار ہی ہماری پہچان ہیں۔ یہ تاثر کہ مغربی اشاروں اور استعماری سازشوں کے تحت ملک کے قوانین مرتب کیے جارہے ہیں اسے زائل کرنا ازحد ضروری ہے۔
مملکت خداداد اسلامی نظریے کے تحت وجود میں آئی اور اسلام میں ضابطہ حیات کے ہر اصول کو واضح کردیا گیا ہے، خواتین کے حقوق مذہب اسلام نے سب سے پہلے واضح کیے اور جتنی آزادی و حقوق عورت کو اسلام میں دیے گئے ہیں وہ دیگر مذاہب میں بھی نہیں ہیں، ایسے میں صائب ہوگا کہ اسلامی اقدار و قوانین کو مدنظر رکھا جائے لیکن مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی اس نکتے کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی شدید تر مخالفت عوام میں یہ تاثر اجاگر نہ کرے کہ وہ خواتین کے حقوق کے خلاف ہیں۔
علمائے دین کو معاشرے اور خاندان میں پنپنے والی جاہلانہ روایات، ونی و سوارا، قرآن سے شادی، خواتین پر تشدد جیسے معاملات پر بھی موثر آواز اٹھانی چاہیے۔ قبائلی رسم و رواج کی حمایت میں عورت پر ظلم سے چشم پوشی کرنا بھی مذہبی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا صائب ہے کہ وہ قرآن و سنت کے منافی کوئی کام نہیں کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں بحران پیدا نہیں کرنا چاہتے اور وفاق کی سطح پر تمام علمائے کرام سے مل کر خواتین کے تحفظ کا بل لایا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمن کا موقف تھا کہ تحفظ نسواں قانون شریعت اور معاشرتی اقدار کی نفی کرتا ہے، قرآن میں ہے کہ اگر اختلاف ہو تو میاں بیوی کے رشتے داروں سے بندے چنیں جو مصالحت کرائیں لیکن یہاں تو مصالحت کی گنجائش ہی نہیں، یہاں کنگن پہنایا اور گھر سے نکالاجائے گا، انھوں نے کہا کہ قوم کو گڑ میں زہر دیا جا رہا ہے، جاہلانہ رسومات کو روکنے کے لیے قانون سازی لازمی ہے۔ مولانا کا کہنا صائب ہے، قوانین بنتے ہی اس لیے ہیں کہ ان کی پاسداری کی جائے، جرائم پر سزا کا خوف بھی فرد کو غلط راہ پر چلنے میں مانع ہوتا ہے۔
کاروکاری اور خواتین پر گھریلو تشدد جیسے جرائم پر قوانین پہلے بھی موجود ہیں جن پر عملدرآمد ہی نہیں ہوتا، مردانہ وار معاشرے میں عورت کے حقوق کی پامالی کو اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔ راست ہوگا کہ حکومت و علمائے کرام باہمی مشاورت سے مذکورہ معاملہ نمٹائیں، بات چیت کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے، کسی بھی قانون کے پاس ہونے سے پہلے ہر پہلو پر غور کیا جانا ضروری ہے۔
جہاں تک مذہبی جماعتوں کی مخالفت کا تعلق ہے حکومت کو کوئی بھی بل خاص طور پر ایسے قوانین جن کا براہ راست تعلق عوامی جذبات اور مذہبی اقدار سے ہو، پاس کرنے سے پہلے علمائے دین اور اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت لازمی کرنی چاہیے تاکہ بعد ازاں مخالفت اور عوامی جذبات کو مشتعل ہونے سے روکا جا سکے۔ پاکستان اسلامی اور مشرقی روایات کا پاسدار ملک ہے، ہماری اقدار ہی ہماری پہچان ہیں۔ یہ تاثر کہ مغربی اشاروں اور استعماری سازشوں کے تحت ملک کے قوانین مرتب کیے جارہے ہیں اسے زائل کرنا ازحد ضروری ہے۔
مملکت خداداد اسلامی نظریے کے تحت وجود میں آئی اور اسلام میں ضابطہ حیات کے ہر اصول کو واضح کردیا گیا ہے، خواتین کے حقوق مذہب اسلام نے سب سے پہلے واضح کیے اور جتنی آزادی و حقوق عورت کو اسلام میں دیے گئے ہیں وہ دیگر مذاہب میں بھی نہیں ہیں، ایسے میں صائب ہوگا کہ اسلامی اقدار و قوانین کو مدنظر رکھا جائے لیکن مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی اس نکتے کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی شدید تر مخالفت عوام میں یہ تاثر اجاگر نہ کرے کہ وہ خواتین کے حقوق کے خلاف ہیں۔
علمائے دین کو معاشرے اور خاندان میں پنپنے والی جاہلانہ روایات، ونی و سوارا، قرآن سے شادی، خواتین پر تشدد جیسے معاملات پر بھی موثر آواز اٹھانی چاہیے۔ قبائلی رسم و رواج کی حمایت میں عورت پر ظلم سے چشم پوشی کرنا بھی مذہبی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا صائب ہے کہ وہ قرآن و سنت کے منافی کوئی کام نہیں کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں بحران پیدا نہیں کرنا چاہتے اور وفاق کی سطح پر تمام علمائے کرام سے مل کر خواتین کے تحفظ کا بل لایا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمن کا موقف تھا کہ تحفظ نسواں قانون شریعت اور معاشرتی اقدار کی نفی کرتا ہے، قرآن میں ہے کہ اگر اختلاف ہو تو میاں بیوی کے رشتے داروں سے بندے چنیں جو مصالحت کرائیں لیکن یہاں تو مصالحت کی گنجائش ہی نہیں، یہاں کنگن پہنایا اور گھر سے نکالاجائے گا، انھوں نے کہا کہ قوم کو گڑ میں زہر دیا جا رہا ہے، جاہلانہ رسومات کو روکنے کے لیے قانون سازی لازمی ہے۔ مولانا کا کہنا صائب ہے، قوانین بنتے ہی اس لیے ہیں کہ ان کی پاسداری کی جائے، جرائم پر سزا کا خوف بھی فرد کو غلط راہ پر چلنے میں مانع ہوتا ہے۔
کاروکاری اور خواتین پر گھریلو تشدد جیسے جرائم پر قوانین پہلے بھی موجود ہیں جن پر عملدرآمد ہی نہیں ہوتا، مردانہ وار معاشرے میں عورت کے حقوق کی پامالی کو اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔ راست ہوگا کہ حکومت و علمائے کرام باہمی مشاورت سے مذکورہ معاملہ نمٹائیں، بات چیت کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے، کسی بھی قانون کے پاس ہونے سے پہلے ہر پہلو پر غور کیا جانا ضروری ہے۔