ورلڈ ٹی20 پاکستان کو تاحال بھارت پرپہلی کامیابی کا انتظار
آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 ایونٹس میں پاک بھارت مقابلے کیلیے میدان سج گیا۔
آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 ایونٹس میں پاک بھارت مقابلے کیلیے میدان سج گیا۔ فوٹو: فائل
آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 ایونٹس میں پاک بھارت مقابلے کیلیے میدان سج گیا، ماضی میں روایتی حریفوں کا 4 بار ٹکراؤ ہوچکا ہے، بھارت نے 3 میں کامیابی حاصل کی، ایک مقابلہ ٹائی ہونے پر بلو شرٹس کو ''بال آؤٹ'' کے ذریعے پوائنٹس ملے، پاکستان کو تاحال پہلی کامیابی کا انتظار ہے۔
دونوں ٹیمیں پہلی بار جنوبی افریقہ میں اس فارمیٹ کے 2007 میں ہونے والے اولین ایڈیشن میں آمنے سامنے ہوئیں، ڈربن میں کھیلے گئے میچ میں بھارتی بیٹنگ آغاز میں ہی محمد آصف کی تباہ کاری کا شکار ہوگئی، پیسر نے گوتم گھمبیر کو بغیر کھاتہ کھولے میدان بدر کرنے کے بعد وریندر سہواگ(5)، یوراج سنگھ(1) اور دنیش کارتھک(11)کو بھی رخصتی کا پروانہ جاری کردیا۔
36 پر 4 وکٹیں گنوا کر مشکلات میں گھری ٹیم کو روبن اتھاپا کی ففٹی نے سہارا دیا، کپتان مہندرا سنگھ دھونی 30اور عرفان پٹھان 20 کی اننگز کھیل کر ٹوٹل 141 تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے، محمد آصف صرف 18 رنز دے کر 4اور شاہد آفریدی 2 وکٹیں لے اڑے۔جواب میں پاکستانی اوپنرز سلمان بٹ 17 اور عمران نذیر7رنز ہی بنا سکے، کامران اکمل 15اور یونس خان صرف 2 رنز تک محدود رہے۔
مصباح الحق نے 53 اور شعیب ملک نے20رنز بنا کر فتح کی امید جگائی لیکن ٹوٹل برابر ہونے کے بعد آخری گیند پر مصباح رن آؤٹ ہوگئے، 3 وکٹیں باقی ہونے کے باوجود پاکستان ہدف عبور نہ کرسکا۔ میچ ٹائی ہونے کے بعد ''بول آؤٹ'' پر کامیاب بھارتی ٹیم کو 2 پوائنٹس مل گئے، مین آف دی میچ محمد آصف قرار پائے۔
دونوں ٹیمیں اسی میگا ایونٹ کے فائنل میں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوئیں جس میں ورلڈ ٹوئنٹی 20 کا پہلا فاتح بننے کا موقع پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا، غلط شاٹ کھیل کر وکٹ گنوانے والے مصباح الحق کے 38 گیندوں پر 43 رنز بے کار گئے۔ صرف 16 رنز دیکر 3 وکٹیں حاصل کرنے والے عرفان پٹھان مین آف دی میچ قرار پائے، آر پی سنگھ نے 26 رنز دے کر اتنے ہی شکار کیے، جوگیندر شرما نے 2کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009 میں پاکستان نے یونس خان کی قیادت میں ٹائٹل اپنے نام کیا تو کسی موقع پر بھارت سے میچ کی نوبت ہی نہیں آئی، میگا ایونٹ میں روایتی حریفوں کا تیسرا معرکہ 2012 میں کولمبو کے میدان پر ہوا۔ گرین شرٹس کی بیٹنگ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھرگئی۔
