اقلیتوں کے تہواروں پر تعطیل

اقلیتی برادری کے قومی تہواروں پرعام تعطیل کی قرارداد کی منظوری خوش آیند پیش رفت ہے

حکومت پاکستان کو اس حقیقت کا گہرا ادراک ہے کہ اقلیتوں کو حاصل آئینی ضمانت کا ہر ممکن تحفظ ناگزیر ہے فوٹو: فائل

منگل کو قومی اسمبلی نے اقلیتی برادری کے لیے ان کے مذہبی تہواروں پر عام تعطیل کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ اقلیتوں کے لیے ان کے قومی تہواروں ہولی، دیوالی اور ایسٹر کے موقع پر عام تعطیل کی قرارداد مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی رمیش کمار نے پیش کی جب کہ وزیر مملکت پیر امین الحسنات نے کہا کہ پاکستان میں تمام سرکاری چھٹیوں کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہوتا ہے، وزارت داخلہ نے تمام وزارتوں کو یہ مراسلہ بھجوایا ہے کہ جو بھی سرکاری ملازم چھٹی کرنا چاہتا ہے تو وہ چھٹی کر سکتا ہے ۔

اقلیتی برادری کے قومی تہواروں پرعام تعطیل کی قرارداد کی منظوری خوش آیند پیش رفت ہے جس سے اقلیتی برادری اور مملکت خداداد کے وسیع تر تناظر میں عالمی برادری کو بھی قومی ہم آہنگی کے فروغ کے حوالہ سے مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے ۔ آج کی عالمی صورتحال میں جہاں امن عالم کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انسانیت امن کے لیے سسک رہی ہے وہاں ملکی پارلیمنٹ نے صائب انداز نظر اختیار کیا ہے ۔

اب کوشش یہ ہونی چاہیے کہ حکومت جلد سے جلد اس مستحسن اقدام کو عملی جامہ پہنائے تاکہ دہشتگردی ، مذہبی انتہاپسندی، فرقہ وارانہ رجحانات اور مختلف مسالک اور مذاہب کے مابین پیدا شدہ غلط فہمیوں اور تحفظات کا کماحقہ ازالہ ہوسکے بلکہ پاکستان پر دہشتگردوں کے عقابوں کا نشیمن ہونے کا جو مذموم الزام لگایا جاتا ہے اسے مٹانے اور اسلام کی اصل تعلیمات اور پاکستان میں رہنے والی مختلف اقلیتی برادریوں کو حاصل حقوق و آئینی و قانونی تحفظ کی جتنی آئینی ضمانتیں مہیا ہیں ان کے بارے میں اطلاعات و معلومات کی پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے مناسب تشہیر ہونی چاہیے ۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے بل پر بحث کے دوران اقلیتوں کی حب الوطنی، اجتماعی کردار، ان کی خدمات اور پاکستان کے آئینی شہری ہونے کے ناتے سے سنجیدہ باتیں کیں ، انھوں نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں، ملک میں تمام مذاہب کو مساوی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، اور ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے عقائد و رسوم کے تحت قومی تہواروں کو منانے کا حق حاصل ہے، تاہم عام تعطیل کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر قابل غور ہے جس میں انھوں نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں زیادہ سرکاری چھٹیاں پاکستان میں کی جاتی ہیں۔


اگر ان پر نظر ثانی کی جائے تو اقلیتوں کے لیے تعطیل کی بڑی گنجائش نکل سکتی ہے۔ بلاشبہ اقتصادی اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے عام تعطیل کا سرکاری کلچر ایک طرح سے عوام کی خدمت اور امور مملکت و حکومت سے پہلوتہی ، دانستہ گریز اور وقت گزاری کا سب سے خوبصورت بہانہ ہے جس کے باعث سرکاری اداروں ، یوٹیلٹی سروسز اور نظام بینکاری سمیت تعلیم و صحت کے اداروں، صنعتی ترقی اور برآمدات میں مسلسل کمی کے منفی اثرات نمایاں ہیں، اس چھٹی کلچر نے سرخ فیتہ کو مضبوط کیا اور عوام آج بھی ان جمہوری ثمرات سے محروم ہیں جو ایک فعال،جوابدہ، ذمے دار اور خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ریاستی ڈھانچہ کا طرہ امتیاز ہوا کرتا ہے ۔

جہاں تک اقلیتوں کو اپنے عقائد و تہواروں کو منانے کی آزادی کا تعلق ہے، اسلام نے ان کے حقوق کے تحفظ کو شرف انسانیت سے مشروط کیا ہے۔ حضورؐ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ '' خبردار جس کسی نے کسی اقلیتی فرد پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا اور اس کی استطاعت سے زیادہ اس کو تکلیف دی یا اس کی رضا کے بغیر اس سے کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے (مسلمان کے خلاف) جھگڑوں گا۔'' لہٰذا ہر فرد سے حسن سلوک اسلام اور اس کے ریاستی نظام کی بنیادی تعلیم ہے، دیگر طبقات کے علاوہ اقلیتوں کو بھی ان تمام حقوق کا مستحق قرار دیا گیا جن کا ایک مثالی انسانی معاشرہ میں تصور کیا جا سکتا ہے، چنانچہ اقلیتوں کے حقوق کی بنیاد معاملات ِدین میں جبر واکراہ کے عنصر کی نفی کرکے فراہم کی گئی ہے۔

پاکستان کا وفاقی و جمہوری آئین اقلیتوں کے حقوق کے باب میں نہایت صراحت کے ساتھ درج حقوق کی ضمانت دیتا ہے ۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنے خطبات میں کئی مواقع پر اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ کی بات کی اور انھیں اپنے عقائد کے مطابق پاکستان میں زندگی گزارنے کی آزادی کی آئینی ضمانت دی۔ اقلیتوں سے رواداری ، عدم تعصب اور ظلم و زیادتی کا امکان کم کرنے کے کئی آئینی اور قانونی راستے تجویز کیے گئے ہیں جن سے اقلیتی برادری بلا خوف و خطر پاکستان کی قومی یکجہتی سے جڑی ہوئی ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ عالمی دہشتگردی اور مذہبی انتہا پسندی نے دنیا بھر میں اقلیتوں کے لیے ناساز حالات پیدا کیے ہیں، ان پر مظالم کی تعداد بھی کم نہیں،اس لیے اقلیتوں کو درپیش عدم تحفظ کے ازالے کے لیے ریاستی سطح پر بڑے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاہم حکومت پاکستان کو اس حقیقت کا گہرا ادراک ہے کہ اقلیتوں کو حاصل آئینی ضمانت کا ہر ممکن تحفظ ناگزیر ہے تاکہ وہ قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں جب کہ ان کے عقائد ، تہوار و مذہبی آزادی کا جو جمہوری و آئینی استحقاق ہے وہ مجروح نہ ہو۔
Load Next Story