شہروں کی جانب نقل مکانی کا بڑھتا رجحان
پاکستان میں دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے۔
پاکستان میں دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے۔ فوٹو؛ فائل
PERTH:
پاکستان میں دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے جس کے باعث نہ صرف شہری آبادیوں میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بلکہ ہشت پہلو مسائل بھی اجاگر ہورہے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 1951 میںشہری آبادی ملک کی کل آبادی کا 17.8 فیصد تھی جو 2015ء میں بڑھ کر 39.2 تک پہنچ چکی ہے، جب کہ 1951ء سے 2015ء کے دوران 64 سال میں شہری آبادی میں 13 گنا اضافہ ہوچکا ہے۔
گاؤں دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی کے رجحان میں غربت، تعلیم، صحت، تفریحی سہولیات کے ساتھ روزگار کے مواقعوں کی عدم دستیابی کارفرما ہے، جب کہ دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں میں مزارع و غریب کاشتکار، وڈیروںو جاگیرداروں کے ظلم و ستم سے پناہ کی تلاش اور اپنی عزتیں بچانے کے لیے بھی شہروں کا رخ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جب کہ ایک چھوٹا کاشتکار جو 8 ایکڑ زمین کا مالک ہو ، وہ بھی گزارا نہیں کرسکتا اور مجبوراً مزدوری کے لیے شہروںکا رخ کرتا ہے۔ پاکستان میں دیہات سے شہروں کی جانب ہجرت کرنے والی آبادی کا زیادہ دباؤ کراچی جب کہ دوسرے نمبر پر لاہور میں ہے۔
پنجاب کے بڑے شہروں میں صرف پنجاب کے دیگر پسماندہ اور دیہی علاقوں کے لوگ ہجرت کرکے آبستے ہیں جب کہ کراچی کی صورتحال اور اس کی ڈیموگرافک حرکیات کافی مختلف ہیں، یہاں نہ صرف ملک کے تمام علاقوں بلکہ بیرون ملک سے بھی لوگوں کی آمد و رفت جاری ہے۔ قبائلی علاقوں سے انخلا کی تعداد بہت زیادہ ہے جو پسماندہ ، فرسودہ اور گھٹے ہوئے ماحول سے فرار چاہتے ہیں۔ نیز تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یونائیٹڈ اسٹیٹ پاپولیشن ریفرنس بیورو کے مطابق جن ملکوں کی آبادی میں تیزی سے سالانہ اضافہ ہورہا ہے ان میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔
2015 ء کے دوران زیادہ آبادی والے ملکوں میں چین، انڈیا، امریکا، انڈونیشیا اور برازیل کے بعد پاکستان کا چھٹا نمبر ہے، 2015ء میں پاکستان کی مجموعی آبادی 19 کروڑ 90لاکھ سے تجاوز کرگئی جب کہ اس کے مقابلے میں 2010ء میں پاکستان کی کل آبادی 18 کروڑ 40 لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی، پاکستان کی مجموعی آبادی میں سالانہ 0.7 فیصد اضافہ ہو رہا ہے اگر اسی شرح سے آبادی میں اضافہ جاری رہا تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کرجائے گی۔
بڑے شہروں میں بڑھتی آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مناسب ہوگا کہ نئے شہر اور ماڈل ولیج بنائے جائیں، گاؤں دیہات میں روزگار اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہاں کے لوگ ہجرت پر مجبور نہ ہوں۔ نیز چھوٹے علاقوں میں وڈیروں اور جاگیرداروں کی قانون شکنی کو روکنا بھی ازحد ضروری ہے تاکہ چھوٹے کاشتکار و مزارع پرامن ماحول میں عزت کی زندگی بسر کرسکیں۔ موثر اقدامات اور حکمت عملی کے ذریعے دیہاتوں سے شہروں کی جانب آبادی کے انخلا کو روکا جاسکتا ہے۔آگے چل کر آبادی بم بڑے مسائل پیدا کریگا۔
پاکستان میں دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے جس کے باعث نہ صرف شہری آبادیوں میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بلکہ ہشت پہلو مسائل بھی اجاگر ہورہے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 1951 میںشہری آبادی ملک کی کل آبادی کا 17.8 فیصد تھی جو 2015ء میں بڑھ کر 39.2 تک پہنچ چکی ہے، جب کہ 1951ء سے 2015ء کے دوران 64 سال میں شہری آبادی میں 13 گنا اضافہ ہوچکا ہے۔
گاؤں دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی کے رجحان میں غربت، تعلیم، صحت، تفریحی سہولیات کے ساتھ روزگار کے مواقعوں کی عدم دستیابی کارفرما ہے، جب کہ دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں میں مزارع و غریب کاشتکار، وڈیروںو جاگیرداروں کے ظلم و ستم سے پناہ کی تلاش اور اپنی عزتیں بچانے کے لیے بھی شہروں کا رخ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جب کہ ایک چھوٹا کاشتکار جو 8 ایکڑ زمین کا مالک ہو ، وہ بھی گزارا نہیں کرسکتا اور مجبوراً مزدوری کے لیے شہروںکا رخ کرتا ہے۔ پاکستان میں دیہات سے شہروں کی جانب ہجرت کرنے والی آبادی کا زیادہ دباؤ کراچی جب کہ دوسرے نمبر پر لاہور میں ہے۔
پنجاب کے بڑے شہروں میں صرف پنجاب کے دیگر پسماندہ اور دیہی علاقوں کے لوگ ہجرت کرکے آبستے ہیں جب کہ کراچی کی صورتحال اور اس کی ڈیموگرافک حرکیات کافی مختلف ہیں، یہاں نہ صرف ملک کے تمام علاقوں بلکہ بیرون ملک سے بھی لوگوں کی آمد و رفت جاری ہے۔ قبائلی علاقوں سے انخلا کی تعداد بہت زیادہ ہے جو پسماندہ ، فرسودہ اور گھٹے ہوئے ماحول سے فرار چاہتے ہیں۔ نیز تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یونائیٹڈ اسٹیٹ پاپولیشن ریفرنس بیورو کے مطابق جن ملکوں کی آبادی میں تیزی سے سالانہ اضافہ ہورہا ہے ان میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔
2015 ء کے دوران زیادہ آبادی والے ملکوں میں چین، انڈیا، امریکا، انڈونیشیا اور برازیل کے بعد پاکستان کا چھٹا نمبر ہے، 2015ء میں پاکستان کی مجموعی آبادی 19 کروڑ 90لاکھ سے تجاوز کرگئی جب کہ اس کے مقابلے میں 2010ء میں پاکستان کی کل آبادی 18 کروڑ 40 لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی، پاکستان کی مجموعی آبادی میں سالانہ 0.7 فیصد اضافہ ہو رہا ہے اگر اسی شرح سے آبادی میں اضافہ جاری رہا تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کرجائے گی۔
بڑے شہروں میں بڑھتی آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مناسب ہوگا کہ نئے شہر اور ماڈل ولیج بنائے جائیں، گاؤں دیہات میں روزگار اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہاں کے لوگ ہجرت پر مجبور نہ ہوں۔ نیز چھوٹے علاقوں میں وڈیروں اور جاگیرداروں کی قانون شکنی کو روکنا بھی ازحد ضروری ہے تاکہ چھوٹے کاشتکار و مزارع پرامن ماحول میں عزت کی زندگی بسر کرسکیں۔ موثر اقدامات اور حکمت عملی کے ذریعے دیہاتوں سے شہروں کی جانب آبادی کے انخلا کو روکا جاسکتا ہے۔آگے چل کر آبادی بم بڑے مسائل پیدا کریگا۔