پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی اہم پیش رفت

پاک بھارت سیریز کی بحالی کے بعد چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف اب پریمیئر لیگ کرانے کیلیے سرگرم نظر آتے ہیں۔

بھارت میں ہمارے کھلاڑی بھی سچن ٹنڈولکر اور یوراج سنگھ جتنے ہی مقبول ہیں۔ فوٹو : فائل

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز کیلیے آئندہ ماہ میدان سجنے والا ہے۔

گرین شرٹس آخری بار دسمبر2007 میںسیریز کھیلنے پڑوسی ملک گئے تھے،اس کے بعد ممبئی حملوں نے تعلقات میں ایسی دراڑ ڈالی کہ دوبارہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے، کہتے ہیں وقت بڑا مرہم ہوتا ہے اس کیس میں بھی ایسا ہی ہوا، آہستہ آہستہ سیاسی تعلقات میں بہتری آئی اور پھر کرکٹ تعلقات بھی نارمل ہونے لگے، گذشتہ برس جب اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ورلڈکپ کا سیمی فائنل دیکھنے موہالی گئے تو برف پگھل گئی، بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ سے ان کی ملاقات میں کھیلوں پر بھی بات ہوئی، دونوں بورڈز تو پہلے ہی سے تیار تھے، رواں برس شائقین کے لیے خوشخبری لایا اور بھارتی حکومت نے پاکستانی ٹیم کے ٹور کو کلیئرنس دے دی، اب تو سیریز کا شیڈول بھی جاری ہوچکا اور22 دسمبر کو پلیئرز پڑوسی ملک میں ڈیرے ڈالے دیں گے۔

آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام کے تحت بھارتی ٹیم نے پاکستان کا آخری دورہ نہیں کیا اور اسی کی باری بنتی تھی مگر پی سی بی نے جذبہ خیرسگالی کے تحت خود ٹیم بھیجنے پر ہامی بھر لی، گوکہ بعض حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی ہو رہی ہے لیکن اگر سچائی کا جائزہ لیا جائے تو ان دنوں بنگلہ دیش جیسی ٹیم تو ہمارے ملک آنے کو تیار نہیں ،ایسے میں بھارتی سائیڈ کیسے آ سکتی ہے؟اگر بورڈ اس بات پر اڑ جاتا کہ پہلے بی سی سی آئی اپنی ٹیم بھیجے تو سیریز مزید چند سال کیلیے التوا کا شکار ہو جاتی، دونوں ٹیمیں کئی برس سے نہیں کھیل رہیں، چند سال بعد کسی ایک آئی سی سی ایونٹ سے شائقین کی تشنگی دور نہیں ہو سکتی، ایسے میں اگر5میچز کھیلنے کا ایک موقع مل گیا تو اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے، آئندہ چند برس تک کسی بھی بڑی ٹیم کے پاکستان آنے کا امکان دکھائی نہیں دیتا، گوکہ بھارت نیوٹرل مقامات پر نہیں کھیلتا لیکن ممکن ہے مستقبل میں تیار ہو جائے، یو اے ای پر بی سی سی آئی غیراعلانیہ پابندی عائد کر چکا، ایسے میں انگلینڈ جیسے کسی ملک میں باآسانی مکمل سیریز کا انعقاد کیا جا سکتا ہے، یہ سیریز دوستی کی بلند عمارت تعمیر کرنے میں پہلی اینٹ ثابت ہو گی آہستہ آہستہ اعتماد کا رشتہ بحال ہوا تو انا پرستی ختم ہوتی جائے گی یوں کئی دیگر سیریز کی راہ ہموار ہوں گی۔