عمران نذیر (8)کے بعد شاہد آفریدی ٹاپ آرڈر میں بھیجے جانے پر 14رنز تک محدود رہے، ناصر جمشید4اور کامران اکمل 5 رنز بناکر میدان بدر ہوئے،ایسے میں 28 گیندوں پر 15 رنز بنانے والے کپتان محمد حفیظ کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا، شعیب ملک 28 اور عمر اکمل 21 رنزکا سہارا دے پائے، پوری ٹیم 128 پر ڈھیر ہوگئی، بالاجی 22 رنز دے کر 3 وکٹیں لے اڑے، روی چندرن ایشون اور یوراج سنگھ نے 2،2 شکار کرنے کے لیے 16،16 رنز دیے۔ جوابی اننگز میں پاکستان کو پہلے اوور میں ہی گوتم گھمبیر کی وکٹ ضرور حاصل ہوئی لیکن ویرات کوہلی نے 61 گیندوں پر 78 کی اننگز کھیل کر 17 اوورز میں ہی 8 وکٹ سے فتح بلوشرٹس کے نام لکھ دی، وریندر سہواگ نے 29 رنز بنائے۔
2014 کا ایڈیشن بنگلہ دیش میں ہوا،ڈھاکا میں پاکستانی بیٹنگ ایک بار پھر دھوکہ دے گئی۔ کامران اکمل( 8) کے رن آؤٹ ہونے کے بعد محمد حفیظ کی مزاحمت 15رنز پر ختم ہوئی،احمد شہزاد کی ہمت 22 رنز پر جواب دے گئی، شعیب ملک 18رنز کے بعد عمر اکمل نے 33 کی اننگز کھیل کر ٹیم کی سنچری مکمل کرائی، شاہد آفریدی 8 تک محدود رہے، صہیب مقصود نے اعتماد سے عاری 18 رنز بنائے،گرین شرٹس نے 7 وکٹ پر 130 رنز اسکورکیے۔
امیت مشرا 2جبکہ بھونیشور کمار، محمد شامی، اجے جڈیجا ایک ایک وکٹ لینے میں کامیاب رہے، بھارت کی جانب سے ٹاپ آرڈر نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا، شیکھر دھون 30 اور روہت شرما 24 رنز بنا کر پویلین لوٹے، یوراج صرف ایک رن بنا سکے، ویرات کوہلی 36 اور روہت شرما 35 پر ناقابل شکست رہے، بلوشرٹس نے ہدف 9 گیندیں قبل ہی حاصل کیا تو 7 وکٹیں باقی تھیں، سعید اجمل، عمر گل اور بلاول بھٹی کی ایک ایک وکٹ کسی کام نہ آئی، امیت مشرا کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
آئی سی سی میگا ایونٹس کے علاوہ پاک بھارت ٹیموں کا ایک ٹاکرا رواں سال ڈھاکا میں ایشیا کپ کے دوران ہوا، گرین شرٹس 83 پر ڈھیر ہونے کے بعد ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیم کی 5 وکٹیں گرا سکے،اس سے قبل 2012 میں سیریز کا ایک میچ پاکستان دوسرا بھارت نے جیتا تھا۔
دونوں ٹیمیں پہلی بار جنوبی افریقہ میں اس فارمیٹ کے 2007 میں ہونے والے اولین ایڈیشن میں آمنے سامنے ہوئیں، ڈربن میں کھیلے گئے میچ میں بھارتی بیٹنگ آغاز میں ہی محمد آصف کی تباہ کاری کا شکار ہوگئی، پیسر نے گوتم گھمبیر کو بغیر کھاتہ کھولے میدان بدر کرنے کے بعد وریندر سہواگ(5)، یوراج سنگھ(1) اور دنیش کارتھک(11)کو بھی رخصتی کا پروانہ جاری کردیا۔
36 پر 4 وکٹیں گنوا کر مشکلات میں گھری ٹیم کو روبن اتھاپا کی ففٹی نے سہارا دیا، کپتان مہندرا سنگھ دھونی 30اور عرفان پٹھان 20 کی اننگز کھیل کر ٹوٹل 141 تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے، محمد آصف صرف 18 رنز دے کر 4اور شاہد آفریدی 2 وکٹیں لے اڑے۔جواب میں پاکستانی اوپنرز سلمان بٹ 17 اور عمران نذیر7رنز ہی بنا سکے، کامران اکمل 15اور یونس خان صرف 2 رنز تک محدود رہے۔
مصباح الحق نے 53 اور شعیب ملک نے20رنز بنا کر فتح کی امید جگائی لیکن ٹوٹل برابر ہونے کے بعد آخری گیند پر مصباح رن آؤٹ ہوگئے، 3 وکٹیں باقی ہونے کے باوجود پاکستان ہدف عبور نہ کرسکا۔ میچ ٹائی ہونے کے بعد ''بول آؤٹ'' پر کامیاب بھارتی ٹیم کو 2 پوائنٹس مل گئے، مین آف دی میچ محمد آصف قرار پائے۔
