نوسر بازی اور جعل سازی کی وارداتیں
ملک میں فراڈ اور نوسربازوں کے مختلف گروہ سرگرم عمل ہیں جو معصوم عوام سے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹ رہے ہیں
متعلقہ اداروں کو ایسے جرائم کے سلسلے میں موثر حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔ فوٹو: فائل
کراچی میں فیروزآباد پولیس نے جعلی کرنل اور جعلی میجر سمیت 5 ملزمان کوگرفتار کر کے درجنوں پلاٹوں کی جعلی فائلیں اور سرکاری ملازمتوں کے جعلی تقررنامے برآمد کرلیے، ملزمان میر منور علی تالپور سمیت دیگر سیاسی شخصیات کے نیب میں قائم مقدمات ختم کرانے کا جھانسہ دے کر رقوم وصول کرچکے ہیں۔
ملک میں فراڈ اور نوسربازوں کے مختلف گروہ سرگرم عمل ہیں جو معصوم عوام سے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹ رہے ہیں، قابل تشویش امر یہ ہے کہ ان ٹھگوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے منسلک لوگوں کا بھیس اختیار کرلیا ہے جو پریشان کن امر ہے۔ ملک میں پولیس کی جعلی وردی میں ملبوس جرائم پیشہ افراد کی جانب سے لوٹ مار کے واقعات تو رپورٹ ہوتے ہی رہتے ہیں، جعلی کرنل اور میجر کی گرفتاری ظاہر کرتی ہے کہ یہ مجرم کس قدر بے باک ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان شہریوں کو جعلی ملازمتوں کے تقررنامے اور پلاٹوں کی جعلی فائلیں فروخت کرکے رقم وصول کرچکے ہیں۔ درجنوں سیاستدان، سرکاری افسران اور ملازمین، تاجر، صنعتکار اور سفید پوش افراد اپنا نام منظرعام پر آنے کے خوف سے گرفتار ملزمان کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے ڈر رہے ہیں، کچھ روز قبل کراچی میں طارق روڈ پر کروڑوں روپے مالیت کا ریکارڈ سونا لوٹا گیا۔ گزشتہ دنوں رینجرز کے بھیس میں بھتہ خوروں کی فعالیت کی بھی شکایت منظرعام پر آئی تھی۔
متعلقہ اداروں کو ایسے جرائم کے سلسلے میں موثر حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی وردیوں کی بآسانی دستیابی بھی عجب ہے۔ جب شہریوں کو جعلی پولیس والے لوٹتے ہیں تو وہ متعلقہ ادارے سے متنفر ہوجاتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے نوسرباز اور ٹھگوں کے خلاف فوری ایکشن میں آنا چاہیے تاکہ نہ صرف عوام کو لٹنے سے بچایا جاسکے بلکہ حساس اداروں کی ساکھ کو قائم رکھا جا سکے۔
ملک میں فراڈ اور نوسربازوں کے مختلف گروہ سرگرم عمل ہیں جو معصوم عوام سے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹ رہے ہیں، قابل تشویش امر یہ ہے کہ ان ٹھگوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے منسلک لوگوں کا بھیس اختیار کرلیا ہے جو پریشان کن امر ہے۔ ملک میں پولیس کی جعلی وردی میں ملبوس جرائم پیشہ افراد کی جانب سے لوٹ مار کے واقعات تو رپورٹ ہوتے ہی رہتے ہیں، جعلی کرنل اور میجر کی گرفتاری ظاہر کرتی ہے کہ یہ مجرم کس قدر بے باک ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان شہریوں کو جعلی ملازمتوں کے تقررنامے اور پلاٹوں کی جعلی فائلیں فروخت کرکے رقم وصول کرچکے ہیں۔ درجنوں سیاستدان، سرکاری افسران اور ملازمین، تاجر، صنعتکار اور سفید پوش افراد اپنا نام منظرعام پر آنے کے خوف سے گرفتار ملزمان کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے ڈر رہے ہیں، کچھ روز قبل کراچی میں طارق روڈ پر کروڑوں روپے مالیت کا ریکارڈ سونا لوٹا گیا۔ گزشتہ دنوں رینجرز کے بھیس میں بھتہ خوروں کی فعالیت کی بھی شکایت منظرعام پر آئی تھی۔
متعلقہ اداروں کو ایسے جرائم کے سلسلے میں موثر حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی وردیوں کی بآسانی دستیابی بھی عجب ہے۔ جب شہریوں کو جعلی پولیس والے لوٹتے ہیں تو وہ متعلقہ ادارے سے متنفر ہوجاتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے نوسرباز اور ٹھگوں کے خلاف فوری ایکشن میں آنا چاہیے تاکہ نہ صرف عوام کو لٹنے سے بچایا جاسکے بلکہ حساس اداروں کی ساکھ کو قائم رکھا جا سکے۔