پاک بھارت سیریز سمیت آئی سی ایل اور آئی پی ایل کی کوریج کیلیے میں4 مرتبہ بھارت جا چکا، وہاں شائقین کا جوش وخروش دیدنی ہوتا ہے، اس بار بھی عوام بے چینی سے مقابلوں کے منتظر ہیں، پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ پڑوسی ملک میں ہمارے کھلاڑی بھی سچن ٹنڈولکر اور یوراج سنگھ جتنے ہی مقبول ہیں،لوگ قطار بناکر ان سے آٹوگراف لیتے دکھائی دیتے اور مشہور فلمی شخصیات ملاقات کرنا چاہتی ہیں، ماضی میں بھی جب دونوں ممالک کے میچز ہوئے تو عوامی تعلقات میں بھی بہتری آئی یقیناً اس بار بھی ایسا ہی ہوگا، کئی بار ایسا بھی ہوا کہ پاکستان سے گئے ہوئے شائقین کو بھارتی شہریوں نے اپنے گھروں میں مفت رہائش فراہم کی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کرکٹ کے ذریعے تعلقات میں کس قدر بہتری لانا ممکن ہوگا، دونوں ملک کئی جنگیں لڑ چکے اب امن سے رہنا چاہیے،کرکٹ میں بھی جنگ جیسا ماحول اسی وقت ختم ہو گا جب متواتر سے سیریز ہوں، بھارت کی جانب سے 5 ہزار شائقین کو ویزے دینے کا اعلان کیاگیا ہے، اگر اس پر عمل ہوا تو یقیناً ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ دیکھنے سے محروم پاکستانیوں کو بہترین مقابلے سٹیڈیم جا کر دیکھنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔

پاکستانی ٹیم کے دورئہ بھارت پر جہاں لاکھوں لوگ بیحد خوش ہیں وہیں بعض انتہا پسند بھارتیوں سے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی، شیوسینا جیسی تنظیموں نے اس پر سیاست چمکانا شروع کر دی ہے، ایک عام پاکستانی شائد ہی کسی بھارتی سیاسی تنظیم یا اس کے کسی لیڈر کا نام جانتا ہوں لیکن شیوسینا اور بال ٹھاکرے سے سب بخوبی واقف ہیں، انھوں نے شہرت ہی کرکٹ سے حاصل کی، ماضی میں سٹیڈیم کی پچ خراب کرنے سے شیوسینا کو انٹرنیشنل پبلسٹی ملی ، اس کے بعد بال ٹھاکرے نے جان لیا کہ پاکستانی ٹیم کی مخالفت کر کے بھرپور میڈیا کوریج مل سکتی ہے، اس بار بھی یہی کیا گیااور سیریز کیخلاف بیانات دے کر شیوسینا نے شہ سرخیوں میں جگہ بنا لی، ایک آدھ جگہ پاکستانی ٹیم کا پتلا بھی نذرآتش کیا گیا،اس سب حرکتوں کے ذریعے کوشش ہو رہی ہے کہ کسی طرح سیریز منسوخ کرا دی جائے مگر بھارتی حکومت اور بورڈ بھی ان ہتھکنڈوں سے واقف اور ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کیلیے پُرعزم ہے۔

پاکستانی کرکٹرز بھی پڑوسی ملک جانے کیلیے بے چین نظر آتے ہیں، گذشتہ دنوں میری ون ڈے کپتان مصباح الحق سے تفصیلی بات چیت ہوئی، ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ بھارت میں ہمیشہ پیار ملا اس بار بھی امن کا پیغام لے کر وہاں جائیں گے، دیگر کھلاڑی بھی بخوبی واقف ہیں کہ سیریز میں اچھا کھیل پیش کرکے راتوں رات ہیرو بن سکتے ہیں، اس لیے سب فتح کیلیے جان لڑا دیں گے۔ بھارت میں آن دی فیلڈ تو پاکستانی ٹیم کو لڑنا ہے اسی کے ساتھ آف دی فیلڈ بھی خاصا محتاط رہنا ہو گا، ان دنوں بھارتی صحافیوں کو سٹنگ آپریشنز کرنے کا بہت شوق ہے، کرکٹرز کو پرستاروں سے بھی محتاط ہو کر ملنا پڑے گا، ان کی کوئی معمولی سی غلطی بھی ملک کو بدنام کر سکتی ہے لہذا بہت خیال رکھنا پڑے گا، گوکہ پی سی بی تاحال اعلان نہیں کیا تاہم ایسا ہی لگتا ہے کہ نوید اکرم چیمہ کو منیجر برقرار رکھا جائے، ان پر ٹور کے دوران خاصی ذمہ داری عائد ہو گی۔