دونوں ٹیمیں اسی میگا ایونٹ کے فائنل میں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوئیں جس میں ورلڈ ٹوئنٹی 20 کا پہلا فاتح بننے کا موقع پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا، غلط شاٹ کھیل کر وکٹ گنوانے والے مصباح الحق کے 38 گیندوں پر 43 رنز بے کار گئے۔ صرف 16 رنز دیکر 3 وکٹیں حاصل کرنے والے عرفان پٹھان مین آف دی میچ قرار پائے، آر پی سنگھ نے 26 رنز دے کر اتنے ہی شکار کیے، جوگیندر شرما نے 2کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009 میں پاکستان نے یونس خان کی قیادت میں ٹائٹل اپنے نام کیا تو کسی موقع پر بھارت سے میچ کی نوبت ہی نہیں آئی، میگا ایونٹ میں روایتی حریفوں کا تیسرا معرکہ 2012 میں کولمبو کے میدان پر ہوا۔ گرین شرٹس کی بیٹنگ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھرگئی۔
عمران نذیر (8)کے بعد شاہد آفریدی ٹاپ آرڈر میں بھیجے جانے پر 14رنز تک محدود رہے، ناصر جمشید4اور کامران اکمل 5 رنز بناکر میدان بدر ہوئے،ایسے میں 28 گیندوں پر 15 رنز بنانے والے کپتان محمد حفیظ کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا، شعیب ملک 28 اور عمر اکمل 21 رنزکا سہارا دے پائے، پوری ٹیم 128 پر ڈھیر ہوگئی، بالاجی 22 رنز دے کر 3 وکٹیں لے اڑے، روی چندرن ایشون اور یوراج سنگھ نے 2،2 شکار کرنے کے لیے 16،16 رنز دیے۔ جوابی اننگز میں پاکستان کو پہلے اوور میں ہی گوتم گھمبیر کی وکٹ ضرور حاصل ہوئی لیکن ویرات کوہلی نے 61 گیندوں پر 78 کی اننگز کھیل کر 17 اوورز میں ہی 8 وکٹ سے فتح بلوشرٹس کے نام لکھ دی، وریندر سہواگ نے 29 رنز بنائے۔
2014 کا ایڈیشن بنگلہ دیش میں ہوا،ڈھاکا میں پاکستانی بیٹنگ ایک بار پھر دھوکہ دے گئی۔ کامران اکمل( 8) کے رن آؤٹ ہونے کے بعد محمد حفیظ کی مزاحمت 15رنز پر ختم ہوئی،احمد شہزاد کی ہمت 22 رنز پر جواب دے گئی، شعیب ملک 18رنز کے بعد عمر اکمل نے 33 کی اننگز کھیل کر ٹیم کی سنچری مکمل کرائی، شاہد آفریدی 8 تک محدود رہے، صہیب مقصود نے اعتماد سے عاری 18 رنز بنائے،گرین شرٹس نے 7 وکٹ پر 130 رنز اسکورکیے۔
امیت مشرا 2جبکہ بھونیشور کمار، محمد شامی، اجے جڈیجا ایک ایک وکٹ لینے میں کامیاب رہے، بھارت کی جانب سے ٹاپ آرڈر نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا، شیکھر دھون 30 اور روہت شرما 24 رنز بنا کر پویلین لوٹے، یوراج صرف ایک رن بنا سکے، ویرات کوہلی 36 اور روہت شرما 35 پر ناقابل شکست رہے، بلوشرٹس نے ہدف 9 گیندیں قبل ہی حاصل کیا تو 7 وکٹیں باقی تھیں، سعید اجمل، عمر گل اور بلاول بھٹی کی ایک ایک وکٹ کسی کام نہ آئی، امیت مشرا کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
آئی سی سی میگا ایونٹس کے علاوہ پاک بھارت ٹیموں کا ایک ٹاکرا رواں سال ڈھاکا میں ایشیا کپ کے دوران ہوا، گرین شرٹس 83 پر ڈھیر ہونے کے بعد ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیم کی 5 وکٹیں گرا سکے،اس سے قبل 2012 میں سیریز کا ایک میچ پاکستان دوسرا بھارت نے جیتا تھا۔