دورئہ بھارت کیلیے سلیکٹرز آئندہ ماہ کے اوائل میں ٹیم منتخب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ میں کئی پلیئرز کی ناقص کارکردگی کے بعد ان پر بھی اب خاصا دبائو ہو گا، اگر آئوٹ آف فارم سینئرز کو منتخب کیا تو اس پر شور مچ جائے گا اور نہیں کیا تو نوآموز پلیئرز کے ساتھ بھارت سے ٹکرانے کا خطرہ مول لینا پڑے گا، سلیکشن کمیٹی کی مشکل پی سی بی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کرا کے آسان بنا سکتا ہے۔ شاہدآفریدی، شعیب ملک اور عبدالرزاق نے اگر اس میں اچھا پرفارم کیا تو ان کے انتخاب کا ایک جواز بن جائے گا، ٹور کیلیے سکواڈ میں سینئر بیٹسمین یونس خان کی واپسی کی بھی باتیں ہو رہی ہیں، ان کا تجربہ اہم سیریز میں پاکستان کے کام آ سکتا ہے، البتہ سب سے بڑا مسئلہ وکٹ کیپر کے انتخاب کا ہو گا، کامران اکمل کم بیک کے بعد متاثر کن کھیل پیش کرنے میں ناکام رہے، متبادل وکٹ کیپرز بھی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل نہیں ہیں، ایسے میں سلیکٹرز کے پاس محدود آپشنز باقی رہ گئے ہیں۔

پاک بھارت سیریز کی بحالی کے بعد چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف اب پریمیئر لیگ کرانے کیلیے سرگرم نظر آتے ہیں،اعجاز بٹ کے دور میں بورڈ پر جو جمود طاری تھا وہ اب ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے، ذکا اشرف کھیل کی ترقی کیلیے کوشاں اور خاصے فعال بھی ہیں،گذشتہ دنوں سندھ کے وزیرکھیل ڈاکٹر محمد علی شاہ نے انٹرنیشنل ورلڈالیون کے دو میچز کرا کے بورڈ کو دبائو کا شکار کر دیا ہے، اب یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ جب وہ مقابلوں کا انعقادکرا سکتے ہیں تو پی سی بی کیوں نہیں کرتا، ڈاکٹر شاہ نے انتہائی علالت کے باوجود عمدگی سے دو نمائشی میچز کا اہتمام کیا، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر خدانخواستہ اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو جاتا تو اس سے پاکستان مزید کئی برس تک انٹرنیشنل ٹیموں کیلیے نوگو ایریا بنا رہتا،اسی لیے پی سی بی نے نمائشی میچز کی نہ کھل کر حمایت کی نہ مخالفت۔

بہرحال میچز کے انعقاد سے یقیناً بورڈ کو بھی مدد ملے گی وہ کسی تو بلاتے ہوئے انٹرنیشنل ورلڈالیون کے میچز کی مثال دے سکتا ہے، گوکہ بنگلہ دیش اب بھی سبز باغ دکھا رہا ہے مگرایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں اس کی ٹیم پاکستان آئے، ایسے میں پی پی ایل ہی واحد ایونٹ ہے جس سے سونے میدان آباد ہو سکتے ہیں، پی سی بی نے سری لنکن لیگ کیلیے اپنی تقریباً پوری ٹیم ریلیز کر دی تھی، دونوں بورڈز کے درمیان اب تو اس حوالے سے معاہدہ بھی ہو چکا ہے، اسی طرح ٹیسٹ سٹیٹس دلانے کے بعد بنگلہ دیش پر پاکستان نے دوسرا احسان مصطفیٰ کمال کو آئی سی سی کا نائب صدر بنا کر کیا، بھارت میں ہماری ٹیم کھیل کر بی سی سی آئی کے خزانوں کو بھر دے گی، اب جواب میں ان تینوں بورڈز کو بھی اپنے پلیئرز ہماری لیگ کیلیے ریلیز کرنے چاہئیں، ورنہ پی سی بی کب تک ایک ہاتھ سے تالی بجانے کی کوشش کرتے رہے گا۔

پاکستانی ٹیم کیلیے ان دنوں بیٹنگ کوچ کی تلاش جاری ہے، اس پوسٹ کیلیے بورڈ کو کئی درخواستیں موصول ہو چکیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ظہیرعباس سمیت کئی عظیم پلیئرز بھی ذمہ داری سنبھالنے کیلیے کوشاں نظر آتے ہیں،ایشین بریڈمین تو خیر پہلے چیف کوچ بننے کی بھی خواہش ظاہر کر چکے جبکہ انھوں نے چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سنبھالنے کیلیے بھی ''خدمات'' پیش کی تھیں، دیگر کئی سابق کرکٹرز نے بھی درخواستیں دی ہیں، نجانے ڈیوواٹمور کے ساتھ یہ لوگ کیسے کام کریں گے، حقیقت ہے کہ بھاری معاوضے کے سامنے سارے اصول دھرے رہ جاتے ہیں، اگر ابھی پی سی بی اعلان کر دے کہ کوچ کو کوئی رقم نہیں دی جائے گی تب دیکھتے ہیں کتنی درخواستیں ملتی ہیں، اب بورڈ مشکل میں پڑ چکا جسے عہدہ نہ سونپا وہ سرفراز نواز کی طرح ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جائے گا، ایسے میں فی الحال بیٹنگ کوچ کا تقرر نہ کرنا ہی بہتر رہے گا۔

البتہ مختصر کیمپ لگا کر سابق سٹارز کو کوچنگ کا شوق پورا کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔ پی سی بی نے بیٹنگ کوچ کی تلاش کیلیے جو اشتہار دیا اس میں لیول تھری سمیت ماضی میں انٹرنیشنل کوچنگ کا تجربہ ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا تھا، اس سے پہلے بولنگ کوچ کیلیے بھی سخت شرائط رکھی گئیں اور پھر تقرر محمد اکرم کا ہو گیا، ایسے کام کر کے پی سی بی خود اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال رہا ہے، ایک بار اگر اہلیت کا معیار مقرر کر لیا جائے تو پھر چاہے کسی کی بھی سفارش آ جائے اسے قبول نہیں کرنا چاہیے، اگر کسی سفارشی کا تقرر کرنا ہے تو پھر اشتہار کا ڈرامہ نہیں رچانا چاہیے، دیکھتے ہیں اب کیا ہوتا ہے۔

سٹار بیٹسمین محمد یوسف ان دنوں قومی ٹیم میں واپسی کیلیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، سلیکشن کمیٹی نے انھیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا مشورہ دیا، پریذیڈنٹ ٹرافی سے قبل انھوں نے کسی ٹیم سے معاہدہ کرنا مناسب نہ سمجھا البتہ درمیان میں پورٹ قاسم اتھارٹی کو جوائن کرنے کا خیال آ گیا، پی سی بی قوانین کو جواز بنا کر انھیں کھیلنے کی اجازت دینے سے گریزاں ہے، پی کیو اے کے کوچ راشد لطیف کا گلہ جائز ہے کہ کئی روز گذرنے کے باوجود بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے نگراں جاوید میانداد نے انھیں جواب دینے کی بھی زحمت نہ کی، میاندادکو جب ماضی میں سائیڈ لائن کیا گیا تو وہ اکثر بورڈ حکام کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے اب اقتدار میں آ کر وہ ویسی ہی غلطیاں دہرا رہے ہیں، جواب ہاں میں ہے یا ناں دینا ضرور چاہیے، ویسے بھی کئی معاملات میں قوانین پر عمل نہیں ہو رہا، یوسف کو کھیلنے کی اجازت دینے سے بھی کون سی تباہی آ جائے گی، وہ عظیم کھلاڑی اور بورڈ کی جانب سے اچھے سلوک کے مستحق ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story